تنقید عمران خان پر کرو تو جواب احسان اللہ کی طرف سے آتا ہے

پاکستان پیپلزپارٹی کی نائب صدر شیری رحمان کا کہنا ہے کہ تحریکِ طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کی دھمکی کے بعد اگر بلاول بھٹو کو کچھ ہوا تو اس کے ذمہ دار عمران خان ہوں گے۔ شیری رحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ وفاق احسان اللہ احسان کے خلاف فوری کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کرے۔
تچععععتپاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے یہ ردِ عمل احسان اللہ احسان کی اس دھمکی آمیز ٹویٹ کے بعد سامنے آیا ہے جو انہوں نے چند روز قبل سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر اپنے اکاؤنٹ سے کی تھی۔ اس ٹویٹ میں احسان اللہ احسان کا کہنا تھا کہ ’اس ملک کی بقا کی خاطر ہمیشہ اسلام پسندوں نے قربانیاں دی ہیں۔ آپ کہ امی، پاپا اور آپ جیسے بے مذہبوں نے یہاں صرف لوٹ مار اور اپنی بادشاہتوں کے کھیل کھیلے ہیں۔ ہم اس کی نظریاتی سرحدوں کی خاطر تم جیسوں سے لڑتے رہیں گے تمہارا انجام بھی تمہاری امی جیسا ہوگا۔ انشا اللہ۔‘ اس ٹویٹ کے بعد ٹوئٹر انتظامیہ نے قوائد کی خلاف ورزی کے باعث ’احسان اللہ احسان‘ کا اکاؤنٹ معطل کر دیا ہے۔
WhatsApp Image 2020 07 16 at 4.06.42 PMاس حوالے سے شیری رحمان کا کہنا تھا کہ ’تنقید وزیر اعظم عمران خان پر کرو تو جواب احسان اللہ احسان کی طرف سے آتا ہے۔‘ شیری رحمان کا کہنا تھا کہ ’عمران خان طالبان کے دفتر بنانے کی بات کرتے تھے۔ وہ یہ کہتے تھے کہ ان کے اور طالبان کے نظریات ایک ہیں اور وہ طالبان کو سہولیات فراہم کرنے کی بات کرتے تھے۔ اب ان ہی طالبان کا ترجمان کھلے عام بلاول بھٹو کو قتل کی دھمکیاں دے رہا ہے۔‘
خیال رہے کہ 29 جون کو پاکستان پیپلزپارٹی کے میڈیا سیل کی جانب سے بلاول بھٹو کی اسمبلی میں تقریر کے حوالے سے ٹویٹ کی گئی تھی جس میں بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ’عمران خان شہید محترمہ بےنظیر بھٹو کو شہید نہیں کہتے مگر ایک دہشت گرد ان کے نزدیک شہید ہے۔‘
اس معاملے کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے شیری رحمان نے کہا کہ ’یہ معاملہ اس لیے تشویش ناک ہے کیوں کہ بلاول بھٹو کی والدہ بےنظیر بھٹو کو ان ہی عناصر نے شہید کیا تھا اور اب وہ ان کی ماں کا حوالہ دے کر اس ہی انجام سے ان کے بیٹے کو دوچار کرنے کی بات کر رہے ہیں۔‘’احسان اللہ احسان اور پی ٹی آئی کی زبان دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ دونوں کے پیچھے ایک ہی ذہنیت ہے۔‘ شیری رحمان کے مطابق یہ ایک سنگین معاملہ ہے اور اس معاملے میں حکومت کی خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button