بھٹو کے چھوٹے بیٹے میر شاہنواز بھٹو کو کس نے مارا؟

ذوالفقار علی بھٹو کے سب سے چھوٹے بیٹے 27 سالہ شاہنواز بھٹو کی فرانس میں پراسرار موت 35 برس گزرنے کے بعد بھی ایک معمہ ہے۔ بھٹو خاندان مختلف سیاسی تنازعات، قومی معاملات اور گوناگوں بیانات کے باعث ابتدا ہی سے پاکستان کی قومی سیاست میں ایک اہم اور بااثر خاندان سمجھا جاتا ہے تاہم اِس خاندان میں غیر فطری اموات ہمیشہ سے قابلِ تشویش رہیں۔ ملک کے پہلے منتخب وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی بیٹی بے نظیر بھٹو شہید کہلائے کیونکہ اوّل الذکر کی جان ایک فوجی آمر نے لی جبکہ آخر الذکر کی جان ایک اور فوجی آمر کے باعث گئی۔ تاہم ذوالفقار علی بھٹو کے دونوں بیٹوں میر مرتضی بھٹو اور میر شاہنواز بھٹو کو بھی طبعی موت نصیب نہ ہوسکی۔
ذوالفقار علی بھٹو کے 4 اپریل 1979ء کے عدالتی قتل کے بعد 18جولائی 1985ء کو شاہنواز بھٹو کی پراسرار موت بھٹو خاندان کے لئے دوسرا بہت بڑا سانحہ تھا کیونکہ شاہنواز اپنی والدہ بیگم نصرت بھٹو اور ہمشیرہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے بہت قریب تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو اپنے بیٹے شاہنواز سے بے حد پیار کرتے تھے۔ بھٹو نے اپنے عدالتی قتل سے قبل یہ وصیت کی کہ ان کی یادگار قیمتی گھڑی ان کے سب سے چھوٹے بیٹے کو دی جائے۔ بھٹو صاحب کی آخری نشانی شاہنواز کو لندن پہنچا دی گئی تھی۔ پاکستان کے سابق صدر اور وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی ایرانی کردش نژاد اہلیہ نصرت بھٹو کے ہاں شاہنواز بھٹو کی پیدائش 21 نومبر 1958ء کو ہوئی۔ پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی 4 اولادیں تھیں جن میں سے شاہنواز بھٹو سب سے چھوٹے تھے۔ بھٹو نے اپنے بیٹے شاہنواز کو ایچی سن کالج لاہور اور راولپنڈی امریکن سکول سے تعلیم دلوائی۔
شاہنواز بھٹو نے 1976ء میں گریجویشن مکمل کی جس کے بعد انہیں اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے برطانیہ بھیج دیا گیا۔ ابھی شاہنواز بھٹو زیرِ تعلیم ہی تھے کہ فوجی آمر ضیاء الحق نے 1979ء میں ذوالفقار علی بھٹو کو شہید کر دیا۔ تعلیم کی غرض سے بیرون ملک مقیم شاہنواز بھٹو اپنے بڑے بھائی مرتضیٰ بھٹو کے ساتھ مل کر عالمی سطح پر ضیا الحق کے خلاف مہم چلا رہے تھے تاہم یہ مہم بے سود ثابت ہوئی اور ذوالفقار علی بھٹو کی زندگی نہ بچائی جاسکی۔ اپنے والد کی شہادت کی خبر ملتے ہی شاہنواز بھٹو اور مرتضیٰ بھٹو لندن میں واقع اپنے فلیٹ سے باہر آئے اور پاکستان میں قائم عسکری حکومت کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ دونوں بھائیوں نے عالمی میڈیا کے سامنے بیان دیا کہ ضیاء الحق نے 2 سال تک ہمارے والد کو تشدد کا نشانہ بنایا اور ان کی شناخت کو ختم کرنے کی مذموم کوشش کی اور بالآخر ان کی جان لے لی۔
کہا جاتا ہے کہ شاہنواز بھٹو بہت خوبصورت نوجوان تھے۔ بھٹو صاحب کی طرح ان کا رومانس بھی عوام کے ساتھ تھا، جمہوری حقوق کے لئے ان میں دیوانہ وار جذبہ تھا۔ انہوں نے جنرل ضیاء کے مارشل لاء کے خلاف اپنے انداز میں جدوجہد کی۔ اس سلسلے میں انہوں نے تین ماہ تک بیروت میں گوریلا تربیت بھی لی۔ سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو بھی شاہنواز سے بہت پیار کرتی تھیں لیکن شاہنواز کی موت کے صدمہ نے ان میں ایک نیا حوصلہ اور قوت پیدا کردی تھی۔ مارشل لاء کے فوراً بعد جب ذوالفقار علی بھٹو زیرحراست تھے تو بیگم نصرت بھٹو نے بے نظیر اور شاہنواز کو بطور خاص لاہور بھیجا تھا تاکہ وہ کارکنوں کا حوصلہ اور ہمت بڑھا سکیں۔ 18جولائی 1985ء کو ذوالفقار علی بھٹو کے چھوٹے صاحبزادے شاہنواز بھٹو فرانس کے ساحلی شہر کینز میں اپنے فلیٹ میں مردہ پائے گئے۔ شاہنواز بھٹو کی عمر 27 سال تھی اور وہ ستمبر 1977ء میں اپنے والد کی گرفتاری کے بعد اپنے والد کی ہدایت پر لندن چلے گئے تھے۔انہوں نے اپنے والد کی پھانسی کے بعد اپنے بھائی میر مرتضیٰ بھٹو کے ساتھ مبینہ طور پر ایک مسلح تنظیم الذوالفقار کی بنیاد رکھی تھی جس بعد میں دہشت گرد قرار دے کر پابندی لگا دی گئی۔
یاد رہے کہ شاہنواز بھٹو اور میر مرتضیٰ بھٹو نے جلاوطنی کے ہی زمانے میں اکتوبر 1981ء افغان وزارت خارجہ کے ایک اعلیٰ افسر فصیح الدین کی بیٹیوں ریحانہ اور فوزیہ سے شادی کی تھی۔ ریحانہ نے ایک بیٹی سسی بھٹو اور فوزیہ نے فاطمہ بھٹو کو جنم دیا۔ شاہنواز بھٹو اپنی اہلیہ ریحانہ کے ہمراہ فرانس کے ساحلی شہر نیس میں ایک خوبصورت فلیٹ میں مقیم تھے۔ عام خیال ہے کہ ان کے اپنی بیوی سے تعلقات کشیدہ انتہائی تھے۔18 جولائی 1985ء کی شام وہ اپنے فلیٹ میں مردہ پائے گئے۔ کہا جاتا یے کہ ان کا انتقال ایک سریع الاثر زہر کے استعمال سے ہوا ۔ شاہنواز بھٹو کی لاش کو فرانسیسی حکام نے اپنی تحویل میں لے لیا اور کوئی ایک ماہ بعد ان کے ورثا کے حوالے کیا۔21 اگست 1985ء کو محترمہ بے نظیر بھٹو اپنے بھائی کی میت لے کر پاکستان آئیں جہاں ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں شاہنواز بھٹو کو ان کے والد کے پہلو میں دفن کردیا گیا۔ فرانسیسی حکام نے شاہنواز بھٹو کے مبینہ قتل کے الزام میں ان کی اہلیہ ریحانہ کو حراست میں لیا تھا مگر وہ اور ان کے وکلا یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہوگئے کہ شاہنواز کو قتل نہیں کیا گیا بلکہ انہوں نے خودکشی کی ہے۔ بعد ازاں مختلف سوال و جواب پوچھ گچھ کے بعد ریحانہ کو سفر کی اجازت دے دی گئی اور کچھ ہی عرصے بعد وہ بیٹی سسی بھٹو کے ہمراہ امریکا منتقل ہو گئیں۔
دوسری جانب پاکستانی میڈیا کا شاہنواز بھٹو کے قتل پر ردِ عمل بالکل مختلف تھا۔جنرل ضیاء الحق کے زیرِ اثر پاکستانی میڈیا یہ راگ الاپتا رہا کہ شاہنواز بھٹو کی وفات منشیات اور شراب کے استعمال کے باعث ہوئی، تاہم یہ حقیقت نہیں ہے۔ بعض لوگوں کے نزدیک الذوالفقار اُن دنوں ضیاء الحق حکومت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے درپے تھی، اِس لیے عین ممکن ہے کہ شاہنواز کے قتل کے پیچھے سرکاری ہاتھ بھی ملوث رہا ہو، تاہم یہ بات بھی کسی سطح پر کبھی ثابت نہ ہوسکی۔آج کل شاہنواز بھٹو کی بیٹی سسی بھٹو اپنی والدہ کے ہمراہ امریکا میں رہائش پذیر ہیں۔الزام ثابت نہ ہونے کے باوجود مرتضیٰ بھٹو کو اپنے چھوٹے بھائی کی المناک موت کا بے حد رنج تھا۔ شاہنواز بھٹو اور مرتضیٰ بھٹو نے دو سگی بہنوں سے شادی کی تھی تاہم شاہنواز کی وفات کے بعد مرتضہ بھٹو نے اپنی بیوی فوزیہ کو طلاق دے دی تھی اور 1989 میں لبنان سے تعلق رکھنے والی غنوی سے دوسری شادی کرلی۔
مرتے دم تک بے نظیر بھٹو کا یہی موقف رہا کہ شاہنواز خودکشی کرہی نہیں سکتے، انہیں زہر دے کر قتل کیا گیا ہے۔ بے نظیر بھٹو کا دعویٰ تھا کہ ان کے بھائی کو یہ زہر یا تو ریحانہ نے دیا تھا یا پھر یہ شاہنواز کے ہاتھوں تنگ آئے ہوئے پاکستان کے فوجی آمر کے گماشتوں کی حرکت تھی۔
فوزیہ سے بطن سے جنم لینے وایلی مرتضی بھٹو کی بیٹی فاطمہ بھٹو اپنی انگریزی کتاب سانگز آف بلڈ اینڈ سورڈ یا لہو اور تلوار کے گیت میں اپنے جواں سال چچا شاہنواز بھٹو کی المناک موت کا ذکر کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ اس وقت میری عمر صرف تین برس تھی اور میں شام کے دارالحکومت دمشق سے اپنے والدین کے ہمراہ فرانس کے شہر نِس میں شاہنواز بھٹو کے ہاں ٹھہری ہوئی تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی پر چڑھائے جانے کے بعد سارا بھٹو خاندان فرانس میں اکٹھا ہوا تھا۔ وہ لکھتی ہیں کہ جب بھٹو خاندان ساحل سمندر پر باربی کیو کے بعد رات گیارہ بجے فلیٹ پر پہنچا تو شاہنواز بھٹو اور ان کی افغان بیوی ریحانہ میں کشیدگی عروج کو پہنچ چکی تھی۔ ریحانہ کی ناراضی اتنی بڑھی کہ اس نے میرے والد میر مرتضیٰ بھٹو سمیت ہمارے پورے خاندان کو فوراً فلیٹ سے نکل جانے کا مطالبہ کیا اورپھر فلیٹ سے نکال کر ہی دم لیا اور پھر اسی رات شاہنواز بھٹو وفات پا گئے۔ فاطمہ بھٹو لکھتی ہیں کہ شاہنواز بھٹو کے پاس ایسی پینٹراکس زہر بھی موجود تھی جو انہیں مسلح جہدوجہد کی تربیت دینے والوں نے دی تھی تاکہ وہ جنرل ضیاالحق کے چنگل میں جانے کی ذلت سے بچنے کے لیے خود کو ہلاک کر لیں۔ فاطمہ بھٹو لکھتی ہیں کہ ان کے والد میر مرتضیٰ بھٹو یہ ماننے کے لیے تیار نہیں تھے کہ ان کے چھوٹے بھائی شاہنواز بھٹو نے خود کشی کی ہے کیونکہ وہ ایک کامیاب، دلیر اور معاشی طور پر آسودہ شخص تھا۔
بینظیر بھٹو کے انتہائی قریبی سمجھے جانے والے بشیر ریاض کے بقول بیگم بھٹو اپنے خاندان کے ہمراہ تعطیلات منانے کے لئے جنوبی فرانس میں تھیں۔ بینطیر کے بھائی مرتضیٰ بھٹو، ان کی بیوی فوزیہ اور بیٹی فاطمہ بھٹو جبکہ چھوٹے بھائی شاہنواز بھٹو بھی اپنی بیوی ریحانہ اور بیٹی سسی بھٹو کے ساتھ اپنی ہمشیرہ بے نظیربھٹو کے منتظر تھے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو شیڈول کے مطابق 11جولائی کو جانے والی تھیں لیکن لندن میں بعض اہم مصروفیات اور ملاقاتوں کی وجہ سے وہ نہ جاسکیں اور 16جولائی کو لندن سے فرانس کے شہر نیس پہنچ گئیں۔ انہوں نے اپنے بھائیوں اور ان کے بچوں کے ہمراہ دو دن خوشی سے گزارے لیکن بدقسمتی ان کے تعاقب میں تھی اور رات دیر گئے شاہنواز ان کو شب بخیر کہہ کر اپنے فلیٹ میں آگئے۔ جہاں 18جولائی کو وہ پراسرار طور پر مردہ پائے گئے اور ان کی بیوی اس وقت وہاں موجود تھی جسے پولیس نے فرانسیسی قانون کے مطابق زیرحراست لے لیا کہ اس نے ایک دم توڑتے ہوئے شخص کی مدد نہ کی۔ دوسری جانب پوری بھٹو فیملی کو یہ یقین تھا کہ شاہنواز کی موت کی ذمہ دار ان کی بیوی ریحانہ ہے۔ چنانچہ مرتضیٰ نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اپنی افغان بیوی فوزیہ کو طلاق دیدی کہ ان کے بھائی کی موت میں فوزیہ کی بہن ریحانہ کا ہاتھ ہے۔ اس طرح فیملی ہالیڈے ایک عظیم المیے میں بدل گئی ۔بالآخر فرنچ حکام نے 20اگست 1985ء کو میت ریلیز کی اور بی بی 22اگست کو اپنے بھائی کو واپس لاڑکانہ لائیں۔ المرتضیٰ میں غسل دیا گیا اور جنازہ کے بعد آبائی قبرستان گڑھی خدا بخش میں اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو کے پہلو میں سپردخاک کردیا۔ میت کے ہمراہ ان کی ہمشیرہ صنم بھٹو آئیں۔دونوں بہنیں غم کی تصویر تھیں اور انہوں نے بڑی حوصلہ مندی سے اپنے جواں سال بھائی کے غم کا صدمہ برداشت کیا۔لاڑکانہ میں اس وقت بے پناہ ہجوم تھا حالانکہ جنرل ضیاء نے لاڑکانہ جانے والے راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کردی تھیں۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا بھی یہی موقف ہے کہ ملک میں بحالیِ جمہوریت کے لیے جاری عوامی جدوجہد میں بھٹو خاندان کی جانب سے بھرپور قائدانہ کردار ادا کرنے کی پاداش میں شاہنواز بھٹو کو گہری سازش کے تحت شہید کیا گیا تھا۔ آمریتی عناصر شہید شاہنواز بھٹو کی انقلابی سوچ سے خائف اور پاکستان کے نوجوانوں میں ان کی بڑھتی مقبولیت سے خوفزدہ تھے۔ بلاول کے مطابق پاکستان کی نئی نسل کیلئے شہید شاہنواز بھٹو ایک کیس سٹڈی ہے ۔ عوام کے حقِ حاکمیت کو غضب کرنے والی قوتیں جمہوریت کی بات کرنے پر کتنی سفاک بن جاتی ہیں اور قوم کی خدمت کے جذبے سے سرشار و زرخیز ذہنوں کے مالک افراد کو کس بے دردی سے موت کے گھاٹ اتارا جاتا رہا ہے۔
