بھارتی پالیسیز خطے کے امن کیلئے خطرہ ہیں

وزیراعظم عمران خان نے ایک مرتبہ پھر خطے کی سالمیت اور سکیورٹی کے حوالے سے اپنے خدشات کو دہرایا ہے جب کہ بھارت میں موجود پاکستانی ہائی کمیشن کے 2 اہلکاروں کو جاسوسی کا الزام لگا کر وطن واپس بھیج دیا گیا جس سے دونوں جوہری ریاستوں کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہورہا ہے۔
دفتر وزیراعظم سے جاری بیان کے مطابق عمران خان نے اطالوی ہم منصب گوئیسپ کونٹے سے ٹیلی فون کال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت کی پالسیز سنگین طور پر جنوبی ایشیا کے امن اور استحکام کےلیے خطرہ بن رہی ہیں۔ وزیراعظم نے مقبوضہ کشمیر میں ‘دہرے لاک ڈاؤن‘ کے تسلسل، قابض فوج کی جانب سے فوجی کریک ڈاؤن میں شدت اور ڈومیسائل قانون میں تبدیلی پر سخت تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور چوتھے جنیوا کنویشن سمیت بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ وادی میں آبادی کے ڈھانچے میں تبدیلی کررہا ہے۔
وزیر اعظم نے اطالوی وزیر اعظم کو ترقی پذیر ممالک کےلئے ’قرضوں میں ریلیف سے متعلق عالمی اقدام‘ کے بارے میں بھی آگاہ کیا اور کہا کہ معیشتوں کو مستحکم کرنے کیلئے جامع پلان آف ایکشن وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
خیال رہے کہ اتوار کے روز بھارت نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے دو سفارتی اہلکاروں پر ’جاسوسی میں ملوث‘ ہونے کا الزام لگاتے ہوئے تھے 24 گھنٹے کے اندر ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔ ان اہلکاروں میں 42 سالہ عابد حسین جو پاکستانی مشن میں اسسٹنٹ ہیں وہ اور محمد طاہر خان نامی کلرک شامل ہیں جن کی عمر 44 برس ہے۔
بھارتی وزارت خارجہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا تھا کہ انہیں ’بھارتی قانون نافذ کرنے والے حکام نے جاسوسی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر پکڑا‘۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ان اہلکاروں پر ایک مقامی شخص سے بھارتی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ سے متعلق دستاویزات لینے کا الزام ہے۔ نئی دہلی کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا کہ حکومت نے دونوں پاکستانی سفارتی عملے کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے جو ’سفارتی آداب کے خلاف کارروائیوں‘ میں ملوث تھے۔
علاوہ ازیں بھارتی پریس ریلیز میں کہا گیا کہ پاکستانی ہائی کمیشن سے بھارت کی قومی سلامتی کے خلاف ان عہدیداروں کی سرگرمیوں کے سلسلے میں سخت احتجاج بھی درج کرایا گیا‘۔
