غلام سرور خان جعلی ڈگری کے باوجود وزارت پر کیسے برقرار؟

معلوم ہوا کہ وزیر شہری ہوا بازی غلام سرور خان کو جعلی ڈگری ہونے کے باوجود ان کے خلاف درج کیس میں پنجاب کے اینٹی کرپشن یونٹ نے ایک اہم ترین حکومتی شخصیت کے ایما پر بچایا ورنہ وہ آج نااہل ہو کر قومی اسمبلی اور وزارت دونوں سے فارغ ہوچکے ہوتے۔
معلوم ہوا ہے کہ پائلٹس کی جعلی ڈگریوں کا ڈھنڈورا پیٹنے والے غلام سرور خان کے خلاف جعلی ڈگری رکھنے کے الزام میں پنجاب کے اینٹی کرپشن یونٹ نے ایک تگڑا کیس تیار کر لیا تھا۔ تاہم جب اس پر عملی کارروائی شروع کی جانے لگی تو ایک اہم حکومتی شخصیت نے بروقت مداخلت کرتے ہوئے یہ احکامات جاری کیے کہ غلام سرور خان کو جانے دیا جائے۔ چنانچہ اینٹی کرپشن یونٹ نے غلام سرور خان کے حق میں مکمل یو ٹرن لے لیااور ان کے خلاف درج ایف آئی آر واپس لے کر انہیں بریت کا موقع فراہم کر دیا۔ یاد رہے کہ انکے خلاف ایف آئی آر ٹرائل کورٹ میں ڈگری منسوخ کئے جا نے کی رپورٹ داخل کرنے کے بعد دائر کی گئی تھی۔لاہور ہائی کورٹ نے غلام سرور خان کے حق میں 2017 میں جاری کردہ حکم امتناع 10 جنوری 2019 کو واپس لے لیا اور فریقین کو 11 مارچ 2019 کو حتمی دلائل دینے کو کہا ۔
29 جنوری 2019 کو ٹرائل کورٹ نے سماعت ملتوی کر تے ہوئے ریمارکس دئیے کہ ملزم آٓئندہ 28 فروری کو سماعت پر حاضر نہیں ہوا لہٰذا عدالت اس کے وارنٹ گرفتاری جاری کرے گی۔ لیکن 14 فروری کو لاہور ہائی کورٹ اور ٹرائل کورٹ دونوں نے ڈی جی اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ حسین اصغر کو غلام سرور خان کی جعلی ڈگری کیس کی ازسرنو تحقیقات کا حکم جاری کر دیا اور پھر وہی ہوا جو طے ہو چکا تھا۔ نئے انکوائری افسر نے غلام سرور خان کے خلاف کیس ختم کر دینے کی سفارش کر دی۔ ڈی جی اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ حسین اصغر نے انکوائری افسر کی سفارشات کی منظور ی دیتے ہو ئے نوٹ تحریر کیا کہ چئیرمین بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن لاہور کی جانب سے غلام سرور خان کے ڈپلومے کی تنسیخ کو لاہور ہائی کورٹ نے ایک طرف رکھدیا ہے۔ اب 34 سال بعد ازسرنو کارروائی کی ابتدا اور کسی دستاویزی ثبوت کے بغیر 44 سال بعد کسی دستاویز کو حتمی شکل دیا جا نا ایک مشق لاحاصل ہے ۔رپورٹ منظور ہو گئی اور تنسیخی رپورٹ عدالت میں داخل کر دی گئی
یاد رہے کی اس وقت غلام سرور خان وزیر پٹرولیم تھے جب کیس منسوخ ہو نے کی رپورٹ داخل کی گئی۔ تمام چاروں فورمز ٹرائل کورٹ ، الیکشن ٹریبونل ،ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں اے سی ای نے بڑی شد و مد سے غلام سرور خان کے جعلی ڈپلومے پر احتجاج کیا۔ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ سے لے کر عدالت میں حتمی چالان تک میں انہیں مورد الزام ٹھہرایا گیا لیکن پھر اچانک سب کچھ تبدیل ہو گیا حالانکہ اس سے پہلے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی رپورٹ میں جعلسازیوں کی تصدیق کی گئی تھی۔ وہ رپورٹ ٹرائل کورٹ میں زیر غور ہی نہیں آئی ۔نہ ہی ڈی جی اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے تنسیخی رپورٹ دیتے وقت اس کا ذکر ہوا۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ غلام سرور خا ن کا اعتراف ریکارڈ پر ہے کہ ریٹرننگ افسر لاہور کو داخل کردہ ان کے اسلامیہ یونیورسٹی کے ڈپلومہ میں نقائص ہیں ۔ 2002 کے عام انتخابات میں ریٹرننگ افسر کو انہوں نے نقائص پر مبنی ڈپلومہ داخل کیا ۔اس کیس کا پس منظر یہ ہے کہ یکم ستمبر 2001 کو پنجاب بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن نے غلام سرور خان کے حق میں این او سی جا ری کیا کہ وہ پولی ٹیکنیک کالج لائلپور کے طالب علم تھے جہاں سے انہیں سیریل نمبر 004597 کے تحت ڈپلومہ جاری کیا گیا ۔تاہم وہ پولی ٹیکنیک کالج لائلپور کے کبھی طالب علم نہیں رہے۔ 5 ستمبر 2001 کو ایک اور این او سی جاری ہوئی جس میں بتایا گیا کہ غلام سرور خان نے گورنمنٹ پولی ٹیکنیک انسٹی ٹیوٹ سے ڈپلومہ پاس کیا ہے ۔
2002 میں غلام سرور خان نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے بی اے امتحان میں بیٹھنے کے لئے درخواست دائر کی اسی سال انہوں نے اپنے داخلہ فارم کے ساتھ حلف نامہ داخل کیا کہ وہ پی بی ٹی ای سے ʼ1975 میں ڈپلومہ کر چکے ہیں ۔اسی ڈپلومہ کی بنیاد پر انہوں نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے بی اے کیا ۔
اسی ڈپلومے کی بنیاد پر انہوں نے 2002 کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی حلقہ 53 کے لئے کاغذات نامزدگی داخل کئے جنہیں ان کے مقابل چوہدری نثار علی خان نے چیلنج کیا ۔لیکن حیرت انگئز طور پر 2003 میں غلام سرور خان نے اچانک اپنے ڈپلومے سے لاتعلقی ظاہر کر دی ۔ اس بار وہ ایک نیا ڈپلومہ مختلف مندرجات کے ساتھ لے آئے ۔پرویز مشرف کے دور میں انہوں نے مسلم لیگ (ق) میں شمولیت اختیار کر لی چنانچہ پنجاب بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن نے انکے لیے خصوصی طور پر پرسنٹیج میں تصحیح اور رول نمبر میں تبدیلی کا این او سی جاری کر دیا۔ 2003 میں انہوں نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کو درخواست دی کہ ان ڈپلومہ رول نمبر 7830 درخواست گزار کے تعلیمی ریکارڈ میں رکھا جائے۔
2009 میں پنجاب بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن نے معاملے کی تحقیقات کے لئے تین رکنی کمیٹی قائم کی جس نے دستیاب شہادتوں کی بنیاد پر 5 دسمبر 2012 کو غلام سرور خان کے ڈپلومے کو جعلی قرار دے دیا ۔اسلامیہ یو نیورسٹی بہاولپور نے انہیں شو کاز جاری کیا۔ غلام سرور خان نے فیصلے کو چیلنج کر تے ہوئے 13 دسمبر 2012 کو رٹ پٹیشن دائر کی جس میں آرڈر کو چیلنج کیا گیا ۔ 18 جولائی 2013 کو سپریم کورٹ نے ان کے حق میں جاری الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا۔ 2015 میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کی سنڈیکیٹ نے غلام سرور خان کی ڈگری اور رزلٹ کو منسوخ کر دیا۔ لیخ 2016 میں غلام سرور خان نے لاہور کورٹ سے حکم امتناع حاصل کرلیا ۔2018 میں ٹرائل کورٹ نے غلام سرور خان کو طلب کیا ۔انہوں نے انتخابی مصروفیات کے باعث التوا کی درخوست دے دی۔ پھر 2019 میں ڈی جی اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے اس کیس کی ازسر نو تحقیقات کا حکم دیا لیکن نئے انکوائری افسر ناصر چٹھہ نے کیس ختم کر دینے کی سفارش کی اور یوں غلام سرور خان کے خلاف درج جعلی ڈگری کی ایف آئی آر واپس لے لی گئی۔
