ثاقب نثار کو بے نقاب کرنے والے رانا شمیم کون ہیں؟

نوازشریف اور مریم نواز کو نا اہل کروانے والے سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا داغدار ماضی بے نقاب کرنے والے گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا محمد شمیم قانون میں پی ایچ ڈی کی ڈگری رکھتے ہیں اور اس وقت شہید ذوالفقار علی بھٹو لاء یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ساہیوال سے تعلق رکھنے والے رانا شمیم کا پروفیشنل کیریئر کامیابیوں سے عبارت ہے۔ وہ بار کی سیاست سے لے کر اہم سرکاری اداروں میں قانونی ماہر کے طور پر خدمات انجام دینے کے علاوہ سندھ ہائی کورٹ میں بھی بطور جج کام کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین سے منسلک رہنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ وکلا کمیونٹی اور عدالتی حلقوں میں رانا شمیم اچھی شہرت کے حامل سمجھے جاتے ہیں اور ان کی ساکھ پر کبھی کسی نے سوال نہیں اٹھایا۔
گلگت بلتستان سپریم اپیلٹ کورٹ کے سابق چیف جج جسٹس (ر) رانا محمد شمیم کی جانب سے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بارے میں بیان حلفی میں بیان کیے گئے واقعات کے بعد وہ ہر جانب خبروں اور تجزیوں کا موضوع بن گئے ہیں۔ ان کی طرف سے لگائے گئے الزامات کی صداقت اور قانونی حیثیت کا فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ کرے گی، مگر ایسے میں ان کی ذاتی زندگی اور پس منظر کے بارے میں عام پاکستانی ضرور متجسس ہے۔
اردو نیوز کے مطابق رانا محمد شمیم گلگت بلتستان اپیلٹ کورٹ کے چیف جج کے منصب پر تین برس یعنی ستمبر 2015 سے ستمبر 2018 تک فائز رہے لیکن یہ بات بہت کم لوگوں کے علم میں ہوگی کہ انہوں نے نومبر 2007 سے اگست 2009 تک سندھ ہائی کورٹ کے جج کی حیثیت سے بھی کام کیا ہے۔ رانامحمد شمیم ان درجنوں ججوں میں شامل تھے جن کو سابق صدر پرویز مشرف کی طرف سے نافذ کی گئی ایمرجنسی کے بعد پی سی او کے تحت مختلف ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ میں تعینات کیا گیا تھا۔ پاکستان میں عدلیہ کی بحالی کے بعد 31 جولائی 2009 کو سپریم کورٹ بار کی آئینی درخواست پر ان تمام ججوں کو سپریم کورٹ نے اپنے عہدوں سے ہٹا دیا تھا۔
سندھ ہائی کورٹ کے جج اور گلگت بلتستان کے چیف جج کے علاوہ جسٹس ریٹائرڈ رانا شمیم کا ایک اور تعارف ڈاکٹر رانا محمد شمیم اور شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی آف لاء کا موجودہ وائس چانسلر ہونا ہے۔یہاں انہیں ستمبر 2019 کو تین سال کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔
کراچی میں قائم یہ پبلک سیکٹر یونیورسٹی پاکستان میں قانون کی تعلیم کی پہلی یونیورسٹی بھی ہے۔ یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر رانا شمیم کے ذاتی اور پیشہ ورانہ امور کی تفصیل موجود ہے جس کے مطابق انہوں نے 2006 میں کراچی یونیورسٹی سے قانون میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔
پی ایچ ڈی میں ان کے مقالے کے نگران سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ریٹائرڈ غلام ربانی تھے۔ اس سے قبل وہ فیڈرل اردو یونیورسٹی کے شعبہ قانون کے سربراہ اور فیکلٹی آف لاء کے ڈین کے طور پر بھی کام کرچکے ہیں۔
پنجاب کے شہر ساہیوال میں پیدا ہونے والے رانا محمد شمیم کی تعلیم و تدریس اور پیشہ ورانہ وکالت کا تمام عرصہ کراچی میں بسر ہوا ہے۔ کراچی یونیورسٹی سے 1986 میں ایل ایل ایم کی سند حاصل کرنے سے قبل انہوں نے 1983 میں ڈسٹرکٹ کورٹس اور 1986 میں سندھ ہائی کورٹ میں وکالت کا اجازت نامہ حاصل کیا۔ ماضی میں وہ وکلاء کے منتخب اداروں اور باڈیز کا حصہ بھی رہے ہیں۔ 2005 میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین اور پانچ سال تک پاکستان بار کونسل کے ممبر رہ چکے ہیں۔ بطور وکیل رانا محمد شمیم کی قانونی مصروفیات میں امریکہ اور برطانیہ سمیت بہت سارے یورپی ممالک کے قونصل خانوں اور سفارتی مشنز کے ساتھ لیگل ایڈوائزر کے طور پر منسلک رہنا بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ وہ طویل عرصے تک اقوام متحدہ کے مہاجرین کے ادارے یو این ایچ سی آر کے قانونی مشیر بھی رہ چکے ہیں۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو سے 2011 سے 2014 تک ان کی بحیثیت لیگل ایڈوائزر وابستگی رہی ہے۔ مزید برآں وہ پاکستان کے مرکزی بینک سٹیٹ بینک آف پاکستان سمیت دیگر بڑے کمرشل بینکوں کے ساتھ قانونی معاون کی حیثیت سے منسلک رہ چکے ہیں۔ جنوری 2015 میں انہیں پاکستان میں اخباری صحافت کے متعلقہ ادارے پریس کونسل آف پاکستان کا چیئرمین تعینات کیا گیا مگر صرف نو ماہ بعد انہیں گلگت بلتستان کی سپریم اپیلٹ کورٹ کا چیف جج بنا دیا گیا۔
گلگت بلتستان ایمپاورمنٹ آرڈر 2009 کے تحت قائم یہ عدالت گلگت بلتستان کی چیف کورٹ کے فیصلوں کے خلاف اپیل کورٹ کے طور پر کام کرتی ہے۔ گلگت بلتستان کے چیف جج کا تقرر وفاقی وزارت امور کشمیر اور گلگت بلتستان اور وزارت قانون کی سفارش پر وزیر اعظم پاکستان بحیثیت چیئرمین گلگت بلتستان کونسل کرتے ہیں۔
