تحریک طالبان سے امن معاہدے کیوں نہیں چل پاتے؟

وزیراعظم عمران خان کی ہائبرڈ حکومت تحریک طالبان کے ساتھ امن معاہدہ کرنے کے لیے مذاکرات کا آغاز تو کر چکی ہے لیکن اگر ماضی پر نظر دوڑائی جائے تو واضح طور پر نظر آتا ہے کہ 85 ہزار سے زائد پاکستانیوں کی قاتل اس تنظیم کے ساتھ کیا جانے والا کوئی بھی معاہدہ زیادہ عرصہ نہیں چل پایا۔ وجہ یہ ہے کہ ماضی میں ہر معاہدے کو اپنی فتح گردانتے ہوئے تحریک طالبان نے خود کو مضبوط کرنے اور اپنا دائرہ کار بڑھانے کی کوشش کی جس کا نتیجہ ہر مرتبہ فوجی کارروائی کی صورت میں سامنے آیا۔ لہذا ریاست پاکستان اور تحریک طالبان کے مابین ہونے والی ایک ماہ کی عارضی فائر بندی کے بعد اگر کوئی باقاعدہ معاہدہ ہو بھی گیا تو اس کے زیادہ عرصہ چلنے کا امکان نہیں خصوصا جب پاکستانی طالبان یہ سمجھتے ہیں کہ وہ بھی افغان طالبان کی طرح ایک روز اسلام آباد میں برسر اقتدار آ سکتے ہیں۔ ٹی ٹی پی کی قیادت سمجھتی ہے کہ اس مرتبہ بھی اسکی دہشت گردانہ کاروائیوں نے بار بار فوجی آپریشن کرنے والی ریاست پاکستان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے۔
اگر مذاکرات کے بعد دونوں فریق امن معاہدے پر پہنچ جاتے ہیں تو یہ پاکستانی ریاست اور طالبان کا پہلا نہیں بلکہ ساتواں معاہدہ ہوگا۔ شکئی، سراروغہ اور سوات میں تین بڑے امن معاہدوں کے علاوہ ریاست نے سابق قبائلی علاقوں میں بھی مختلف عسکریت پسند گروپوں کے ساتھ کم از کم تین امن معاہدے کیے تھے لیکن پھر بھی امن قائم نہ ہو سکا اور ہر مرتبہ فوج کو دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے کوئی نہ کوئی آپریشن ہی کرنا پڑا۔ یاد ریے کہ تحریک طالبان کے خلاف آخری بڑا فوجی آپریشن جنرل راحیل شریف کے دور میں 16 دسمبر 2014 کے سانحہ پشاور آرمی پبلک سکول کے بعد شروع کیا گیا تھا جس میں معصوم بچوں سمیت 140 سے زائد افراد کو قتل کر دیا گیا تھا۔ اس آپریشن کا فیصلہ تب کے وزیراعظم نواز شریف کے دور حکومت میں پارلیمنٹ نے اتفاق رائے سے کیا اور اس حوالے سے ایک نیشنل ایکشن پلان بھی ترتیب دیا گیا تھا۔ تاہم اس نیشنل ایکشن پلان کی موجودگی میں اب عمران حکومت نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کردیا ہے لیکن پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
تاریخی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ ماضی میں بھی جب تحریک طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کا آغاز کیا گیا تو ایسا فوجی اسٹیبلشمنٹ کی خواہش پر ہی ہوا اور ہمیشہ مذاکرات بھی اسٹیبلشمنٹ کے نمائندوں نے ہی کیے۔ تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ مذاکرات میں ضامن کا کردار افغان طالبان کی حکومت ادا کر رہی ہے اور بات چیت بھی افغانستان میں ہو رہی ہے۔ سابقہ تمام معاہدے پاکستان میں ہوئے تھے اور ان میں ضامن کوئی نہیں ہوتا تھا۔
ماضی میں پاکستانی فوجی حکام نے کمانڈر نیک محمد، ٹی ٹی پی کے بانی کمانڈر بیت اللہ محسود، حافظ گل بہادر، مولانا صوفی محمد، ملا فضل اللہ، مولوی فقیر محمد اور کمانڈر منگل باغ کے ساتھ امن معاہدے کیے لیکن ان میں سے کوئی بھی معاہدہ چند ماہ سے زیادہ عرصہ تک نہیں چل پایا۔ یاد رہے کہ تحریک طالبان کی تشکیل جولائی 2007 میں اسلام آباد میں ہونے والے لال مسجد آپریشن کے بعد دسمبر 2007 میں ہوئی تھی۔
اس معاملے پر دفاعی تجزیہ کار اور سابق سیکرٹری سیکیورٹی برائے فاٹا بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) محمود شاہ کا کہنا ہے کہ طالبان کے ساتھ درجنوں مرتبہ مذاکرات اور کئی امن معاہدے ہوئے لیکن ان میں سے کوئی بھی کامیاب نہیں ہوا۔ لہذا میں اپنے موقف پر قائم ہوں کہ طالبان کے ساتھ امن معاہدے نہ تو پہلے کامیاب ہوئے ہیں اور نہ ہی اب کامیاب ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے پیچھے سیاسی مقاصد ہو سکتے ہیں ورنہ اب وہ کافی کمزور یو چکے ہیں اور انکے ساتھ بات چیت کی ضرورت نہیں تھی۔ محمود شاہ کہتے ہیں کہ اس طرح کے مذاکرات ماضی میں بھی کبھی امن نہیں لائے لیکن ہم اپنی ماضی کی غلطیوں سے سیکھنے کی بجائے انہیں دہرائے چلے جا رہے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ جب ریاست طالبان کو پہلے ہی شکست دے چکی تو پھر ہزاروں پاکستانیوں کی قاتل تنظیم کے ساتھ معاہدہ کرکے انہیں پھر سے زندہ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔
لیکن دوسری جانب سینئر صحافی اور سیکیورٹی امور کے ماہر اسماعیل خان کا کہنا ہے کہ ماضی اور موجودہ حالات میں بڑا فرق ہے۔ اس مرتبہ افغانستان میں افغان طالبان پاکستانی طالبان کو امن معاہدے پر مجبور کررہے ہیں کیونکہ وہ افغان طالبان کی پناہ میں ہیں لہذا وہ امن مذاکرات کی گارنٹی بھی دیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ماضی کے مذاکرات کی ناکامی کی بڑی وجہ غیر ملکی دہشتگرد تنظیموں کی موجودہ بھی تھی جو پاکستانی طالبان کے ساتھ مل کر دہشتگردی میں ملوث تھیں۔ اسماعیل خان نے کہا کہ مذاکرات کے لئے ملک میں سیاسی اتفاق رائے ناگزیر ہے کیونکہ معاہدے کی صورت میں تمام معاملات کو اتقاق رائے کے بغیر طے نہیں کیا جا سکتا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی طالبان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں ریاست پاکستان کے سامنے ویسے ہی مطالبات آئے ہیں جیسے کہ 2004 میں کمانڈر نیک محمد کے ساتھ مذاکرات میں آئے تھے۔ نیک محمد اور پاکستانی فوجی حکام کے درمیان پہلا امن معاہدہ شکئی میں اپریل 2004 میں طے پایا تھا۔ یہ معاہدہ مارچ 2004 میں فوجی آپریشن شروع کرنے کے بعد ہوا تھا اور اسکا مقصد نیک محمد پر جنوبی وزیرستان میں موجود القاعدہ سے تعلق رکھنے والے عرب، چیچن اور ازبکو عسکریت پسندوں کو نکالنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔
امن معاہدے کے ایک حصے کے طور پر پاکستانی حکام نے طالبان قیدیوں کو رہا کرنے اور قبائلیوں کو آپریشن میں ہونے والے نقصان کا معاوضہ ادا کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔
نیک نے غیر ملکی عسکریت پسندوں کو نکالنے اور سرحد پار افغانستان سے حملے روکنے پر اتفاق کیا تھا۔ لیکن معاہدے پر دستخط کے بعد نیک محمد نے غیر ملکی عسکریت پسندوں کو حکومت کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔ چنانچہ جون 2004 میں ایک اور فوجی آپریشن شروع کیا اور نیک محمد جون 2004 میں ایک امریکی ڈرون حملے میں مارا گیا۔ تب سے اب تک ریاست پاکستان وقتا فوقتا تحریک طالبان کے ساتھ امن مذاکرات بھی کرتی رہی ہے، معاہدے بھی کرتی رہی ہے اور آپریشن بھی کرتی رہی ہے لیکن کوئی بھی معاہدہ زیادہ عرصہ نہیں چل پایا لہذا آئندہ کے لئے بھی تحریک طالبان سے کسی اچھے کی امید رکھنا ایک دیوانے کے خواب سے زیادہ کچھ نہیں۔
