کیا عمران جمائما کی بجائے اس کی بہن سے شادی کرنا چاہتے تھے؟

عمران خان کی سابقہ اہلیہ ریحام خان نے اپنی متنازعہ کتاب میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ انکے سابقہ شوہر دراصل جمائما کو نہیں بلکہ اس کی بڑی بہن کو پسند کرتے تھے اور اسی سے شادی کرنا چاہتے تھے۔ اپنی کتاب "ریحام خان” میں کپتان کی سابقہ اہلیہ لکھتی ہیں کہ ’’عمران خان نے ایک بار مجھے بتایا کہ میں دراصل جمائما کی بڑی بہن کو پسند کرتا تھاجو اس کی سوتیلی بہن تھی۔ میری ان کے باپ کے ساتھ بھی دوستی تھی۔ تاہم نوجوان جمائما خان مجھ سے اس قدر محبت کرتی تھی کہ ایک بار میں نے جمائما کے بھائی زیک کو پاکستان کے سالٹ لیک ریجن میں چھٹی گزارنے کی دعوت دی تو وہ بھی اس کے ساتھ چلی آئی۔ زیک اپنی گرل فرینڈ کو بھی ساتھ لایا تھا۔ ریحام کے مطابق عمران نے ہنستے ہوئے بتایا کہ وہاں پر جمائما کے خلوص نے مجھے پاگل بنا دیا۔ ہم پیدل علاقے کی سیر کو نکلے۔ راستے میں کسی غریب شخص کی جھونپڑی آئی تو جمائما نے مجھ سے کہا کہ اگر اسے میرا ساتھ مل جائے تو وہ اس طرح کی جھونپڑی میں بھی بہت خوش رہے گی۔ریحام لکھتی ہیں کہ ’’عمران خان نے مزید بتایا کہ جمائما کی ان محبت اور خلوص بھری باتوں پر میں نے سوچا کہ ایسی لڑکی جو نوجوان ہے اور اتنے خلوص کا مظاہرہ کر رہی ہے، اسے احساس بھی نہیں کہ وہ کس طرح کے عہد کر رہی ہے، اس کی محبت کا جواب نہ دینا ظلم ہو گا۔ عمران کے مطابق جمائما کا اس سے پہلے صرف ایک بوائے فرینڈ تھا۔‘‘
ریحام خان نے لکھا ہے کہ ’’میں عمران خان کی باتیں سن رہی تھی اور سوچ رہی تھی کہ وہ مجھے ہر وقت اپنے معاشقوں کے بارے میں کیوں بتاتا رہتا ہے۔ ان کا مجھ سے کیا تعلق ہے۔ اس کی باتیں مجھے میرے سابق شوہر اعجاز کی یاد دلاتی تھیں۔ وہ بھی مجھے اپنے ماضی کے بارے میں ایسی ہی باتیں بتایا کرتا تھا۔ ریحام نے کتاب میں جہاں عمران کی جنسی زندگی کو موضوعِ بنایا وہیں کپتان پر منشیات کے بکثرت استعمال کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ ریحام نے اپنے سابقہ شوہر کی نشے کی عادت کو مردانہ کمزوری کی وجہ بھی قرار دیا ہے۔ریحام نے لکھا ’جب بھی مجھے گھر میں نشے کے شواہد ملتے تو میں ناراضی کا اظہار کرتی اور عمران کی صحت کے حوالے سے فکر مندی کا اظہار کرتی۔ وہ جوابا کہتے ‘بے بی ! تم منشیات کے بارے میں جانتی ہی کتنا ہو؟ تم نے کبھی نشہ نہیں کیا، کوک کی ایک بوتل بھی ایسے ہی ہے جیسے بندہ آدھا گلاس شراب پی لے‘۔ میرے سامنے ہر بار یہی فقرہ دہرایا جاتا، بلکہ عمران میرے رد عمل کا لطف اٹھاتا تھا‘۔ ریحام نے مزید لکھا کہ جب بھی عمران نشہ کرتے تو وہ انہیں منشیات کے سائیڈ افیکٹس کے حوالے سے سمجھانے کی کوشش کرتیں کہ ان کی مردانہ کمزوری کی وجہ منشیات کا استعمال ہے ،’میری اس بات پر خان خوفزدہ ہوجاتا اور پورا دن خوفزدہ رہتا، میں نے اس کی یہ عادت چھڑانے کی بھرپور کوشش کی لیکن اس نے اپنا ہاتھ اس کام سے نہیں روکا‘۔
ریحام نے لکھا کہ اپنے سیاسی کیریئر میں بار بار کی ناکامیوں نے عمران کا حوصلہ توڑ دیا تھا، جوں جوں وقت گزرتا گیا میں نے دیکھا کہ منشیات کے استعمال میں شدت آتی جارہی ہے۔ میں کچھ نہیں کر سکتی تھی ، جو میں کر سکتی تھی وہ یہ کہ اسے منشیات کے خطرے سے آگاہ کروں، ہوسکتا ہے کہ شاید وہ کچھ ہوش مندی کا مظاہرہ کرے، لیکن اس کے باوجود نشے کی مقدار میں اضافہ ہی ہوتا چلا گیا۔ ریحام نے اپنی کتاب میں عمران کے ساتھ انتہائی خوبصورت خاتون کے دھوکے میں ایک مرد کے ساتھ جسمانی تعلق قائم کرنے کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے۔ ریحام خان نے اپنی کتاب میں لکھا ’ عمران کے میرے سامنے کیے گئے اعترافات سے ایک بات بڑی واضح ہوگئی تھی کہ یہ شخص کبھی بھی کسی بھی قسم کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا، اس نے مجھے اسی قسم کی ایک کہانی پوری تفصیل کے ساتھ سنائی، عمران نے بتایا کہ ایک رات اسے ایک انتہائی خوبصورت خاتون نظر آئی، اس نے اپنی زندگی میں اس سے زیادہ خوبصورت عورت کبھی نہیں دیکھی تھی۔ جب وہ جسمانی تعلق قائم کرنے کیلئے تیار ہوئے تو انکشاف ہوا کہ یہ تو خاتون نہیں ہے‘۔
ریحام نے لکھا کہ جب عمران پر یہ راز منکشف ہوا تو میں نے پوچھا کہ خان صاحب پھر آپ نے کیا فیصلہ کیا۔ اس پر عمران نے انتہائی سادگی سے جواب دیا کہ تب تک بہت دیر ہوچکی تھی اور رکنا ممکن نہیں تھا۔ تاہم عمران خان کے قریبی ذرائع ان تمام الزامات کی تردید کرتے ہیں اور انہیں مضحکہ خیز قرار دیتے ہیں۔
ریحام نے کتاب میں یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ عمران خان کے قریبی دوست وکی جو کہ ایک معروف برانڈ ” موبائل زون “ کے مالک تھے ،کی بنی گالہ میں ہیروئن کے زیادہ استعمال کے باعث موت ہو گئی ہے ۔ اپنی کتاب میں واقع کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ عمران کے بیٹے جب بنی گالہ سے چلے گئے تو عمران نے عون چوہدری کے ذریعے مجھے پیغامات بھجوائے کہ واپس آجائیں ،میں اس وقت اپنے نئے گھر بنی گالہ میں ” لیونڈر“ کے پودے لگانے کیلئے جدوجہد کر رہی تھی۔ گھر واپس آنے سے ایک دن قبل مجھے عون چوہدری کا فون آیا جس نے مجھے اس انتہائی خوفناک واقعے سے آگاہ کیا کہ آپ کی غیر موجودگی میں عمران کا ایک انتہائی قریبی دوست ان سے ملنے کیلئے آیا ہوا تھا اور اس دوران اس کی موت ہو گئی، میں اس بارے میں جاننے کی کوشش کی تو مجھے ایک تصویر مل گئی جس میں دس لوگ عمران
اور ذاکر کے ساتھ رات کا کھانا کھا رہے ہیں تاہم میں نے اس بات پر اس وقت تک زیادہ غور نہیں کیا جب تک میں گھر نہ پہنچ گئی ، عمران مجھے دیکھ کر خوش دکھائی دے رہے تھے لیکن وہ اس وقت کافی پریشان بھی تھے ، انہوں نے مجھے اپنے دوست کی موت کے بارے میں بھی بتایا اور اس سے ان کو پہنچنے والے دکھ اور رنج کا بھی ذکر کیا ۔میں اس وقت تک یہ واقعہ بھول چکی تھی۔
ریحام کا کہناتھا کہ وکی جو کہ انتہائی معروف برانڈ موبائل زون کے مالک تھے ،پچاس سال کے قریب اس کی عمر تھی،اور وہ عمران سے کافی عرصہ سے ملاقات کرنا چاہ رہے تھے ، آخر کار جس وقت میں گھر میں موجود نہیں تھی تو ذاکر انہیں لاہور سے اسلام آباد لے کر آئے ، عمران کے مطابق وہ تقریبا رات دس بجے پہنچے ،کھانا کھایا اور وہ اسی رات کو واپس لاہور چلے گئے ،اگلے دن تقریبا شام سات بجے وکی کے سر میں شدید درد ہوا اور اس نے اپنی اہلیہ سے ایک چائے کا کپ بنانے کیلئے کہا اور جب وہ چائے لے کر آئی تو اس نے وکی کو مرا ہوا پایا ۔ ریحام کا کہناتھا کہ عمران نے مجھے بتایا کہ وکی میرے لیے تحفہ بھی لے کر آیا تھا، میں نے تحفے کی طرف دیکھتے ہوئے عمران سے پوچھا کہ کیا وہ شرابی تھا ؟ ۔ عمران نے میری طرف گھور کر دیکھا اور پوچھا کہ تمہیں کیسے پتا ہے ؟ میں نے جواب دیا کہ یہ کتنی بڑی برف کی بالٹی ہے ، میں نے اس طرح کی بڑی بالٹی پہلے نہیں دیکھی ۔ریحام کا کہناتھا کہ عمران میرا جواب سن کر اطمینان میں آ گیا ،وہ لیٹ گیا اور ہنسے لگا ، عمران نے مجھے بتایا کہ وکی ہیروئن استعمال کرتاتھا اور اسی کی وجہ سے مسائل ہوئے ۔مجھے بہت عجیب محسوس ہوا کہ وکی اتنی دور لاہور سے آیا اور رات بھی نہیں رکا اور اس وقت جبکہ میں گھر میں بھی موجود نہیں تھی تاہم میں عمران کو دیکھ کر بہت خوش تھی اور میں نے اس بارے میں مزید نہیں سوچا لیکن کچھ روز کے بعد سینئر صحافی عمر چیمہ نے ٹویٹ کیا جس میں انہوں نے عمران کے دوست کی بنی گالہ میں ہیروئین کی اوور ڈوز کے باعث موت ہونے کی طرف اشارہ دیا تاہم انہو ں نے نام غلط لکھا تھا ۔صحافی کے خلاف پی ٹی آئی نے سوشل میڈیا پر خوب ہنگامہ برپا کیا اور عمر چیمہ نے اس پر معافی مانگی اور ٹویٹس ڈیلیٹ کی جبکہ ان کے ایڈیٹر نے بھی معذرت کی ۔ریحام کا کہناتھا کہ عمران نے اپنے دوست کی آخری رسومات میں شرکت کیلئے بھی نہیں گئے۔ تاہم عمران خان کے قریبی ذرائع ان تمام واقعات کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہیں جن کا بنیادی مقصد عمران خان کی شہرت کو داغدار کرنا ہے۔
