کامران شاہد نے بھی جسٹس ثاقب نثار کی کہانی سنادی

معروف اینکر پرسن کامران شاہد نے سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی ایک دلچسپ کہانی بیان کرتے ہوئے کہا کہ موصوف نے ایک روز مجھے فون کر کے پوچھا کہ یار تو فلاں خاتون کا بیٹا ہے؟ جب میں نے تصدیق کی تو بولے کہ وہ تو میری کلاس فیلو تھی اور مجھے بھائی کہتی تھی، یوں میں تیرا ماموں ہوا، لہذا کسی روز اپنی والدہ کو لے کر میری طرف آ اور مجھ سے مل۔
اپنے یوٹیوب چینل پر کامران شاہد نے اپنی زندگی کا ایک انتہائی دلچسپ واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ میں کسی کام سے راولپنڈی گیا ہوا تھا۔ اس دوران مجھے لاہور کے لینڈ لائن اور موبائل نمبروں سے بے شمار کال آئیں۔ تاہم نیند میں ہونے کی وجہ سے میں کوئی کال اٹینڈ نہیں کر سکا۔ میں جاگ کر اس نمبر پر کال کی تو وہ سپریم کورٹ کے رجسٹرار کا نمبر تھا، انہوں نے مجھے کہا کہ آپ فون کیوں نہیں اٹھا رہے، چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب آپ کو کالز پر کالز کر رہے ہیں۔ میں بڑا گھبرایا کہ چیف جسٹس مجھے کیوں کالز کر رہے ہیں؟ خیر ڈرتے ڈرتے میں نے چیف جسٹس کو کال کی تو انہوں نے پنجابی میں بات شروع کر دی اور میری والدہ کا نام لے کر کہا کہ ”توں اوڈا منڈا ایں؟ میں نے کہا ہاں جی تو انہوں نے کہا کہ تم مجھے ماموں کہا کرو، کیونکہ تمہاری والدہ اور میں ایک ہی سکول میں پڑھتے تھے۔ اس نے مجھے اپنا بھائی بنایا ہوا تھا اور میں ان کی بالکل اپنی بہنوں ہی کی طرح عزت کرتا تھا۔ پھر ثاقب نثار نے بتایا کہ تمہارے والد، یعنی مسہور اداکار کامران شاید، بھی میرے جگری یار رہے ہیں، ہم نے اکٹھے سکول لائف بڑی انجوائے کی۔ لہذا تم اپنے والدین کو کسی روز میری طرف لائو۔
کامران شاہد نے بتایا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی دعوت پر میں اپنے والدین کو فیملی کو لے کر ان کے گھر گیا تو انہوں ہماری خوب خاطر مدارت کی اور اپنے بچپن کی بہت سی یادیں تازہ کیں۔
یاد رہے کہ آجکل ثاقب نثار ایک مرتبہ پھر گلگت بلتستان کے سابق چیف جسٹس رانا شمیم کے الزامات کے بعد خبروں میں ہیں۔ رانا شمیم نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے سامنے سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ایک جج کو ٹیلی فون کرکے حکم دیا کہ آپ نے نواز شریف اور مریم نواز کر ضمانت نہیں دینی اور الیکشن تک انھیں جیل میں ہی رکھنا ہے۔ کامران شاہد نے کہا کہ بقول فواد چودھری ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ کوئی حاضر سروس جج یا چیف جسٹس کسی جج کو یوں فون کال کرکے احکامات جاری کرے۔ کامران نے کہا لیکن میں آپ کو ایسا ہی ایک واقعہ سنانے جا رہا ہوں جس کا میں خود گواہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مولوی مشتاق کے ساتھ ہمارے خاندانی مراسم تھے۔ ہمارا اکثر اوقات ان کے گھر آنا جانا رہتا تھا۔ ایک روز جب وہ ریٹائرڈ ہو چکے تھے تو میں ان کے گھر گیا، انہوں نے میرے سامنے کسی حاضر سروس جج کو احکامات دینا شروع کئے کہ آپ یہ فیصلہ فلاں آدمی کے حق میں اس طرح لکھیں گے۔ مجھے ان کی باڈی لینگوئج سے لگ رہا تھا کہ دوسری جانب فون پر موجود جج کے ہاتھ پائوں کانپ رہے تھے کیونکہ ان کا بہت رعب ودبدبہ تھا۔ ان کے بارے میں یہ مشہور تھا کہ وکلا ان کے چیمبر کے سامنے سے بھی ایڑھیوں کے بل گزرا کرتے تھے تاکہ پاوں کی چاپ سنائی نہ دے۔ ضیا دور۔میں سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینے کا فیصلہ مولوی مشتاق نے بطور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سنایا تھا۔
کامران شاہد نے اپنی زندگی کا ایسا ہی ایک اور واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایک سینئر جج تھے جو بعد میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بھی بنے۔ ان کا بھی بھٹو ٹرائل سے گہرا تعلق تھا۔ انہوں نے ایک مرتبہ ایک ڈاکٹر کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ میرے والد، میں اور میرے پھوپھا اس کے چشم دید گواہ ہیں۔ میرے پھوپھا اور والد نے اس جج سے کہا کہ آپ نے بڑا ہی غلط فیصلہ دیا ہے، انصاف کی پامالی ہوئی ہے۔ اس جرم کے تو بہت پکے ثبوت تھے، آپ نے کس طرح فیصلہ ڈاکٹر کے حق میں دے دیا؟ یہ سنتے ہی جج صاحب نے کہا کہ میں نے ڈاکٹر کے حق میں فیصلہ اس لئے دیا ہے کہ میری بیٹیاں آپریشن کے ذریعے پیدا ہوئی تھیں اور اسی ڈاکٹر نے میری اہلیہ کا ہر آپریشن کیا تھا۔ چنانچہ میں نے سوچا کہ ڈاکٹر صاحب بھلے مانس آدمی ہیں تو چلیں ان کے حق میں فیصلہ دے دیتے ہیں۔ کامران شاہد نے انکشاف کیا کہ یہ جج صاحب جسٹس نسیم حسین شاہ تھے جنہوں نے بطور چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان بھٹو کو پھانسی دینے کے فیصلے کی توثیق کی تھی۔ کامران بتاتے ہیں کہ جب میرے والد اداکار شاہد نے بھٹو کو پھانسی دینے کے فیصلے کی مذمت کی تو جسٹس نسیم حسن شاہ نے ان سے کہا کہ اگر آپ پہلے میرے پاس آ جاتے تو میں ایک بیلنسڈ فیصلہ دے دیتا۔
کامران نے بتایا کہ اس کے علاوہ ایک مرتبہ مجھے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی کال بھی آئی، وہ مشرف دور میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تھے۔ انہوں نے مجھے کہا کہ آپ مجھے سپورٹ کریں کیونکہ میڈیا میں میرے خلاف مہم چل رہی ہے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ میں آپ کو کس طرح سے سپورٹ کر سکتا ہوں تو انہوں نے کہا کہ میری جمہوریت کیلئے بہت خدمات ہیں۔ میں نے ملک میں جمہوریت کو بچایا ہے۔ میں نے حیران ہو کر ان سے پوچھا کیسے؟ تو ان کا کہنا تھا کہ یوسف رضا گیلانی کے وزیراعظم بنتے ہی مجھے پرویز مشرف نے بلا کر کہا تھا کہ میں اسمبلی توڑنے جا رہا ہوں لیکن میں نے ان کیساتھ کھڑا ہونے سے انکار کردیا لہذا وہ اسمبلیاں توڑنے سے رک گے اور یوں جمہوریت بچ گئی۔
