تحریک انصاف فارن فنڈنگ کیس میں بری طرح پھنس گئی

غیر ملکی فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سامنے پیش ہونے والے تحریک انصاف کے مالیاتی ماہر نے اعتراف کر لیا ہے کہ پارٹی کے سینٹرل بینک اکاؤنٹس سے بھاری رقوم ان صوبائی بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں جن سے پہلے پی ٹی آئی کی قیادت نے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔ اس سے قبل پی ٹی آئی نے 15 مارچ 2022 کو الیکشن کمیشن کے سامنے پیش کی گئی اسکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ کے جواب میں دعویٰ کیا تھا کہ اس کا ان غیر مجاز اکاؤنٹس سے کوئی باضابطہ تعلق نہیں ہے۔
پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کی سماعت یکم جون کو تب دوبارہ شروع ہوئی جب چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے پی ٹی آئی کی ٹیم کو آدھا گھنٹہ تاخیر سے پیش ہونے پر تنبیہہ جاری کی۔ مارچ 2022 میں عمران خان کی جماعت نے ایک درجن کے قریب غیر مجاز بینک اکاؤنٹس سابق سپیکر اسد قیصر، سابق گورنر عمران اسماعیل اور سابق گورنر کے پی شاہ فرمان جیسے اہم رہنمائوں کی ملکیت میں کھولے اور چلائے جانے سے انکار کر دیا تھا۔ لیکن یکم جون کو پی ٹی آئی کی جانب سے پیش ہونے والے مالیاتی ماہر نے دعویٰ کیا کہ پارٹی کے صوبائی بینک اکاؤنٹس میں ملنے والے عطیات پارٹی کے سینٹرل اکاؤنٹس میں منتقل کیے گئے۔ اس پر سکندر سلطان راجہ نے حیرت کا اظہار کیا کہ کیا پی ٹی آئی تسلیم کر رہی ہے کہ اس نے کچھ اکاؤنٹس چھپائے تھے۔
پی ٹی آئی کے مالیاتی ماہر نے وضاحت کی کہ کسی کو بھی اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے پی ٹی آئی کی بینک اسٹیٹمنٹس لینے کا حق نہیں ہے۔ جب الیکشن کمیشن کے ایک رکن نے استفسار کیا کہ ان کے بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اسکروٹنی کمیٹی کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو خط لکھنے کا کوئی حق نہیں ہے تو پی ٹی آئی کے وکیل انور منصور خان نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ مالیاتی ماہر کا صرف یہ مطلب ہے کہ پی ٹی آئی کے آڈیٹرز پی ٹی آئی کے تمام اکاؤنٹس تک رسائی کے لیے اسٹیٹ بینک کو خط لکھنے کے مجاز نہیں۔ اس پر کمیشن کے رکن نے سوال کیا کہ کیا پی ٹی آئی کا فرض نہیں تھا کہ وہ پارٹی کے تمام اکاؤنٹس کی بینک اسٹیٹمنٹ آڈٹ کے لیے فراہم کرتی؟ تاہم اس سوال کا جواب نہیں دیا گیا اور خاموشی اختیار کی گئی۔
اس موقع پر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ غیر ضروری تفصیلات پیش کرنے کی بجائے سمری شیٹ پیش کرکے اور بیلنس کی تفصیل دے کر پوری پریزنٹیشن دس منٹ میں مکمل کی جا سکتی تھی۔ انہوں نے استفسار کیا کہ پی ٹی آئی کو اپنے دلائل مکمل کرنے کے لیے مزید کتنا وقت درکار ہے، جواب میں پی ٹی آئی کے وکیل انور منصور خان نے یکم جون کو اپنے دلائل مکمل کرنے کے پہلے وعدے سے مکر گئے، اس کے بجائے انہوں نے یہ سوچنے کے لیے مزید وقت مانگا کہ پی ٹی آئی کے دلائل کو ختم کرنے میں کتنا وقت لگے گا۔
سی ای سی نے پی ٹی آئی وکیل کو یاد دہانی کروائی کہ وہ یکم جون تک اپنا کیس ختم کرنے کا عہد کر چکے ہیں، وکیل نے جواب دیا کہ اس کیس کے بین الاقوامی اثرات ہیں اور اس معاملے پر پی ٹی آئی کی جانب سے دائر انٹرا کورٹ اپیل کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔
اس کے بعد سی ای سی نے پی ٹی آئی کے وکیل کو یاد دلایا کہ آئی سی اے ایک الگ کیس ہے اور ای سی پی کو پی ٹی آئی کے غیر ملکی فنڈنگ کیس کو معطل کرنے یا اس میں تاخیر جیسی کوئی رکاوٹ درپیش نہیں ہے۔
راجہ سکندر سلطان کا کہنا تھا کہ پچھلے کئی ماہ سے تحریک انصاف کے وکیل فارن فنڈنگ کیس کو لٹکاتے چلے آرہے ہیں جسے دائر ہوئے سات برس سے زیادہ گزر چکے ہیں لہذا پارٹی اپنے دلائل جلد مکمل کرے تاکہ کیس کا فیصلہ سنایا جا سکے۔ یاد رہے کہ اگر تحریک انصاف پر اکبر ایس بابر کی جانب سے غیر قانونی فنڈنگ کینے کا الزام ثابت ہو جاتا ہے تو نہ صرف بطور چئیرمین عمران بلکہ ان کے دیگر پارٹی عہدیدار بھی عوامی عہدہ رکھنے کے لیے نااہل قرار دیئے جا سکتے ہیں۔
