توشہ خانہ کیس میں عمران کی نااہلی یقینی کیوں ہے؟

سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف الیکشن کمیشن کی طرف سے دائر کردہ توشہ خانہ نااہلی ریفرنس فارن فنڈنگ کیس سے بھی زیادہ خطرناک قرار دیا جا رہا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کی جانب سے 7 فروری کو عمران خان پر توشہ خانہ کیس میں فرد جرم عائد کرنے کے فیصلے کے بعد ان کی نااہلی یقینی ہے کیونکہ 2017 میں اثاثے ڈیکلیئر نہ کرنے کے الزام پر ہی سابق وزیراعظم نواز شریف کو بھی نا اہل قرار دیا گیا تھا اور وہ عمر بھر کے لیے پارلیمانی سیاست سے بے دخل کر دیئے گئے تھے۔عمران خان پر بھی یہی الزام ہے کہ انہوں نے توشہ خانہ کے تحائف بیچ کر جو کروڑوں روپے کمائے انہیں دو برس تک اپنے سالانہ ڈکلئیر کردہ اثاثوں میں ظاہر نہیں کیا چنانچہ وہ بھی نواز شریف کی طرح صادق اور امین نہیں رہے اور عوامی عہدے کے لیے نااہل قرار دئیے جانے چاہیں۔ چنانچہ توشہ خانہ ریفرنس میں عمران کا بچنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن نظر آتا ہے۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس میں فردِ جرم عائد کرنے کے لیے 7 فروری کی تاریخ مقرر کر دی ہے۔خیال رہے کہ الیکشن کمیشن نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو نااہل قرار دینے کا فیصلہ سنانے کے بعد کے ان کے خلاف فوجداری کارروائی کا ریفرنس عدالت کو بھیجا تھا۔ واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے 21 اکتوبر کو عمران خان کے خلاف دائر کردہ توشہ خانہ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے انہیں نااہل قرار دے دیا تھا۔
چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں 5 رکنی کمیشن نے متفقہ فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ عمران خان کو جھوٹا بیان جمع کرانے پر آرٹیکل 63 (ون) (پی) کے تحت نااہل قرار دیا گیا ہے، جہاں اس آرٹیکل کے مطابق وہ رکن فی الوقت نافذ العمل کسی قانون کے تحت مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) یا کسی صوبائی اسمبلی کا رکن منتخب کیے جانے یا چنے جانے کے لیے اہل نہیں ہوگا۔الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں عمران خان کو عوامی نمائندگی کے لیے نااہل قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ عمران خان نے اپنے مالی اثاثوں سے متعلق حقائق چھپائے اور حقیقت پر پردہ ڈالنے کے لیے جھوٹا بیان جمع کرایا، جھوٹ بولنے پر عمران خان عوامی نمائندگی کے اہل نہیں رہے۔الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں عمران خان کے خلاف فوجداری کارروائی کرنے کی بھی سفارش کی تھی۔
الیکشن کمیشن کے فیصلے میں کہا گیا کہ عمران خان آرٹیکل 63 (ون) (پی) کے تحت نااہل ہیں، سابق وزیراعظم نے جھوٹا بیان اور ڈیکلیئریشن جمع کروائی، الیکشن ایکٹ کے سیکشن 167 اور 173 کے تحت کرپٹ پریکٹس کے مرتکب ہوئے اور توشہ خانہ سے حاصل تحائف اثاثوں میں ڈیکلیئر نہ کرکے دانستہ طور پر حقائق چھپائے۔الیکشن کمیشن نے عمران خان کو آئین پاکستان کے آرٹیکل 63 کی شق ’ایک‘ کی ذیلی شق ’پی‘ کے تحت نااہل کیا جبکہ آئین کے مذکورہ آرٹیکل کے تحت ان کی نااہلی کی مدت موجودہ اسمبلی کے اختتام تک برقرار رہے گی۔
یاد رہے کہ مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی بیرسٹر محسن نواز رانجھا نے عمران خان کے خلاف سپیکر قومی اسمبلی کے پاس آئین کے آرٹیکل 63 (ٹو) کے تحت ریفرنس دائر کیا تھا، جس میں کہا گیا کہ عمران نے سرکاری توشہ خانہ سے تحائف خریدے مگر انہیں الیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے اثاثہ جات کے گوشواروں میں ظاہر نہیں کیا، اس طرح وہ ’بددیانت‘ ہیں، لہٰذا انھیں آئین کے آرٹیکل 62 ون (ایف) کے تحت نااہل قرار دیا جائے۔
توشہ خانہ سکینڈل طویل عرصے سے خبروں میں ہے جس کی وجہ یہ الزام ہے کہ عمران اور ان کی اہلیہ سابق خاتون اول بشریٰ بی بی نے توشہ خانے سے سستے داموں قیمتی تحائف خریدنے کے بعد انھیں مہنگے داموں میں بیچ دیا تھا۔ یہاں یہ بات اہم ہے کہ توشہ خانہ سے تحائف خریدے جاتے ہیں اور انھیں مکمل قانونی تحفظ حاصل ہے تاہم اخلاقی طور پر تحفہ بیچنا غلط ہے،البتہ عمران اس بارے میں کہہ چکے ہیں کہ میرا تحفہ، میری مرضی۔
توشہ خانہ ریفرنس کے مطابق درخواست گزار نے کہا ہے کہ عمران خان پر قانونی طور پر لازم تھا کہ وہ ہر مالی سال کے آخر میں اپنے، اپنی اہلیہ اور خاندان کے دیگر افراد کے تمام تر اثاثے چھپائے بغیر الیکشن کمیشن میں جمع کراتے، دستاویز میں یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ عمران نے ’’جانتے بوجھتے‘‘ توشہ خانہ سے لیے گئے تحائف کو چھپایا اور یہ قبول کیا ہے کہ انھوں نے یہ تحائف فروخت کر دیے۔لیکن الیکشن کمیشن کے پاس جمع کروائی گئی دستاویزات میں ان تحائف کی فروخت اور ان سے کمائی گئی رقوم بھی چھپائی گئیں۔ دستاویز کے مطابق عمران خان کو اپنی حکومت کے دوران کل 58 باکسز تحائف کی صورت میں ملے جن میں مختلف اشیا تھیں۔ یہ تحائف عمران نے توشہ خانہ سے 20 اور بعدازاں 50 فیصد رقم ادا کر کے حاصل کیے۔ ان میں سے کئی ایسے ہیں جن کی لاگت 30 ہزار سے کم تھی لہٰذا قانون کے مطابق وہ یہ تحائف مفت حاصل کر سکتے تھے جبکہ 30 ہزار سے زائد قیمت کے تحفوں کی قیمت کا 20 فیصد ادا کر کے وہ گفٹس لیے گئے۔
عمران حکومت کے ابتدائی دو ماہ کے دوران حاصل کردہ تحائف میں ایک گراف کی گھڑی بھی شامل ہے جس کی مالیت آٹھ کروڑ 50 لاکھ لگائی گئی جبکہ اسی پیک میں شامل دیگر تحائف میں 56 لاکھ 70 ہزار کے کف لنکس، 15 لاکھ روپے کا ایک پین اور 87 لاکھ 50 ہزار روپے کی ایک انگوٹھی شامل ہے۔ دس کروڑ روپوں سے زائد مالیت کی ان چار اشیا کے لیے عمران خان نے صرف دو کروڑ روپے رقم جمع کرائی اور ان کے مالک بن گے۔
اسی طرح رولیکس کی ایک گھڑی جس کی مالیت 38 لاکھ تھی، عمران خان نے یہ ساڑھے سات لاکھ کے عوض خریدی۔ رولیکس ہی کی ایک اور گھڑی جس کی مالیت 15 لاکھ روپے لگائی گئی، سابق وزیراعظم نے تقریباً ڈھائی لاکھ میں خریدی۔ اسی طرح ایک اور موقع پر گھڑی اور کف لنکس وغیرہ پر مشتمل ایک باکس کی کل مالیت 49 لاکھ تھی، جس کی نصف رقم ادا کی گئی جبکہ جیولری کا ایک سیٹ 90 لاکھ میں خریدا گیا جس کی مالیت ایک کروڑ 80 لاکھ سے زائد مختص کی گئی تھی۔
دستاویر کے مطابق وہ گھڑی جس کے بارے میں یہ الزام ہے کہ اسے بیچ دیا گیا، وہ بھی الیکشن کمیشن کے گوشواروں میں درج نہیں کی گئی۔ خیال رہے کہ یہ گھڑی سابق خاتون اول بشریٰ بی بی نے سعودی عرب کے پہلے دورے کے دوران تحفے کے طور پر لی تھی۔ اس کی مالیت 85 ملین بتائی گئی ہے جسے توشہ خانے سے 20 فیصد ادائیگی کے بعد لیا گیا۔
