کیا فوج اب بھی سنجرانی کو بچانے آئے گی؟

اپوزیشن جماعتوں نے مقتدر حلقوں کی جانب سے نیوٹرل رہنے کی یقین دھانی کے بعد ٹیسٹ کیس کے طور پر چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے تحریک عدم اعتماد لانے کا ذہن بنایا ہے تاہم سنجرانی کے قریبی حلقے دعویٰ کر رہے ہیں کہ انہیں بچانے کے لیے فوجی اسٹیبلشمنٹ ایک بار پھر حکومت کے ساتھ ایک ہی پیج پر آ جائے گی اور ماضی کی طرح اپوزیشن ناکام ہو جائے گی۔
یاد رہے کہ پچھلی دفعہ سنجرانی مخالف عدم اعتماد کی تحریک ناکام بنانے کا الزام آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید پر عائد کیا جاتا ہے جن کا 20 نومبر کو پشاور تبادلہ ہو رہا ہے۔ عدم اعتماد کی تحریک فیض حمید کے جانے کے بعد آنے کا امکان ہے۔ ایسے میں اگر اسٹیبلشمنٹ دوبارہ سے صادق سنجرانی کو بچانے کی کوشش کرتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ آئی ایس آئی کی نئی قیادت نے بھی سیاست میں دخل اندازی سے توبہ نہیں کی اور فوجی قیادت کی بھی اپوزیشن کو نیوٹرل ہونے کی یقین دہانیاں جھوٹی ہیں۔
معروف اینکر پرسن اور صحافی عادل شاہ زیب اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کہتے ہیں کہ ن لیگ، پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر عمران خان کو چلتا کرنے اور نئے انتخابات کے لیے اپوزیشن کی ہر حکمت عملی پر عمل کرنے کو تیار ہے، لیکن نواز شریف سمیت پارٹی کی دیگر قیادت ابھی تک یہ یقین کرنے کو تیار نہیں کہ اسٹیبلشمنٹ غیر جانبدار رہے گی۔ اگرچہ، ’لائن آف کمیونی کیشن‘ کھل چکی ہے اور پیغامات بھی پاس ہو رہے ہیں۔ فاصلے بھی کم ہوتے جا رہے ہیں لیکن اعتماد کا فقدان ابھی تک جوں کا توں موجود ہے۔ اس اعتماد کو بحال کرنے کے لیے اگر کسی ایک شخص کو گھر جانا پڑے گا تو وہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی ہوں گے۔ وہ سینیٹ میں اپوزیشن کی اکثریت کے باوجود کسی جادوئی چھڑی کے سہارے عہدے پر قائم ہیں۔
ن لیگ کی قیادت سمجھتی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے غیر جانبدار ہونے کا سب سے بڑا ثبوت صادق سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد کے دوران ہی سامنے آجائے گا۔ لیکن معمہ یہ ہے کہ اگر سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد ایک دفعہ پھر ناکام ہوجاتی ہے تو اپوزیشن کے اعتماد کو ایسی ٹھیس پہنچے گی جس کی شدت آئندہ انتخابات تک محسوس ہوگی۔ تاہم یہ بھی سچ ہے کہ اگر صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوتی ہے تو یہ یقیناً عمران خان کے اقتدار کے خاتمے کا آغاز ہو سکتا ہے۔
عادل شاہ زیب کہتے ہیں کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے ایک پیج کا قصہ ختم ہونے کے بعد سے سیاسی حالات کی تبدیلی کی پیش گوئیاں تو ہو رہی تھیں، لیکن جس تیزی کے ساتھ حالات تبدیل ہوتے جا رہے ہیں، وہ حکومت وقت کے لیے انتہائی حیران کن بھی ہیں اور پریشان کن بھی۔ حکومتی اراکین اسمبلی استفسار کرتے پھر رہے ہیں کہ ہمارا کتنا وقت باقی رہ گیا ہے۔ حکومت کے لیے یقیناً چیلنجنگ حالات ہیں لیکن دوسری طرف اپوزیشن کے لیے بھی سب اچھا نہیں ہے۔ حزب اختلاف نے گذشتہ تین برسوں میں تقریباً جو بھی میچ جیتا وہ تحریک انصاف کی حکومت کی غلطیوں کی وجہ سے جیتا نہ کہ اپنی مثالی اپوزیشن سے۔ ایک طرف اگر ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے نہ ختم ہونے والے اختلافات، عمران خان کو لائف لائن فراہم کرتے رہے، تو دوسری جانب عمران خان اپنی ہی غلطیوں سے ان دونوں بڑی جماعتوں کو پھر سے قریب کرتے رہے۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ پیپلزپارٹی یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ میں باپ پارٹی کے ووٹوں سے قائد حزب اختلاف بنوانے کے بعد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ چھوڑ گئی، لیکن عمران خان کی جانب سے نئے ڈی جی آئی ایس آئی کے نوٹیفیکیشن کے معاملے کی مِس ہینڈلنگ نے ایک دفعہ پھر اپوزیشن کو یکجا کر دیا ہے۔ اس بار مولانا ہوں، بلاول یا پھر نواز شریف، ایک بات پر یکسو اور متفق ہیں کہ عمران خان پر اسی وقت ایسی کاری ضرب لگائی جاسکتی ہے کہ وہ سنبھل نہیں پائیں گے۔
عادل شاہ زیب کے بقول فوجی اسٹیبلشمنٹ کے لاڈلے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کا جانا عمران خان کے لیے بہت بڑا جھٹکا ہوگا، لیکن اپوزیشن کو یہ ذہن نشین رکھنا ہوگا کہ 20 نومبر کو جنرل فیض کی رخصتی کے بعد کیا صادق سنجرانی واقعی کمزور ہو جائیں گے، کیونکہ وزیر اعلی بلوچستان جام کمال عالیانی کو گھر بھجوانے میں اہم کردار ادا کرنے کے بعد سنجرانی کے پر اب بلوچستان تک پھیل چکے ہیں۔ عادل شاہ زیب کے بقول اپوزیشن کے بعض رہنماؤں کی خوش فہمی ہے کہ نومبر کی جادوئی تاریخ گزرنے کے بعد اپنی ’جادوئی اڑان‘ کے لیے مشہور صادق سنجرانی اڑ نہیں پائیں گے، لیکن ساتھ میں اپوزیشن کے کچھ زیرک رہنما قیادت کو خبردار بھی کر چکے ہیں کہ سنجرانی کی محبت میں ایک پیج مجبوراً دوبارہ جڑ بھی سکتا ہے۔ سنجرانی کی ایک بار پھر ’جادوئی اڑان‘ عمران خان کے اقتدار کو یقیناً دوام دے گی لیکن اس وقت خود صادق سنجرانی کو معلوم ہے کہ ان کے لیے اڑان کتنی مشکل ہو چکی ہے۔ ملکی سیاست کی اصل سمت کا تعین چیئرمین سینٹ کی اڑان کے تابع ہوگا۔
عادل شاہ زیب سمجھتے ہیں کہ بیس نومبر یعنی آئی ایس آئی چیف جنرل فیض حمید کی رخصتی کے بعد کی کہانی بلاشبہ مختلف ہوسکتی ہے اور حکومت کی اتحادی جماعتیں شدت سے یہ بات دہرانے لگیں گی کہ مہنگائی اور خراب کارکردگی کی وجہ سے ان کے اراکین اسمبلی اپنے حلقوں تک میں نہیں جاسکتے، اس لیے اب حکومت چھوڑنا ان کے لیے سیاسی بقا کا مسئلہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ماہِ نومبر میں عمومی طور پر دسمبر کی شدید سردی کا احساس ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ پاکستان کے سیاسی حالات کے عین مطابق دسمبر کی سیاسی گرمی کی ممکنہ تپش بھی نومبر کے وسط میں شروع ہوچکی ہے۔ اسی لیے کئی اینکرز اور صحافی نواز شریف کو گرانے اور عمران خان کو چڑھانے پر ابھی سے معافیاں مانگ رہے ہیں۔
