تین برس بعد بھی خارجہ پالیسی کا تعین کیوں نہ ہو سکا؟

تحریک انصاف کی حکومت کے اقتدار میں تین سال پورے ہونے جا رہے ہیں لیکن ابھی تک فیصلہ سازوں کی جانب سے ملکی خارجہ پالیسی کا تعین نہیں کیا جا سکا اور نہیں پتہ کہ وہ کہاں کھڑی ہے؟
تحریکِ انصاف کی حکومت چوتھے برس میں داخل ہونے کو ہے اور پاکستان کو کئی داخلی اور خارجی چیلنجوں کا سامنا ہے، جن میں معاشی مشکلات، ملکی سیاسی عدم استحکام، کورونا وبا کی روک تھام کے لیے ویکسین کی قلت، پڑوسی ملک افغانستان میں خانہ جنگی اور اس کے ممکنہ اثرات شامل ہیں جبکہ ملک کے جیو اکنامک اہداف کا حصول بھی ممکنات میں نظر نہیں آتا۔ اس کے علاوہ دیگر پڑوسی ملکوں کے ساتھ تعلقات، خطے سے امریکی انخلا کے بعد پیدا ہونے والا خلا، چین کے ساتھ سی پیک سمیت دوطرفہ تعلقات کے معاملات بھی پیچیدہ ہیں۔ کشمیر کے مسئلے پر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ثالثی کی توقع رکھنے والے اب 2 سال سے یومِ استحصال منا کر خود کو تسلی دے رہے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر یہ معاملہ اب سرد خانے کی نذر ہوچکا ہے۔
جو بائیڈن کی صدارت کے آغاز کے ساتھ ہی واشنگٹن کی ترجیحات بدل چکی ہیں اور مشیر قومی سلامتی کے اپنے الفاظ میں امریکی صدر اب بات کرنے کے بھی روادار نظر نہیں آتے۔ ٹرمپ کے ساتھ پُرجوش اور ذاتی تعلقات کے دعویدار پاکستانی حکام امریکا میں بدلتی سیاسی صورتحال اور اس کی ترجیحات کو بھانپنے میں ناکام رہے اور اب وہ یہ بچگانہ دھمکی دینے پر مجبور ہیں کہ اگر امریکی صدر جو بائیڈن پاکستانی قیادت کو نظر انداز کرتے رہے اور عمران خان کو فون نہ کیا تو پاکستان کے پاس اور بھی آپشنز ہیں۔
تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اصل میں وہی ہوا جس کا ڈر تھا کہ سوویت جنگ کے خاتمے کے بعد امریکا ہمیں تنہا چھوڑ کر چلا گیا تھا اور ایک بار پھر ایسا ہونے کا خدشہ ہے۔
افغانستان سے فوجی انخلا کے بعد پاکستان امریکا کی ترجیحی فہرست میں کہیں بہت نیچے جاچکا ہے اور وہ اب امریکا کے مقاصد میں کوئی مدد نہیں کرسکتا۔ امریکی فوجی انخلا کو دنیا کی سپر پاور کی ناکامی تصور کیا جا رہا ہے لیکن اصل میں اب پاکستان کی پالیسی دنیا کے نشانے پر ہے، افغان امن عمل کو ادھورا چھوڑ کر واشنگٹن چلتا بنا اور اب دنیا پاکستان سے کہہ رہی ہے کہ افغان طالبان کو مناؤ، پاکستان اب صفائیاں دینے پر مجبور ہے کہ اس کا طالبان پر زور نہیں چلتا اور وزیرِاعظم عمران خان کہتے ہیں کہ طالبان کو فوجی فتح نظر آ رہی ہے اس لیے اب وہ ہماری بات کیوں سنیں گے؟
امریکا نے افغان امن عمل کی ذمہ داری مکمل طور پر افغانستان اور خطے کے ملکوں پر چھوڑ دی ہے اور اس خلا کو پُر کرنے کے لیے چین، بھارت، ایران اور ترکی بھی میدان میں کود چکے ہیں۔ ان حالات میں پاکستان ابھی تک سمت کا تعین نہیں کر پایا اور خود کو حالات کے دھارے پر چھوڑنے پر مجبور ہو چکا ہے۔
اب اگر افغان طالبان افغانستان پر مکمل قبضہ کر لیتے ہیں تب بھی پاکستان نقصان میں ہوگا اور اس کا اظہار خود حکومتی عہدیدار کرچکے ہیں کہ کالعدم تحریکِ طالبان بھی افغان طالبان کا حصہ ہے اور پاکستان کو اندرونی طور پر خطرات کا سامنا ہے۔ اگر افغان طالبان کابل پر کنٹرول کی جنگ میں ناکام ہوتے ہیں اور طویل خانہ جنگی افغانوں کا مقدر بنتی ہے تب بھی پاکستان خطے میں اس عدم استحکام کا متحمل نہیں ہے۔ پاکستان نے بار بار یقین دہانی کی کوشش کی ہے کہ افغان مسئلے کا حل خود افغان فریقوں نے کرنا ہے اور پاکستان اسٹریٹیجک گہرائی کی پرانی پالیسی سے دستبردار ہوچکا ہے۔ اس کے باوجود کابل کی موجودہ انتظامیہ بدگمانی کا شکار ہے اور اپنے مسائل کا ذمہ دار اسلام آباد کو قرار دیتی ہے۔ افغان طالبان کا کابل پر کنٹرول یا مستقل خانہ جنگی کی صورت میں پاکستان کو ایک بار پھر مہاجرین کے سیلاب کا سامنا کرنا پڑے گا اور اندرونی انتہا پسند گروپوں کے حوصلے بھی بلند ہوں گے، یوں پاکستان اس وقت مشکل حالات سے دوچار ہے اور حکومت کوئی واضح راستہ تلاش کرنے اور روڈمیپ بنانے میں کامیاب نظر نہیں آتی۔
اس نازک موقع پر جمہوریتوں کا اتحاد بنانے کے لیے صدر بائیڈن جمہوری ملکوں کی ایک سربراہ کانفرنس بلانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
چنانچہ امریکا کی نئی ترجیحات اور عزائم کی روشنی میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کے معماروں اور نگہبانوں کو ایک راہ کا تعین کرنا پڑے گا۔ انہیں جمہوریتوں اور آمریتوں کے مقابلے میں سے ایک گروپ کا انتخاب کرنا ہے یا غیر جانبداری اپنا کر پوری دنیا کے ساتھ مل کر ترقی کی راہ اپنانی ہے جس کا فیصلہ کرنا ابھی باقی ہے لیکن خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے ذمہ داروں کی طرف سے یکسوئی بھی نظر نہیں آتی۔ ایک طرف وہ چین کے ساتھ تعلقات کو مزید وسعت دینے کے خواہشمند ہیں اور دوسری طرف وہ جمہوری سربراہ کانفرنس کے دعوت نامے کا بھی بے چینی کے ساتھ انتظار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ صدر بائیڈن سے شکوے شکایات کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
لیکن ایک بات تو واضح ہوگئی ہے کہ امریکا بہادر ایک بار پھر دنیا کو 2 کیمپوں میں تقسیم کرنے کے منصوبے بنا رہا ہے، اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہوتے ہیں۔ امریکا کو بھی شاید یہی انتظار ہے کہ ہم اس پر پوزیشن واضح کریں، اس کے بعد ہی رابطے رکھنے یا نہ رکھنے کا معاملہ طے پائے گا۔
تجزیہ کار کہتے ہیں کہ پاکستان کا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اسے ایک سکیورٹی سٹیٹ بنا دیا گیا ہےلیکن سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اب نئے منظر نامے میں سیکیورٹی کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کا محور اور محرک بنائے رکھنا کافی نہیں ہوگا اور پاکستان کو خارجہ پالیسی کی تشکیلِ نو کرنا پڑے گی۔ دنیا اب یک قطبی نہیں رہی، امریکی ترجیحات بدل چکی ہیں، پاکستان کو خطے میں نئے رابطے اور مواقع تلاش کرنا ہوں گے۔ وسط ایشیائی ریاستوں، روس اور چین کے ساتھ روابط کو مضبوط بنانا ہوگا۔ ویسے بھی امریکی جمہوری اتحاد میں پاکستان کی جگہ بنتی نظر نہیں آتی، اور خطے میں شروع ہونے والی اس نئی کشمکش میں پاکستان اپنے سب سے بڑے ہمسائے چین کے مخالف اتحاد میں شامل ہوکر مفادات کا تحفظ یقینی نہیں بناسکتا۔
