تبدیلی کا پوسٹ مارٹم

تحریر : ماریہ میمن
وفاقی دارالحکومت میں ایک بار پھر کچھ چینج کی خبریں گرم ہیں۔ شنید ہے کہ وفاقی کابینہ میں دوبارہ ردو بدل کا امکان ہے۔ اب یہ گزشتہ بار کی طرح میوزیکل چیئر کی طرز کی تبدیلی ہوگی جہاں صرف قلمدانوں کو آگے پیچھے کیا جائے گا یا اس بار مختلف چہرے متعارف ہوں گے؟ موجودہ تبدیلی کی تلوار غیر منتخب مشیران پر بھی گرے گی یا کچھ ناپسندیدہ منتخب پیادوں کی باری آنے کو ہے؟ اس کا فیصلہ جلد ہی قوم کے سامنے ہوگا۔
حقیقت یہ ہے کہ وہ تبدیلی جو دو سال قبل بلند و بانگ ارادوں اور وعدوں کے ساتھ لائی گئی تھی، ان دعووں نے خصوصاً نوجوان نسل میں امید، آس اور توقعات کو جنم دیا۔ اٹھارہ برس کی عمر میں پہلی بار ووٹ ڈالنے والے نوجوان اور نئے ووٹرز جنہیں تحریک انصاف کا تبدیلی کا نعرہ انتخابی اکھاڑے میں لے آیا، ان لوگوں کےلیے اس تبدیلی کے وعدے کے ساتھ ہی شروع ہوا وہ انتظار جو بدلا بے چینی میں، اور اب یہ بے چینی تشویش میں بدلنے جا رہی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت کے دو سال مکمل ہونے کو ہیں اور تبدیلی کی طرف سے دعووں اور ارادوں سے شروع ہوئی بات اب دلاسوں، حوصلوں اور مشوروں تک پہنچ گئی ہے۔ کہیں نہ گبھرانے کا دلاسہ ہے اور کہیں دوبارہ سے نئے وننگ کمبی نیشن کی کھوج کا مشورہ۔
مناسب ہوگا کہ ذرا جائزہ لیا جائے کہ تبدیلی کے فی الوقت ارادے کیا ہیں؟ کیا وہ دعوے ہوا ہو چکے ہیں اور اب باقی وقت ایسے ہی دھکوں سے گزرے گا؟ یا دوسرے ممکنہ نقطہ نظر کے مطابق امید کا دامن جلد چھوڑنا مناسب نہ ہوگا۔ پرواز کی ناہمواری کے بعد کیا تبدیلی کا ٹیک آف ہو پائے گا، جہاز اپنی مقررہ بلندی تک پہنچ جائے اس کے کتنے امکانات ہیں؟ ان دونوں موقف میں سے کسی ایک کے سچ مان لینے سے پیشتر یہ ضروری ہے کہ دیکھا جائے کہ تبدیلی کے مقاصد آخر تھے کیا؟
بنیادی طور پر تبدیلی کو نظام بدلنا تھا۔ وہ نظام سیاست جس کو احتساب کی تلوار کے ذریعے صاف ہونا تھا۔ اگلے مرحلے میں اصل اقتدار کے ثمرات مقامی اور صوبائی سطح پر عوام تک پہنچنے تھے۔ نظام انصاف اور پولیس نے عوام دوست بننا تھا۔ تبدیلی پر اعتماد سے بیرون ملک سے سرمایہ کاری کی ہوا چلنی تھی اور اندرون ملک کھڑکی توڑ ٹیکس اکٹھے ہونے تھے۔ تبدیلی کو انفراسٹرکچر کچھ خاص مرغوب نہیں تھا مگر ہیومن ڈیویلپمنٹ یعنی انسانی ترقی کے ریکارڈ ٹوٹنے تھے۔
دو برس میں تبدیلی کے دامن میں الیکٹیبلز، چینی و گندم، اسکینڈلز اور میوزیکل چیئرز کے علاوہ زیادہ کچھ ڈھونڈنا مشکل ہے۔ سیاست کا نظام جوں کا توں، جتنی توڑ پھوڑ اپوزیشن میں موجود ہے کچھ اتنی ہی تحریک انصاف کے اندر بھی دکھائی دے رہی ہے۔ گورننس میں اصلاحات پر اتنی کمیٹیاں ہیں کہ شاید ان کا حساب رکھنے کےلیے بھی ایک نئی کمیٹی بنانی پڑے۔ یہی حال صحت اور تعلیم کا ہے جو صوبائی مضمون ہونے کے بعد وزیراعلیٰ عثمان بزدار اور محمود خان کے رحم و کرم پر ہیں۔ ہاں پراپرٹی اور تعمیری شعبہ پسندیدہ ٹھہرا ہے جس میں مراعات بھی ہیں اور سہولیات بھی لیکن ابھی آن گراؤنڈ وہاں بھی کچھ خاطر خواہ نظر نہیں آ رہا۔
روزمرہ گورننس میں بھلا ہو فوج کا، کرونا میں بھی ہاتھ بٹا رہے ہیں اور ٹڈی دل سے بھی برسر پیکار ہیں۔ ابھی بارشوں اور سیلاب میں بھی ان کو کام آنا ہے۔
اپوزیشن کا تو خیر اپنا حال پتلا ہے، ان کے تلوں میں فی الحال کوئی خاص تیل نہیں ہے کہ وہ کچھ عملی طور پر کریں اور اب تو تبدیلی کے اصلی اور سچے دعوے دار بھی کچھے کچھے نظر آتے ہیں۔
اب آخری سوال یہ کہ تبدیلی کی پہلی قسط کے بعد آگے آنے والی قسطوں میں ناظرین کےلیے کیا ہے؟ یہ بات تو واضح ہے کہ طویل المدت اصلاحات کا امکان محدود بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ کوئی بھی منتخب حکومت ایسے دلیر اور بولڈ فیصلے اپنے ابتدائی دنوں میں ہی کرنے کی سکت رکھتی ہے۔ اس کے بعد روزمرہ معاملات میں ہی اتنے مسائل پیدا ہوتے ہیں یا کر دیے جاتے ہیں کہ ان میں ہی حکومت کا وقت صرف ہو جاتا ہے۔ اب تو دعووں ، وعدوں اور ارادوں کا بھی زور کم ہوتا نظر آ رہا ہے تو کیا تبدیلی کوخود تحریک انصاف اور وزیراعظم خیر باد کہہ چکے ہیں؟
گمان رکھنا چاہیے کہ ایسا نہ ہو مگر خوش گمانی کے کوئی آثار دور دور تک نہیں ہیں۔
بشکریہ: اردو نیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button