ثاقب نثار آڈیو، پاکستان بار کونسل کا جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ

پاکستان بار کونسل نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے معاملے پر مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آڈیو، ویڈیو سکینڈل کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل ٹروتھ کمیشن تشکیل دیاجائے۔
پاکستان بار کونسل کی طرف سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق آڈیو، ویڈیو سکینڈل کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے، جوڈیشل کمیشن کا سربراہ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس کو مقرر کیا جائے، جوڈیشل کمیشن میں ایک سینیر وکیل، سینئر سیاست دان کو بھی شامل کیا جائے۔اعلامیہ کے مطابق جوڈیشل کمیشن تحقیقات کرکے جائزہ لے کیا ویڈیو، آڈیو سکینڈل کے سبب خود مختار عدلیہ پر سوال اٹھتا ہے، جوڈیشل کمیشن تحقیقات کے بعد سخت کارروائی کیلئے تجاویز دے، نظام عدل پر عوامی اعتماد کی بحالی کیلئے جوڈیشل کمیشن ناگزیر ہے.اعلامیہ کے مطابق پاکستان بار کونسل نے ملک میں بڑھتی مہنگائی پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت نے حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کی مشاورت کے بغیر 33 بل منظور کرائے، جوائنٹ سیشن کے ذریعے قانون سازی پر پاکستان بار کونسل نے تشویش کا اظہار کیا۔اعلامیہ کے مطابق ملک بھر کی نمائندہ بار ایسوسی ایشنز، سول سوسائٹی، میڈیا پرسنز اور سیاسی جماعتوں کو مدعو کرکے کنونشن کا انعقاد کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ اسلام آباد میں وائس چیئرمین خوشدل خان کی زیرصدارت پاکستان بار کونسل کا اجلاس ہوا۔پاکستان بارکونسل نے مطالبہ کیا کہ آڈیو ویڈیو لیکس کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثارپر لگائے گئے الزامات پر ٹروتھ کمیشن بنایا جائے، یہ کمیشن رانا شمیم کے بیان اور آڈیو لیکس کی تحقیقات کرے۔بار کونسل کا کہنا ہےکہ کمیشن میں غیر متنازع وکیل، سول سوسائٹی کا نمائندہ اور صحافیوں کو بھی شامل کیا جائے، کمیشن الزامات کی تحقیقات کرکے سچ عوام کے سامنے لائے۔
وائس چئیرمین پاکستان بار کونسل کا کہنا ہےکہ رانا شمیم کے بیان حلفی اور ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو سے عدالتی ساکھ متاثر ہو رہی ہے، عدالت اپنی ساکھ بچانےکے لیے حقائق سامنےلائے، یہ صرف کمیشن کےقیام سے ممکن ہوسکتا ہے۔

Back to top button