ثاقب نثار نے رانا شمیم کے خلاف بیان پر یوٹرن لے لیا


سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اپنے پچھلے مؤقف سے یو ٹرن لیتے ہوئے کہا ہے کہ ان پر الزام لگانے والے جسٹس رانا شمیم کا یہ موقف درست ہے کہ پاکستان کے چیف جسٹس سپریم کورٹ کو گلگت بلتستان کے کسی بھی جج یا چیف جسٹس کی ایکسٹینشن کا اختیار حاصل نہیں، لیکن سچ یہ ہے کہ میں نے ایسی بات کی ہی نہیں تھی اور اسے غلط طور پر مجھ سے منسوب کیا گیا ہے۔
جسٹس ثاقب نثار نے سینئیر صحافی غریدہ فاروقی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ رانا شمیم ٹھیک کہہ رہے ہیں، انہیں ایکسٹینشن دینا میرے اختیار میں نہیں تھا۔ میں نے ان سے متعلق ایکسٹینشن والی بات نہیں کی۔ میرا موقف غلط طرح سے پیش کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے غریدہ فاروقی نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ “سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سے کچھ ہی دیر پہلے بات ہوئی۔ میں نے انہیں اپنے پروگرام میں آ کر اپنا موقف بیان کرنے کی دعوت دی۔ ان کا کہنا تھا وہ ٹی وی پر آ کر بات نہیں کرنا چاہتے۔ ان کا کہنا تھا ججز کو ٹی وی پر نہیں آنا چاہئیے۔ خود سے منسوب رانا شمیم کی ایکسٹینشن والی بات کی بھی انہوں نے تردید کر دی!!!!”
غریدہ فاروقی نے مزید لکھا کہ "ثاقب نثار نے کہا ہے کہ رانا شمیم ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ انہیں ایکسٹینشن دینا میرے اختیار میں نہیں تھا۔ ثاقب نثار نے کہا میں نے یہ نہیں کہا کہ توسیع میں نے دینی تھی۔ میرا موقف غلط quote کیا گیا۔” غریدہ فاروقی نے کہا کہ سابق چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ رانا شمیم نے اپنے دور میں کچھ ایسے فیصلے کیے تھے جو غیرقانونی تھے اور پاکستان کی territorial jurisdiction پر apply نہیں ہوتے تھے۔ یہ فیصلے سپریم کورٹ میں چیلنج ہوئے؛ میں نے ان فیصلوں کو suspend کر دیا۔ بعد میں ان کی اہلیہ کی وفات پر تعزیت کے موقع پر پہلی بار رانا شمیم نے مجھ سے کہا کہ فیڈرل گورنمنٹ مجھے ایکسٹینشن دے رہی تھی لیکن آپ کی طرف سے observations اور فیصلوں کو suspend کیے جانے کی وجہ سے مجھے ایکسٹینشن نہیں مل سکی۔
غریدہ فاروقی نے مزید لکھا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سے آج گفتگو میں رانا شمیم کیساتھ گلگت بلتستان میں ہوئی ملاقات بارے پوچھا تو انہوں نے تصدیق کی کہ بالکل یہ ملاقات ہوئی کیونکہ رانا شمیم کا گھر اور ریسٹ ہاؤس ساتھ ساتھ ہی ہیں، چائے بھی پی، لیکن یہہ دورہ نجی تھا؛ اور باقی باتیں جھوٹ ہیں۔
دوسری جانب گلگت بلتستان سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس رانا شمیم نے کہا ہے کہ ‘میں اپنی باتوں پر قائم ہوں، ثاقب نثار کون ہوتے ہیں مجھے توسیع دینے والے؟’ انہوں نے سابق چیف جسٹس کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ثاقب نثار گلگت میں میرے مہمان بنے تھے، لیکن قانون کے مطابق ان کے پاس مجھے توسیع دینے کا اختیار ہی نہیں تھا۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے رانا شمیم کی جانب سے خود پر لگائے گئے الزامات کا دفاع کرتے ہوئے جسٹس ثاقب نثار نے کہا تھا کہ رانا شمیم بطور چیف جسٹس گلگت بلتستان ایکسٹینشن مانگ رہے تھے جو میں نے منظورنہیں کی۔ ںکا۔کہنا تھا کہ ایک مرتبہ رانا شمیم نے مجھ سے توسیع نا دینے کا شکوہ بھی کیا تھا۔ تاہم اب ثاقب نثار اس موقف پر یوٹرن لے کر فرار ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب رانا شمیم۔کا کہنا ہے کہ میں اپنی کہی گئی تمام باتوں پر قائم ہوں۔ مجھے ملازمت میں توسیع مانگنے کی کوئی ضرورت محسوس ہی نہیں ہوئی اور ثاقب نثارکے پاس قانون کے مطابق مجھے توسیع دینے کا اختیار ہی نہیں تھا، ثاقب نثار کون ہوتے ہیں مجھے توسیع دینے والے؟
رانا شمیم نے کہا کہ انہوں نے ثاقب نثار کے بارے میں حلف نامہ کب اور کس کو دیا یہ ابھی نہیں بتایا جا سکتا لیکن آئین کے مطابق گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی سپریم کورٹس، سپریم کورٹ آف پاکستان کے ماتحت نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کو ایکسٹینشن دینا وزیراعظم کا اختیار ہے، میں کوئی سیاسی شخصیت نہیں جو سیاسی بیانات دوں، جو بھی حقائق معلوم تھے سامنے لے آیا۔
دوسری جانب 16 نومبر کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم کے بیان حلفی پر خبر شائع ہونے کے معاملے پر جنگ گروپ کے صحافی انصار عباسی، میر شکیل اور رانا شمیم کے خلاف باقاعدہ توہین عدالت کی کارروئی شروع کرنے کا فیصلہ سُنایا۔ عدالت نے انصار عباسی اور سابق جج رانا شمیم سمیت فریقین کو شوکاز نوٹسز جاری کرتے ہوئے سات دن میں جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 26 نومبر تک ملتوی کر دی۔ سماعت کے دوران جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ’یہ تنقید نہیں بلکہ عدالت پر حملہ ہے، اہم حقائق کو جانچے بغیر ایک اتنے بڑے اخبار نے یہ حلف نامہ دے دیا۔‘ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ہمارا احتساب ضرور کریں مگر نظام عدل کے رستے میں رکاوٹ نہ بنیں۔
یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کے نواز شریف اور مریم نواز کی ضمانت کیس پر اثرانداز ہونے کے دعوے کا نوٹس لیتے ہوئے سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم سمیت صحافی انصار عباسی اور جنگ اور جیو گروپ کی انتظامیہ کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا تھا۔ اس سے پہلے سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار گلگت بلتستان کے سابق چیف جسٹس رانا شمیم کی طرف سے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز کو 2018 کے عام انتخابات سے قبل ضمانت نہ دینے پر اصرار کرنے کے دعوے کی تردید کر چکے ہیں۔ تاہم الزام لگانے والے رانا شمیم اپنے موقف پر قائم ہیں اور وہ امریکہ سے پاکستان واپس پہنچ گئے ہیں تاکہ کیس کی اگلی سماعت میں عدالت کے سامنے پیش ہو سکیں۔

Back to top button