صحافیوں کے خلاف ریاستی اداروں اور FIA کا گٹھ جوڑ بے نقاب


پچھلے دو برس کے دوران ریاست نے فوج اور خفیہ ایجنسیوں کے سیاسی کردار پر تنقید کرنے والے آزاد منش صحافیوں کو ڈرانے اور دھمکانے کے لئے زیادہ تر وفاقی تحقیقاتی ادارے کو استعمال کیا لیکن ایف آئی ایف کا سائبر کرائمز ونگ بدنام زمانہ پیکا قانون کے تحت کسی بھی صحافی کے خلاف الزامات ثابت کرنے اور اسے سزا دلوانے میں مکمل طور پر ناکام رہا جس سے اس نظام کو تقویت ملتی ہے کہ یہ تمام کاروائیاں انتقامی بنیادوں پر کی گئیں۔
عمران خان کے برسراقتدار آنے کے بعد سے پچھلے دو برس کے دوران میڈیا اداروں اور ان سے منسلک صحافیوں کی آوازیں دبانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی ہے اور اب ان ہتھکنڈوں میں تیزی آ گئی ہے جس کی بنیادی وجہ آزادی اظہار کے لئے حکمرانوں کی عدم برداشت ہے۔ ریاستی اور حکومتی اداروں کی جانب سے صحافیوں کے خلاف کی گئی کارروائیوں کے دوران پچھلے دو برس میں تقریباً دو درجن کے قریب صحافیوں پر فوج اور حکومت پر تنقید کے الزام میں غداری سمیت مختلف نوعیت کے مقدمات درج کیے گئے۔ ان میں سے زیادہ تر صحافیوں کیخلاف پریونشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ یعنی پیکا کے بدنام زمانہ قانون کے تحت کیسز دائر کئے گئے لیکن الزامات کھوکھلے ہونے کی وجہ سے ان صحافیوں کو ضمانت مل گئی۔ خیال رہے کہ ایف آئی اے پیکا قانون کو سوشل میڈیا سے منسلک صحافیوں کو ہراساں کرنے اور گرفتار کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔
پاکستان میں صحافیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے فریڈم نیٹ ورک کی ایک رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے کی جانب سے اکثر صحافیوں کیخلاف بدنام زمانہ پیکا قانون کے سیکشن 20؍ کے تحت کیسز درج کیے جاتے ہیں، جس میں آن لائن ہتک عزت کا الزام لگایا جاتا ہے اور جس کی سزا تین سال قید اور دس لاکھ روپے تک جرمانے کی ہے۔ گرفتار ہونے والے ذیادہ تر صحافی فوج اور خفیہ ایجنسیوں پر تنقید کی وجہ سے ریاستی عتاب کا شکار ہوئے۔ یاد رہے کہ عمران دور میں سوشل میڈیا پر سویلین اور ملٹری قیادت کیخلاف تنقید کرنے پر کئی نامور صحافیوں گرفتار ہو چکے ہیں جنہیں بعد ازاں ایف آئی اے کو اس لئے رہا کرنا پڑا کہ وہ عدالت میں الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہی۔ ایف آئی نے اس برس اگست میں سینئر صحافیوں عامر میر اور عمران شفقت کو گرفتار کرنے کے لیے پیکا قانون کے علاوہ پاکستان پینل کوڈ کی بدنام زمانہ دفعہ 505 کا استعمال کیا جو کہ انگریز سرکار نے تحریک آزادی کو دبانے کے لیے نافذ کی تھی۔ بعد ازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ان گرفتاریوں پر ایف آئی اے سائبر کرائمز ونگ کے ڈائریکٹر آپریشنز بابر بخت قریشی کی سخت سرزنش کرتے ہوئے انہیں غیر قانونی قرار دیا تھا۔ ان دو صحافیوں کو گرفتار پہلے کیا گیا تھا اور ان کے خلاف کیسز بعد میں درج کیے گے تھے۔
فریڈم نیٹ ورک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اقبال خٹک کہتے ہیں کہ پاکستانی صحافی تیزی سے آن لائن ذرائع استعمال کر رہے ہیں تاکہ وہ اپنی آزاد آراء شیئر کر سکیں اور تنقیدی تبصرہ کر سکیں جو کہ میں سٹریم میڈیا پر دبا دیا جاتا ہے۔ لیکن آن لائن اظہار خیال کو روکنے کیلئے حکومت کی جانب سے کوششیں جاری ہیں چاہے وہ قانونی طریقوں سے ہوں یا پھر آزاد منش صحافیوں کیخلاف منظم ڈیجیٹل مہم کے ذریعے۔ فریڈم نیٹ ورک کی رپورٹ میں ثبوت موجود ہیں کہ کس طرح پیکا کا قانون پاکستانی صحافیوں کو خاموش کرانے کیلئے بڑی طرح استعمال کیا گیا ہے کیونکہ اس قانون میں آن لائن اظہار خیال کو جرم بنا دیا گیا ہے۔ یہ رپورٹ 23؍ صحافیوں اور انفارمیشن پریکٹیشنرز کے کیسز کا جائزہ لینے کے بعد مرتب کی گئی ہے جنہیں 2019ء تا 2021ء پیکا کے تحت ایف آئی اے کی طرف سے مختلف جرائم کے تحت نوٹس بھیجے گئے۔ یہ رپورٹ انہی رپورٹرز اور پریکٹیشنرز کی فراہم کردہ معلومات کے تحت تیار کی گئی ہے اور اس کا جائزہ لیا گیا ہے۔ تجزیے سے یہ معلوم ہوا ہے کہ صحافیوں کیخلاف قائم کیے گئے 56؍ فیصد مقدمات پیکا کے تحت بنائے گئے۔ ان میں سے جن افراد پر باضابطہ مقدمات دائر کیے گئے، ان میں سے 70؍ فیصد کو گرفتار کیا گیا اور ان کی آدھی تعداد پر دورانِ حراست تشدد کیا گیا۔ نیٹ ورک کی رپورٹ میں صحافیوں کو درپیش مسائل اور چیلنجز کا بھی احاطہ کیا گیا ہے جبکہ پاکستان میں حکام کی جانب سے اپنے اختیارات کے استعمال اور نظام انصاف کے رد عمل کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ یہ بات سامنے آئی ہے کہ پیکا کی گئی کارروائیوں میں پنجاب سب سے خطرناک ریجن ثابت ہوا، کیونکہ صحافیوں کی گرفتاریوں کے 23 کیسز میں سے 10 پنجاب کے تھے جبکہ اسلام آباد کے 8؍ کیسز تھے۔ مدعی افراد کی دو تہائی تعداد نجی شہری ہیں جبکہ فوج اور انٹیلی جنس کیخلاف کی گئی تنقید اور ان کے حوالے سے پیش کی گئیں آراء شکایت کا زیادہ تر موضوع بننے والا معاملہ رہا۔ پیکا کے تحت جن صحافیوں پر کیسز بنائے گئے ان کی آدھی تعداد کو گرفتار کیا گیا، گرفتار ہونے والوں میں سے دو تہائی صحافی ضمانت پر رہا ہونے میں کامیاب رہے جبکہ کچھ کو حوالات میں رہنا پڑا۔

Back to top button