آئی ایم ایف سے معاہدے کے بعد 400 ارب روپے کے نئے ٹیکس تیار


حکومت پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی ادارے، آئی ایم ایف کے درمیان چھ ماہ کی تاخیر سے ایکسٹنڈڈ فنڈ فیسلٹی کی بحالی کا معاہدہ بالآخر طے پا گیا ہے جو ملک میں نئے ٹیکسوں کے نفاذ کا باعث بنے گا اور یوں مہنگائی کے موجودہ طوفان میں مزید شدت آ جائے گی اور عوام کی چیخوں میں اور بھی اضافہ ہو جائے گا۔
یاد رہے کہ دونوں فریقین کے درمیان گذشتہ چھے مہینوں سے اس پروگرام کی بحالی کے لیے مذاکرات ہو رہے تھے لیکن اب پاکستان نے گھٹنے ٹیکتے ہوئے آئی ایم ایف کی بیشتر شرائط تسلیم کر لی ہیں۔ آئی ایم ایف سے قرض کی اگلی قسط لینے کے لئے حکومت ایک نیا منی بجٹ لائے گی جس کے ذریعے مہنگائی کے مارے عوام پر 400 ارب روپے سے زائد کے نئے ٹیکسوں کا نفاذ کر دیا جائے گا۔ اسکے علاوہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام میں دو سو ارب روپے کی کٹوتی بھی کی جائے گی جس کا خمیازہ بھی عوام ہی بھگتیں گے۔
معاہدے کے بعد آئی ایم ایف کی جانب سے جاری کیے جانے والے اعلامیے کے مطابق اب اس معاہدے کو آئی ایم ایف کے ایگزیکٹیو بورڈ میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا جس کے بعد پاکستان کو 1.059 ارب ڈالر کی قسط جاری کر دی جائے گی۔ اس قسط کی وصولی کے بعد پاکستان کو آئی ایم ایف کی طرف سے جاری کیے جائے والے قرضوں کی مجموعی رقم 3.027 ارب ڈالر ہو جائے گی۔
واضح رہے پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان جولائی 2019 میں چھ ارب ڈالر کی ایکسٹنڈڈ فنڈ فیسلٹی کا معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت پاکستان کو تین سال سے زائد کے عرصے میں چھ ارب ڈالر کی رقم بین الاقوامی مالیاتی ادارے کی جانب سے قسطوں میں ملنی تھی۔ تاہم گذشتہ ڈیڑھ سال سے اس پروگرام پر صحیح طور پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے دو سال میں صرف دو ارب ڈالر کی رقم ہی پاکستان کو مل سکی۔
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان چھٹے نظر ثانی اجلاس کے بعد ایک ارب ڈالر کی رقم پاکستان کو ملے گی۔
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان سٹاف لیول معاہدے کا مطلب ہے کہ پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا معطل شدہ پروگرام بحال ہو گیا ہے۔
آئی ایم ایف نے اس معاہدے اور پروگرام کی بحالی کے بارے میں اپنے اعلامیے میں کہا کہ سوائے پرائمری خسارے کے پاکستان نے کارکردگی جانچنے والے مخلتف پیمانوں میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے ۔
آئی ایم ایف نے مزید کہا کہ پاکستان نے اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے فنانسنگ کے خلاف بھی پیش رفت کی ہے، تاہم اس شعبے میں موثر کارکردگی دکھانے کی ضرورت ہے۔آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتھ معاہدہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکام کو ملک کی مانیٹری پالیسی بہتر بنانے، مہنگائی کو کنٹرول کرنے، ایکسچینج ریٹ میں لچک پیدا کرنے اور ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط رکھنے پر توجہ دینی چاہیے۔
تاہم آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کے لیے پاکستان نے جن شرائط کو مانا ہے انکا ذکر اسکے اعلامیے میں موجود نہیں۔ اس کے لیے ایک الگ سے دستاویز جاری کی جائے گی جو کہ ایگزیکٹیو بورڈ کے اجلاس سے پہلے جاری ہو گی۔ تاہم معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایم ایف کی جانب سے اگلی قسط کی ادائیگی کو یقینی بنانے کے لیے پہلے پاکستان کو پیشگی اقدامات اٹھانے پڑیں گے تاکہ وہاں سے منظوری اور قسط جاری ہو سکے۔ ان اقدامات میں آئی ایم ایف کے ساتھ نئے طے پانے والے ٹیکسوں کے نفاذ کے لیے ایک منی بحٹ لانا ہو گا اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کو با اختیار بنانے کے لیے ایک ترمیمی بل بھی لانا ہو گا۔ ان پیشگی اقدامات میں تقریباً چار سو ارب کے لگ بھگ اضافی ٹیکس اور ملک کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام میں دو سو ارب روپے کی کٹوتی کرنا بھی شامل ہیں۔
یاد رہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے اگست 2018 میں اقتدار میں آنے سے پہلے گذشتہ حکومت کے آئی ایم ایف سے قرضے کے حصول کے پروگرام کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ اس دوران عمران خان کا یہ موقف رہا تھا کہ اگر وہ اقتدار میں آئے تو آئی ایم ایف سے قرضے لینے کی بجائے خود کشی کرنے کو ترجیح دیں گے کیونکہ ان قرضوں کا بوجھ بالآخر براہ راست عوام پر آجاتا ہے۔ چنانچہ تحریک انصاف کی حکومت کے ابتدائی چند مہینوں میں آئی ایم ایف پروگرام میں شامل نہ ہونے کی پالیسی اختیار کی گئی تاہم ملک کے بڑھتے ہوئے ادائیگیوں کے عدم توازن کی وجہ سے عمران حکومت کو آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کرنا پڑا، لیکن وزیراعظم عمران خان اپنا اعلان بھول گئے۔
افغانستان کا بینکاری نظام تباہ ہونے کا خدشہ

دوسری جانب کپتان حکومت کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ پاکستان کی مجبوری تھی کیونکہ اس وقت پاکستان کے بیرونی فناننسگ کے سارے ذرائع بند ہیں اور 20 ارب ڈالر کے تاریخی کرنٹ اکاؤنٹ خسارے سے نمٹنے اور بیرونی ادائیگیوں کے لیے یہ ڈیل بہت ضروری تھی۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور چین سے ملنے والے ڈالرز کے ڈیپازٹس نے تھوڑی بہت مدد تو فراہم کی تاہم وہ مسئلے کا حل نہیں تھا کیونکہ آئی ایم ایف پروگرام میں شرکت کے بعد دوسرے عالمی مالیاتی ادارے یعنی عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک بھی فناننسگ جاری کرتے ہیں اور بین الاقوامی بانڈ مارکیٹ میں ملک کی کریڈٹ ریٹنگ بھی بہتر ہوتی ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آئی ایم ایف سے قرض کی اگلی قسط لینے کے لئے حکومت کو ایک نیا منی بجٹ لانا ہوگا جس کے ذریعے مہنگائی کے مارے عوام پر مزید ٹیکسوں کا نفاذ کر دیا جائے گا۔

Back to top button