2018 میں باجوہ نے نواز شریف کو کیوں گرفتار کروایا؟

سابق وزیراعظم عمران خان کے قریبی ساتھی عون چودھری نے انکشاف کیا ہے کہ 2018 کے عام انتخابات سے پہلے نواز شریف اور مریم نواز کی وطن واپسی پر ان کی گرفتاری کا حکم تب کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے عمران خان کی خواہش پر دیا تھا تاکہ الیکشن میں ن لیگ کا دھڑن تختہ ہو جائے۔

عون چوہدری نے یہ انکشاف جاوید چوہدری کے ساتھ ایک انٹرویو میں کیا۔ اس انٹرویو کے دوران جاوید چوہدری نے عون سے پوچھا کہ ’’کیا یہ سچ ہے کہ 13 جولائی 2018 کو جب نواز شریف اپنی بیٹی مریم نواز کے ساتھ لاہور ائیرپورٹ پر اترے تھے تو انھیں آپ نے گرفتار کروایا تھا؟‘‘ عون چوہدری یہ سوال سن کر خاموش ہوگئے، جاوید نے دوبارہ پوچھا‘ تو وہ بولے کہ ’’میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا‘‘۔ میں نے تیسری مرتبہ زور دے کر پوچھا تو وہ آہستہ سے بولے۔کہ ’’ہاں یہ درست ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز کو میرے کہنے پر لاہور ائیرپورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا‘‘۔

جاوید چودھری نے پوچھا کہ ’’کیوں؟‘‘ اس پر عون بولے کہ ’’25 جولائی 2018 کو جنرل الیکشن تھے‘ بیگم کلثوم نواز بھی علیل تھیں اور نواز شریف اور مریم نواز کے خلاف 6 جولائی کو عدالتی فیصلہ بھی آ چکا تھا لہٰذا ہمارا خیال تھا کہ نواز شریف الیکشن سے پہلے واپس نہیں آئیں گے۔ لیکن نواز شریف نے 13 جولائی کو وطن واپسی کا اعلان کر دیا‘ عمران خان گھبرا گئے، انھوں نے مجھے بلا کر کہا اگر نواز شریف واپس آ گیا تو ہم یہ الیکشن ہار جائیں گے۔ تم ’’انھیں‘‘ کہو کہ وہ اسے روکیں یا پھر دونوں باپ بیٹی کو گرفتار کر لیں‘ عمران خان نے مجھے کہا کہ اس بات کو بھی یقینی بنائیں کہ الیکشن سے پہلے نواز شریف کی کوئی تقریر نہیں ہونی چاہئے۔

عون چودھری نے عمران خان کا یہ پیغام آگے پہنچا دیا‘ رات کو انہیں جواب ملا‘ کہ آپ لوگ صرف الیکشن کمپیئن پر توجہ دیں‘ نواز شریف کی فکر نہ کریں اور یوں 13 جولائی 2018 کو نواز شریف اور مریم بی بی کو لاہور ائیرپورٹ سے گرفتار کر لیا گیا‘‘۔ جاوید چوہدری نے عون سے پوچھا کہ ’’آپ نے نواز شریف کی گرفتاری کی درخواست کس سے کی تھی؟‘‘ عون چوہدری دوبارہ خاموش ہو گئے‘میں نے اپنا سوال دہرا دیا‘ وہ آہستہ سے بولے ’’ہم کس سے کہہ سکتے تھے؟ آپ اچھی طرح جانتے ہیں‘‘ میں نے زور دے کر پوچھا ’’کیا آپ نے جنرل فیض حمید سے کہا تھا؟‘‘ عون ہنس کر بولے ’’جنرل فیض حمید اس وقت اس پوزیشن میں نہیں تھے‘‘۔ میں نے دوبارہ پوچھا کہ پھر ’’آپ نے کس سے کہا تھا؟‘‘ وہ آہستہ آواز میں بولے کہ ’’میں نے جنرل باجوہ سے درخواست کی تھی‘‘۔ جاوید چوہدری کے بقول انہوں نے عون سے پوچھا کہ ’’کیا آپ نے یہ درخواست ان سے براہ راست کی تھی؟‘‘۔عون چوہدری نے فوراً جواب دیا’’ جاوید صاحب میں اس ایشو پر مزید ایک لفظ نہیں بولوں گا‘‘۔

عون چوہدری نے مزید بتایا کہ عمران اور جنرل باجوہ کا آپس میں رابطہ 2017 میں ہی ہوگیا تھا اور تب ہی یہ فیصلہ ہوچکا تھا کہ 2018 کے الیکشن میں تحریک انصاف کی حکومت بنائی جائے گی۔ عن چوہدری نے بتایا کہ عمران خان کی آرمی چیف سے ملاقاتیں جنرل باجوہ کے سسر میجر جنرل ریٹائرڈ اعجاز امجد کے گھر ہوتی تھیں جب کہ دوسرے لیول کی ملاقاتیں اسلام آباد میں علیم خان کے گھر میں ہوتی تھیں‘ علیم خان کا گھر ہمارے قبضے میں تھا ’’وہ لوگ‘‘ اُدھر سے وہاں آ جاتے تھے اور ہم اِدھر سے وہاں چلے جاتے تھے‘‘ میں نے پوچھا ’’ان ملاقاتوں کا ایجنڈا کیا ہوتا تھا؟‘‘ عون ہنس کر بولے ’’الیکشن اور کیا؟ ہم ہر صورت الیکشن جیتنا چاہتے تھے اور ہمارے مہربان ہمیں ہر صورت الیکشن جتوانا چاہتے تھے چناں چہ ہم وہاں الیکشن کی اسٹرٹیجی بناتے تھے‘‘۔

جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ میں نے عون سے پوچھا کہ ’’عمران خان پر جو پلے بوائے کے الزامات لگتے ہیں‘ وہ کس حد تک درست ہیں؟‘‘ وہ سنجیدگی سے بولے کہ ’’میں کبھی ان کی کسی پارٹی میں شریک نہیں ہوا‘ ہمارا ان کے ساتھ احترام کا رشتہ تھا‘ اگر کوئی ایسا ویسا کام ہوتا بھی تھا تو وکی کے گھر ہوتا تھا‘ وہ بے چارہ اب فوت ہو چکا ہے، وہ موبائل زون کمپنی کا مالک تھا اور خان صاحب کا پرانا دوست تھا‘ ہم خان صاحب کو اس کے گھر پر چھوڑ کر واپس آ جاتے تھے، وہاں اس کے بعد کیا ہوتا تھا یہ اللہ تعالیٰ اور عمران خان کا معاملہ ہے‘‘۔ یاد رہے کہ وکی کی موت بھی عمران خان کی موجودگی میں ہی ہوئی تھی جس کا تفصیلی تذکرہ ریحام خان نے اپنی کتاب میں بھی کیا ہے۔

Back to top button