لیاقت علی خاں کو قائداعظم کی موت کا انتظار کیوں تھا؟

پاکستانی تاریخ کے طالب علموں کے لیے اب بھی ایک سوال حل طلب ہے اور وہ یہ کہ کیا پاکستان کے پہلے وزیراعظم خان لیاقت علی خان کی بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح سے وفاداری مشکوک تھی؟
بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی رحلت جن پراسرار حالات میں ہوئی، ان کو دیکھتے ہوئے بہت سی شخصیات نے اس وقت کے وزیراعظم لیاقت علی خان پر الزام لگایا کہ ان کی بے وفائی بھی قائد کی موت کی وجہ بنی کیونکہ وہ دل میں قائد اعظم کی جلد رحلت کی خواہش رکھتے تھے۔
اس حوالے سے محترمہ فاطمہ جناح کی اپنے بھائی کی رحلت کے بعد لکھی گئی کتاب "مائی برادر” اس وقت کی سیاسی اشرافیہ کے خلاف ایک باقاعدہ چارج شیٹ کی حیثیت رکھتی تھی لیکن پہلے اس کتاب کو سینسر کردیا گیا اور بعد ازاں وہ مارکیٹ سے ہی غائب ہوگئی۔ یاد رہے کہ فاطمہ جناح کی اپنی وفات بھی پراسرار حالات میں ہوئی تھی اور یہ الزام لگایا تھا کہ انہیں قتل کیا گیا۔
حال ہی میں منظر عام پر آنے والی تاریخی دستاویزات کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ لیاقت علی خان نے قائد اعظم کی زندگی میں ہی فیصلہ سازی پر قبضے کی کوششیں شروع کر دی تھیں۔ 1948 میں جولائی کے مہینے کی 14 تاریخ کو شدید علیل قائداعظم کراچی سے کوئٹہ پہنچے۔ اسی دوران وزیراعظم لیاقت علی خان اور چودھری محمد علی انکی عیادت کیلئے کوئٹہ آئے۔ محترمہ فاطمہ جناح اپنی خودنوشت میں لکھتی ہیں کہ ان کی آمد پر میں نے قائد اعظم کو بتایا تو وہ بولے کہ یہ لوگ عیادت کرنے کیلئے نہیں بلکہ یہ دیکھنے آئے ہیں کہ میری علالت کتنی شدید ہے۔ فاطمہ جناح کے بقول انہوں نے اپنے بیمار بھائی کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں کہا کہ آپ ان سے ملاقات نہ کریں لیکن قائد نے کہا کہ میں ان سے ملنا چاہتا ہوں۔ یہ ملاقات تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہی۔ جب ملاقات ختم ہوئی تو فاطمہ جناح نے اپنے پرعزم بھائی کو پریشان اور متفکر پایا۔ انہوں نے بہن سے کہا کہ مجھے کھانے کے لئے پھل یا جوس وغیرہ دو، ساتھ ہی ان کو ہدایت کی کہ لیاقت علی خان اور چوہدری محمد علی کو کھانے کے بغیر مت جانے دینا۔
فاطمہ جناح کے مطابق کوئٹہ پہنچتے ہی دونوں نے سب سے پہلے قائد اعظم کے معالج ڈاکٹر الہیٰ بخش سے ملاقات کی۔ قائد کی بیماری اور مستقبل کے حوالے سے ڈاکٹر الہیٰ بخش نے کچھ بھی بتانے سے انکار کردیا جس سے بلاشبہ دونوں کو مایوسی ہوئی ہو گی۔ ڈاکٹر کا مؤقف تھا کہ وہ قائد اعظم کی صحت کے حوالے سے کسی بھی دوسرے شخص کو ان کی اجازت کے بغیر کوئی بات نہیں بتا سکتے۔ کہتے ہیں کہ قائد اعظم کو حکومتی امور سے باہر کرنے کا سلسلہ قیام پاکستان کے چند مہینوں بعد ہی شروع ہوگیا تھا اور ان کی صاحب فراش ہونے کے بعد تو گویا لیڈری کے خواہشمندوں کو کھلی چھٹی مل گئی تھی۔ پہلے یوم آزادی کے بعد وزیرخزانہ غلام محمد فاطمہ جناح کوملنے گئے تو انہوں نے محترمہ کو بتایا کہ اس یوم آزادی کے موقع پرقائد کےپیغام کوخاص کوریج نہیں دی گئی بلکہ وزیراعظم لیاقت علی خان کےبیان کو پوسٹرز کی صورت میں شائع کرکے دیواروں پر چسپاں کیا گیا اور جہاز سے بھی ان پوسٹرز کو پھینکا گیا۔
کہا جاتا ہے کہ بلوچستان کے صحت افزا مقام زیارت میں قیام کے بعد بھی قائد کی طبیعت میں بہتری نہ آئی اور وزن صرف 36 کلوگرام رہ گیا۔ ایسے میں فیصلہ ہوا کہ قائد کو علاج کے لئے کراچی منتقل کردیا جائے۔ بالآخر ہفتہ 11 ستمبر کو قائدکی کوئٹہ سے کراچی آمد طے ہوئی۔ ڈاکٹر الہی بخش نے ملٹری اے۔ڈی۔سی کیپٹن حسین کے ساتھ طیارے کا جائزہ لیا۔بقول الہی بخش جہاز میں موجود سیلنڈر میں آکسیجن کم تھی۔ خیر قائد کا جہاز وائی کنگ تیسرے پہر کراچی کے ماڑی پور اڈے پہنچا۔ جہاں فوجی ایمبولنس، گورنر کے ملٹری سیکرٹری،ایک ٹرک اور قائد کی نئی کیڈلک کار موجود تھی۔حیرت کی بات ہے کہ کسی اعلی شخصیت نے قائد کا استقبال نہیں کیا۔اس حوالے سے قائد کے اے۔ڈی۔سی نور حسین کے بقول قائد کا پروٹوکول نجی ہی تھا۔اسی لئے استقبال کیلئے اعلیٰ سرکاری عہدیدار نہ آئے۔ ان واقعات سے یہی تاثر ملتا ہے کہ اقتدار کے مزے لوٹنے والے اس مملکت کے بانی کو انکی زندگی میں ہی مردہ سمجھ بیٹھے تھے۔
اس کے بعد کی کہانی بھی بڑی دردناک ہے۔ کرنل الہی بخش ہوں یا فاطمہ جناح یا کوئی اور لکھنے والا سب نے یہی لکھا ہے کہ قائد کی ایمبولنس ائیرپورٹ سے واپسی کے راستے میں خراب ہوگئی۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کراچی کے نیول اور آرمی ہسپتال میں اچھی ایمبولینس ہونے کے باوجود خراب گاڑی کس نے قائد کو بھیجی تھی؟جبکہ قائد کی حالت سے سب واقف تھے۔ بہرحال ایک گھنٹے سے زائد انتظار کے بعد دوسری ایمبولینس آئی یوں شام چار بجےکا چلا ہوا قافلہ دو گھنٹے بعد گورنر ہاؤس پہنچا جہاں ڈاکٹروں نےقائد کیلئےنرس کا انتظام کرنےکا کہا مگر بد قسمتی سے ایک نرس بھی نہ مل سکی۔
یوں کراچی میں چند گھنٹے سانسیں لینے کے بعد دس بج کر پچیس منٹ پر قائد کی روح پرواز کر گئی۔ فاطمہ جناح کے بقول ان کے آخری الفاظ تھے۔۔فاطی-لاالہ الااللّہ محمدرسول اللّہ۔ 12ستمبر 1948 کو دن تین بجے قائد کا سفر آخرت شروع ہوا۔آپ کی نماز جنازہ دو بار ادا کی گئی۔پہلی نماز جنازہ آپ کے اہلخانہ اور دیگر ساتھیوں نے شیعہ عالم مولانا انیس الحسن رضوی کی امامت میں ادا کی۔دوسری دیوبندی عالم مولانا شبیر احمد عثمانی نے پڑھائی یعنی قائداعظم کا جنازہ مذہبی رواداری کا نمونہ تھا۔ اب سوال یہ ہےکہ قائد کے سفر کےآغاز سے اور اس دوران رونما ہونے والے واقعات کیا صرف اتفاقات ہیں؟ بانی پاکستان کراچی ایئرپورٹ کے راستے میں کئی گھنٹے تنہا ایک سڑک پر پڑے رہے۔ کیا ان کے عملےکو احساس نہیں تھا کسی کو اطلاع دیں؟ کرنل الہی بخش نےقائد کے ساتھ بیتےایام اوران سےجڑے ہر واقعہ کو اپنی کتاب میں محفوظ کیا۔ اس کتاب کو لیکراسمبلی میں بہت ہنگامہ ہوا۔ میاں افتخارالدین نےسخت سوالات کئے۔ یہاں تک کہ ان کی کتاب پر ہی پابندی لگادی گئی، انکی موجودہ کتاب خذف شدہ ہے۔ 1952میں حکومت پاکستان نے قائد کی سرکاری سوانح حیات لکھوانےکا فیصلہ کیا۔ اس سلسلےمیں ہیکٹر بولیتھو کی خدمات حاصل کی گئیں لیکن فاطمہ جناح نے ہیکٹرسے بھی قسم کا تعاون نہیں کیا۔ فاطمہ جناح کی اپنی کتاب۔۔مائی برادر۔۔اسی کا جواب تھی۔جو 1955 میں شائع ہوئی۔مگر اس پر پابندی لگا دی گئی۔ یہ کتاب اب سنسر شدہ ہی شائع ہوتی ہے لیکن اس کی بھی کوئی کاپی ڈھونڈنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔
تاہم یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جناح سے ان کی زندگی میں ہی بے وفائی کرنے والے لیاقت علی خان بھی ان کی وفات کے بعد زیادہ عرصہ نہ جی پائے اور قتل کر دئیے گئے۔
