تحریک لبیک اور تحریک انصاف میں پیار کی پینگیں پڑ گئیں


تحریک لبیک اور تحریک انصاف کی قیادت کے مابین بڑھتے ہوئے رابطوں کے بعد اب حکومت کا یہ موقف ڈرامہ دکھائی دے رہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان لبیک کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتنا چاہتے تھے لیکن فوجی اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ پر انہیں پیچھے ہٹتے ہوئے معاہدہ کرنا پڑا.
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ علامہ خادم حسین رضوی کی پہلی برسی سے ایک روز پہلے سعد رضوی کی رہائی کے بعد حکومتی سرپرستی میں ان کے لاہور میں دو روزہ عرس کی تقریبات کا انعقاد بھی اس بات کا غماز ہے کہ دونوں جماعتیں اب ایک انتخابی انڈرسٹینڈنگ کی جانب بڑھنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ یاد رہے کہ پی ٹی آئی پنجاب کے صدر سینیٹر اعجاز چوہدری نے سعد رضوی کی رہائی کے فورا بعد ان کے ہیڈ کوارٹر جا کر ان سے ملاقات کی اور نہ صرف انہیں خیر سگالی کے طور پر پھولوں کا گلدستہ پیش کیا بلکہ ان کے والد کی مزار پر فاتحہ خوانی بھی کی۔ اس موقع پر اعجاز چوہدری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تحریک لبیک پاکستان کی واحد سیاسی جماعت ہے جس پر کوئی داغ اور دھبہ نہیں اور وہ وزیر اعظم عمران خان کی مرضی سے سعد رضوی سے ملاقات کرنے آئے ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے حکومتی ذرائع یہ دعوی کر رہے تھے کہ اپریل 2021 میں تحریک لبیک پر پابندی لگانے والے عمران خان نے لانگ مارچ شروع ہونے کے بعد ریاست کی رٹ قائم کرنے کے لیے لبیک مظاہرین کے خلاف سخت ایکشن کا فیصلہ کیا تھا لیکن قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس تجویز کی مخالفت کی اور مفاہمانہ رویہ اپنانے کی ضرورت پر زور دیا جس کے بعد ایک خفیہ معاہدہ طے پا گیا۔ تاہم دوسری جانب ناقدین کا اصرار ہے کہ حکومت کا یہ موقف ایک ڈھکوسلے کے علاوہ کچھ نہیں اور صاف نظر آرہا ہے کہ تحریک لبیک اور تحریک انصاف اپنے بریلوی کنکشن پر ایک دوسرے کے قریب آنے کی کوششوں میں مصروف ہیں جس کا بنیادی مقصد الیکشن 2018 میں اکٹھے ہوکر نواز لیگ کا مقابلہ کرنا ہے تاکہ اسے پنجاب میں برسراقتدار آنے سے روکا جا سکے۔
اسی لیے لاہور سے پی ٹی آئی کے سینیٹر اعجاز چوہدری کی سعد رضوی سی ‘خیرسگالی’ ملاقات کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ ٹی ایل پی کے ترجمان ابن اسمٰعیل نے مسجد رحمت اللعالمیں میں اعجاز چوہدری اور سعد رضوی کے مابین ہونے والی ملاقات کے حوالے سے بتایا کہ پی ٹی آئی کے سینیٹر نے تحریک لبیک کے سربراہ کو رہائی پر مبارکباد پیش کی اور گلدستہ پیش کیا۔ انکا کہنا تھا کہ حکومتی سینیٹر نے ٹی ایل پی کے بانی خادم حسین رضوری کی قبر پر بھی حاضری دی۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ٹی ایل پی ایک سیاسی جماعت یے اور سیاست میں سیاسی بات چیت کا سلسلہ ہمیشہ قائم رہتا ہے۔ دوسری جانب ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے اعجاز چوہدری نے کہا کہ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ مختلف سیاسی جماعتوں کی قیادت سے رابطوں میں رہیں، جن کا ماضی مختلف ہوسکتا ہے۔ پی ٹی آئی سینیٹر نے کہا کہ معاشرے کے مختلف طبقات سے خوش گوار تعلقات برقرار رکھنا ریاستی ذمہ داری ہے تاکہ غلط فہمیاں پیدا نہ ہوں اور معاشرے میں امن، برداشت اور تحمل کو یقینی بنایا جائے۔
جماعت اسلامی چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہونے سے پہلے اعجاز مگا کہلانے والے اعجاز چودھری نے کہا کہ جب حکومت اور ٹی ایل پی کے درمیان معاہدہ ہوا تھا تو میں نے اطمینان کا اظہار کیا تھا اور اس پر عمل درآمد کے لیے دعا بھی کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ آپ نے دیکھا کہ اس معاہدے پر مکمل طعر پر عمل کیا گیا، لبیک پر عائد پابندی بھی ختم ہوگئی اور سعد رضوی بھی رہا ہوگئے لہذا آج میں ان سے ملنے کے لیے یہاں موجود ہوں۔
دوسری جانب رہائی کے بعد اپنی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کرتے ہوئے سعد رضوی نے اپنے والد کے عرس کی تقریب سے خطاب میں کہا کہ اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی جان دے دیں گے لیکن کسی ظالم کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔ انہوں نے عوام سے اگلے عام انتخابات میں لبیک کو ووٹ دینے کی اپیل اور کہا کہ ان کے ساتھیوں نے ایک اور جنگ جیت لی یے جس سے جماعت کی بڑھتی ہوئی طاقت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ٹی ایل پی کے سربراہ نے کہا کہ ’ہماری ماؤں، مُردوں اور زخمیوں نے میدان جیت لیا ہے کیونکہ وہ اپنی جان و مال کی قربانی دیتے ہوئے پیچھے نہیں ہٹے۔ انہوں نے کہا کہ لبیک والوں نے ثابت کیا کہ ان کی ماؤں نے بزدلوں کو جنم نہیں دیا۔ سعد نے کہا کہ اب میرے ساتھی پوچھ رہے ہیں کہ انہیں 2023 کے انتخابات جیتنے کے لیے کیا کرنا پڑے گا۔ لہذا میں ان کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہمیں اسی طرح اکٹھے ہو کر مقابلہ کرتے رہنا ہوگا۔
یاد رہے کہ حکومت اور ٹی ایل پی کے درمیان 31 اکتوبر کو معاہدہ طے پایا تھا جبکہ اس سے قبل کئی دنوں تک مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں اور کشیدگی جاری رہی تھی۔احتجاج کے دوران ہونے والی جھڑپوں میں متعدد پولیس اہلکار اور ٹی ایل پی کے کارکن جاں بحق ہوئے تھے۔ تاہم دونوں جانب سے معاہدے کو خفیہ رکھا گیا ہے لیکن سامنے آنے والی معلومات کےمطابق یہ طے پایا تھا کہ ٹی ایل پی سے پابندی ختم کردی جائے گی اور سعد رضوی کو رہا کر دیا جائے گا۔

Back to top button