تھائی لینڈ کےبادشاہ نے خاتون محافظ سے شاہی عہدہ واپس لے لیا

تھائی لینڈ کےبادشاہ ماہا وجیرالونگ کورن نے اپنی باڈی گارڈ رہنے والی 34 سالہ سنینات ونگوجری پکدے کو رواں برس اگست میں اعلیٰ شاہی عہدے سے نوازا تھا۔بادشاہ نے اپنی قریبی اور قابل بھروسہ محافظ رہنے والی خاتون کو ’رائل نوبیل کنسورٹ‘ کا ولی عہد جیسا عہدہ دیا تھا۔اگرچہ بادشاہ نے اپنی دیرینہ خاتون ملازمہ سنینات ونگوجری پکدے کو اگست سے پہلے یہ عہدہ دیا تھا، تاہم اس کا اعلان اگست میں کیا گیا تھا۔شاہی محل کی جانب سے اعلان کے ساتھ سنینات ونگوجری پکدے کی سوانح عمری اور بادشاہ کے ساتھ گزارے گئے وقت کی نایاب تصاویر بھی جاری کی گئی تھیں۔
b2
سنینات ونگوجری پکدے نے 2008 میں گریجوئیشن کرنے کے بعد جنگی پائلٹ کی تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں شاہی فوج میں بطور پائلٹ شمولیت اختیار کی۔
b5555
سنینات ونگوجری پکدے کو پیشہ ورانہ خدمات کے عوض توجہ حاصل رہی اور وہ بادشاہ کی قابل بھروسہ اور قریبی محافظ خواتین میں سے ایک بن گئیں اور دونوں کو کئی مواقع پر انتہائی خوشگوار موڈ میں ایک ساتھ دیکھا جاتا تھا۔
b444
بعد ازاں انہیں شاہی فوج یعنی بادشاہ کی سیکیورٹی دیکھنے والی بٹالین میں میجر جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی، تاہم رواں برس اگست میں بادشاہ نے ان پر مہربانی کرتے ہوئے انہیں ’رائل نوبیل کنسورٹ‘ بنایا تھا جو ولی عہد کے برابر عہدہ ہوتا ہے۔
عام طور پر یہ عہدہ بادشاہ اپنی اہلیہ یا خاندان کی کسی خاتون کو دیتا ہے، تاہم بادشاہ نے یہ خاص عہدہ اپنی باوفا اور قریبی خاتون ملازمہ کو دیا تھا۔
لیکن اب بادشاہ نے ان سے عہدہ واپس لینے سمیت انہیں دی گئی تمام مراعات بھی واپس لے لیں۔
bb333
خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق شاہی محل کی جانب سے جاری کیے گئے 2 صفحے کے بیان میں کہا گیا ہے کہ بادشاہ کی خاص مہربانیوں کی وجہ سے ترقی کرنے والی فوجی ملازمہ ناشکری نکلیں اور انہوں نے شاہی عہدے ملنے کے بعد سازشیں کرنا شروع کردی تھیں۔
بیان میں خاتون فوجی محافظہ کے لیے ’بے وفا‘ اور ’دشمن‘ جیسے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں اور کہا گیا ہے کہ انہوں نے بادشاہ کی بیوی سے متعلق بھی گستاخی کی۔
شاہی محل سے جاری بیان کے مطابق فوجی محافظ نے بادشاہ کی بیوی کو ملکہ کا درجہ دینے پر بھی نالاں دکھائی دیں اور مختلف مواقع پر ان سے ’حسد‘ کرتی دکھائی دیں۔
wdwdwd
بیان سے پتہ چلتا ہے کہ بادشاہ کی مہربانیوں کی وجہ سے شاہی عہدہ لینے والی محافظ ملازمہ بادشاہ کی بیوی سے جلتی تھیں اور چاہتی تھیں کہ ان کی جگہ وہ لے لیں۔
بیان میں مختصر بتایا گیا کہ محافظ خاتون کے ناشکرے پن، بے وفائی، حسد اور تلخ رویے کی وجہ سے ان سے عہدہ اور مراعات واپس لے لی گئیں۔
تاہم بیان میں اس کی وضاحت نہیں کی گئی کہ خاتون محافظہ سے عہدہ واپس لیے جانے کے بعد انہیں کہا رکھا گیا اور اس کی بھی وضاحت نہیں کی گئی کہ ان کے اس رویے پر انہیں کوئی سزا دی گئی یا نہیں؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ بادشاہ نے جہاں رواں برس اگست میں اپنی محافظ خاتون کو اعلیٰ شاہی عہدہ دیا تھا، وہیں انہوں نے رواں برس مئی میں اپنی ایک اور محافظ خاتون 41 سالہ سوتھدا ایودھیا سے شادی کرکے انہیں ملکہ کا درجہ دیا تھا۔
بادشاہ ماہا وجیرالونگ کورن اگرچہ 2016 سے والد کی وفات کے بعد تھائی لینڈ کے بادشاہ بنے تھے، تاہم انہوں نے والد کی وفات کے سوگ میں 3 سال بعد رواں برس مئی میں تخت سنبھالا تھا۔
بادشاہ بننے سے قبل وہ ولی عہد تھے اور انہیں بطور ولی عہد رنگین مزاج کا شخص تسلیم کیا جاتا تھا۔
تخت سنبھالے جانے کے بعد اپنی ہی محافظ خاتون سے شادی کرنے سے قبل بھی انہوں نے تین شادیاں کی تھیں اور ان کے 7 بچے بھی ہیں۔

تھائی لینڈ کے بادشاہ نے پہلی شادی اپنے خاندان کی خاتون سے 1977 میں کی جو کئی سال تک جاری رہی اور جوڑے کے ہاں 1978 میں پہلی بچی کی پیدائش بھی ہوئی۔
بادشاہ کی پہلی شادی 2 دہائیوں بعد 1999 میں طلاق پر ختم ہوئی، جس کے بعد بادشاہ نے ایک اداکارہ سے شادی کی۔
ماہا وجیرالونگ کورن نے دوسری شادی پہلی شادی ختم ہونے سے قبل ہی 1995 میں کرلی تھی اور انہیں دوسری اہلیہ سے 5 بچے ہیں اور ان کی شادی محض 2 سال تک ہی چل سکی۔
kikikiki
تھائی لینڈ کے بادشاہ نے تیسری شادی 2010 میں کی اور انہیں تیسری اہلیہ سے بھی ایک بچہ ہے، تاہم ان کی تیسری شادی بھی 2014 میں طلاق پر ختم ہوئی۔
ماہا وجیرالونگ کورن کی تینوں شادیاں بادشاہ بننے سے قبل ہوئی تھیں، جب کہ انہوں نے چوتھی شادی بادشاہ بننے کے بعد اور تخت پر بیٹھنے سے کچھ دن قبل ہی کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button