تحریک لبیک کا پرانا جن نئی بوتل میں کس نے ڈالا ہے؟

تحریک لبیک کا معاملہ فرانس کے سفیر کی ملک بدری اور ٹی ایل پی سربراہ کی رہائی سے زیادہ بڑا اور گھمبیر ہے کیونکہ اصل میں یہ لڑائی پاکستان کے سب سے بڑے بریلوی فرقے کے نمائندوں کی ریاست کے کاروبار میں اپنے فیصلوں کو منوانے کی ہے۔ معروف صحافی اشعر رحمان بی بی سی کے لیے اپنی ایک تازہ تحریر میں بتاتے ہیں کہ بریلوی فرقہ سے تعلق رکھنے والوں نے چھوٹے چھوٹے گروپوں سے نکل کر ٹی ایل پی کی چھتری تلے تب اکھٹا ہونا شروع کیا جب انھیں یہ محسوس ہوا کہ ایک اکثریت ہونے کے باوجود انھیں اپنی خاموشی کی وجہ سے ریاست اور دوسرے فرقے مسلسل نظرانداز کر رہے ہیں۔
پروفیسر طاہرالقادری نے یہ جھنڈا اٹھا کر چلنے کی کوشش کی مگر اہلسنت کے سابقہ رہنما مولانا شاہ احمد نورانی کی طرح پروفیسر صاحب بھی کچھ خاص اصولوں سے کچھ اس طرح منسلک ہو چکے تھے کہ ان کی صحت ایک خاص مقام سے آگے جانے کی متحمل نہیں ہو سکتی تھی۔
بقول اشعر رحمن، دس برس پہلے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے بعد حالات بریلویوں سے ایک نئی قیادت کا تقاضہ کر رہے تھے۔ یہی وہ حالات تھے جنھوں نے 2015 میں ‘تحریک لبیک یارسول اللہ’ کے پہلو سے ‘تحریک لبیک پاکستان’ برآمد کی۔
یہ دونوں سیاسی جماعتیں تھیں ان میں واضح فرق یہ تھا کہ ٹی ایل پی کے مطالبوں میں زیادہ شدت تھی اور اس میں ولولہ اور اپنے تقاضے کے لیے اصرار نمایاں۔ جلد ہی یہ مسلسل اصرار ایک للکار میں تبدیل ہو گیا اور جیسے جیسے علامہ خادم حسین رضوی کی شخصیت عوام میں مشہور ہوتی گئی، اس اس طرح ٹی ایل پی اور اس کے تقاضوں اور مطالبوں کو ایک مقبول عام چہرہ ملتا چلا گیا۔ رضوی صاحب کا آغاز شاید بہت شاندار نہ رہا ہو۔ بہت سے دوسرے لبیک کے رہنما ان کا مقابلہ کرنے کے لیے میدان میں موجود تھے، مگر ان میں چند ایسی خوبیاں ضرور موجود تھیں جو بہت سے مسائل سے عاجز عوام کے ایک بڑے طبقہ کو بھا گئیں۔ سب سے پہلے ان کی ظاہری شخصیت یا ’پرسونا۔‘ دونوں ٹانگوں سے معذور ایک باریش شخص اپنی جسمانی کمزوری کو نظر انداز کرتے ہوئے تیزی سے اپنے اہداف پر جھپٹتا ہوا۔
اس کے علاوہ علامہ رضوی کے الفاظ میں بھی ایک اچھے فیچر کی طرح مختلف لوگوں کے لیے مختلف کافی کچھ تھا۔ تاریخ اسلام، اقبال، فارسی شاعری اور پھر ان کے تیزطراز فقرے جنھیں ان کے پسند کرنے والے ان کے عوامی ہونے کی سند قرار دیتے اور اپنا سر دُھنتے۔
2015 میں علامہ خادم رضوی سابق پنجاب گورنر سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کی پھانسی کے بعد اپنے بریلوی نعروں کو فلگ شگاف حد تک پہنچانے کے لیے میدان میں موجود تھے۔تب بھی تشدد کا عنصر، بھڑکنے بھڑکانے کا مادہ تحریک میں بدرجہ اتم موجود تھا مگر ریاست ابھی ٹی ایل پی کو بطور ایک عسکریت پسند جماعت ماننے کو تیار نہیں ہوئی تھی۔
یہ سعادت تحریک لبیک کو اب اس وقت نصیب ہو رہی ہے جب اس سے متعلق تشدد کی بہت ساری تصویریں عوام میں گردش کر رہی ہیں جن سے بچا جا سکتا تھا۔ بہت سے لوگ مارے گئے ہیں جن میں ایک بڑی تعداد ان پولیس والوں کی ہے جو بظاہر اس قسم کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ بقول اشعررحمن، یقیناً موجودہ حکومت کا خیال ہو گا کہ جس طرح پولیس نے اس طرح کے دوسرے مسئلوں پر قابو پا لیا، اسی طرح وہ ٹی ایل پی کے جھگڑے سے بھی ہمیں نکال لے گی لیکن ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا اور اسی لیے رینجرز کو طلب کر لیا گیا ہے۔ یہ پولیس والے تو بھاڑ میں جھونکی گئی لکڑیوں کی ان گٹھیوں کی طرح ہیں جنھیں آگ کے حوالے کرنے والے یہ سوچ رہے ہوتے ہیں کہ اس عمل سے شعلوں کی تمازت میں، کچھ دیر کے لیے ہی سہی، تھوڑی کمی ہو جائے گی۔ وزیر اطلاعات فرماتے ہیں کہ ٹی ایل پی سے اب اس طرح ڈیل کیا جائے گا جیسا کہ اس جیسے دوسرے گروپوں سے نمٹا جاتا ہے۔
اشعر رحمان کہتے ہیں کہ یہ بیان اپنے آپ میں ایک پہیلی ہے کیونکہ ہم پاکستانیوں سے بہتر یہ کوئی نہیں جانتا کہ عسکریت پسندی اور عسکریت پسندوں دونوں کے مختلف درجے ہوتے ہیں۔وزیر موصوف نے یہ تاثر دینے کی کوشش بھی کی جیسے ہمارے یہ سب سے نئے عسکریت پسند ابھی کچھ کچے ہیں، یا شاید اسلحہ وغیرہ کی مد میں اتنے خطرناک نہیں جیسا کہ شاید کچھ پرانے عسکریت پسند تھے۔ یہاں پھر حکومت کی ہر گروپ کو ایک ہی عینک سے دیکھنے یعنی ‘کاسٹ ٹائپ’ کرنے کی عادت غالب آ گئی ہے۔ اشعر کہتے ہیں کہ بھائی آپ یہ بھی تو دیکھیے کہ موجودہ ملزم کے پاس ‘مین پاور’ اور دیگر وسائل کے ذخائر کس قدر ہیں اور اس کے مطابق اپنا لائحہ عمل ترتیب دیجیے۔
اس وقت عمران حکومت تحریک لبیک سے نمٹنے کیلئے اذہنی طور پر تیار نہیں اور کنفیوژن کا شکار ہے اسی لئے ایک جانب یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ اس تنظیم کو بھارت کی مدد حاصل ہے جبکہ دوسری جانب اس کی قیادت کے ساتھ مذاکرات بھی جاری ہیں۔ ایک جانب وزیر اطلاعات فواد چوہدری فرماتے ہیں کہ تحریک لبیک ایک کالعدم عسکریت پسند تنظیم ہے جبکہ دوسری جانب وزیرداخلہ شیخ رشید کہتے ہیں کہ وہ تحریک لبیک کو کالعدم تنظیم نہیں مانتے۔ لہذا جب حکومت وقت کے اندر ہی ایک ایشو پر اتنی زیادہ کنفیوژن اور تضادات ہوں گے تو پھر تحریک لبیک کے پرانے جن کو نئی بوتل میں بند کرنا کس طرح ممکن ہوگا؟
