مونس الٰہی کا جھوٹ پکڑا گیا، بیرون ملک اثاثے سامنے آ گئے

برطانوی نشریاتی ادارہ یعنی بی بی سی اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کے صاحبزادے وفاقی وزیر چوہدری مونس الہٰی کی بیرون ملک آف شور کمپنی اور اثاثوں کے دستاویزی ثبوت سامنے لے آیا ہے جس سے ایک نیا پینڈورا باکس کھل گیا ہے۔
پینڈورا پیپرز نے کچھ عرصہ پہلے پاکستانیوں کی آف شور کمپنیوں اور انکے بیرون ملک اثاثوں کے بارے جو پینڈورا باکس کھولا تھا اس میں بھی مونس الٰہی کا نام آیا تھا لیکن انہوں نے تمام تر الزامات کی سختی سے تردید کر دی تھی۔ تاہم اب بی بی سی نے ان الزامات کے دستاویزی ثبوت حاصل کر لیے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ امیر اور طاقتور لوگ کیسے اپنی دولت بیرون ملک جائیدادوں اور آف شور کمپنیوں میں چھپاتے ہیں۔ یاد رہے کہ گجرات کے چوہدریوں کی بنائی ہوئی قاف لیگ عمران حکومت کی وفاق اور پنجاب میں اتحادی ہے۔
پینڈورا پیپرز میں 700 بااثر پاکستانیوں کے نام شامل تھے۔ تب وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ وہ اپنی قریبی حلقے میں شامل افراد سمیت اس لسٹ میں شامل ہر شخص کی تفتیش کریں گے۔ لیکن اس حوالے سے ابھی تک مکمل خاموشی تھی۔ جب بی بی سی نے وزیر اعظم کے دفتر سے پینڈورا پیپرز کی تفتیش بارے اپ ڈیٹ لینے کے لیے رابطہ کیا تو بتایا گیا کہ عمران خان نے وزیر اعظم انسپیکشن ٹیم کے سربراہ، احمد یار ہراج، کی قیادت میں ایک خصوصی کمیٹی بنائی ہے جو پینڈورا پیپرز میں شامل پاکستانیوں کے بارے میں تفتیش کرے گی۔
اس خصوصی ٹیم میں نیب، ایف آئی اے، ایف بی آر اور آئی ایس آئی کے حکام شامل ہیں۔ ٹیکس کے معاملات ایف بی آر ڈیل کرے گی اور ممکنہ طور پر منی لانڈرنگ اور غیر قانونی طور پر کمائی گئی دولت کے معاملات ایف آئی اے اور نیب دیکھیں گے۔
لیکن بی بی سی کی تازہ ترین دستاویزی رپورٹ سے لگتا ہے کہ اگر یہ کمیشن غیر جانبدارانہ تحقیقات کرتا رہا تو عمران خان کی اپنی حکومت کے بہت سارے اہم لوگ مشکلات کا شکار ہو جائیں گے۔ خیال رہے کہ کپتان حکومت ایک نازک سیاسی اتحاد پر قائم ہے جس میں مسلم لیگ ق سمیت کچھ چھوٹی سیاسی جماعتیں شامل ہیں۔ وزیر اعظم کے وزیر آبی وسائل وزیر مونس الہی اس جماعت کے اہم رکن ہیں اور شاید ان تحقیقات کی خبر ملنے کے بعد ہی گجرات کے چوہدری دوبارہ سے وزیر اعظم سے اظہارناراضی کر رہے ہیں۔
مونس الہی کا نام پینڈورا پیپرز میں کئی بار آیا ہے لیکن وہ دو ٹوک انداز میں انکار کرتے ہیں کہ انھوں نے کچھ غلط کیا ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسکے نمائندے کو پینڈورا پیپرز کی فائلوں تک رسائی کے دوران جوکچھ نظر آیا وہ مونس الہی کے دعوؤں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ یاد رہے کہ انٹرنیشنل کنسورشیم آف جرنلسٹس یا آئی سی آئی جے کو لیک ہونے والی 12 ملین دستاویزات ملیں جس کے بعد دنیا کی تاریخ کی ایک بڑی انویسٹیگیشن ہوئی۔ آئی سی آئی جے نے بی بی سی کو مونس سے متعلق دستاویزات کو پہلی بار پبلک کرنے کی خصوصی اجازت دی ہے۔
پینڈورا پیپرز میں خود پر لگنے والے الزامات کے بعد مونس الہی نے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ ’میری کوئی آف شور کمپنی نہیں اور نہ ہی میرے ایسے اثاثے ہیں جو میں نے ڈکلیئر نہیں کیے۔ میں اس سے متضاد تمام دعوؤں کو مسترد کرتا ہوں۔‘ وفاقی وزیر برائے آبی وسائل کو امید تھی کہ یہ ٹویٹ ان پر لگنے والے ان الزامات کو ختم کر دے گی کہ وہ ایک ایسی ڈیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کو خفیہ آف شور ٹرسٹ میں رکھنے کا ارادہ رکھتے تھے جو ایک کرپٹ بزنس ڈیل ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ وہ فنڈ پاکستانی ٹیکس حکام سے چھپانے اور اپنے خاندان کے اثاثے قانون کے تقاضوں کے برعکس ڈکلیئر نہ کرنے کا بھی ارادہ رکھتے تھے۔ سوال یہ ہے کہ اس بارے شواہد ہیں کیا؟
اپنی ٹویٹ میں مونس الہی کہتے ہیں کہ ان کی کوئی آف شور کمپنی نہیں۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ وہ یہ نہیں کہہ رہے کہ ان کی کبھی بھی کوئی ایسی کمپنی نہیں تھی۔ پہلی دستاویز جس کا بی بی سی نے معائنہ کیا وہ 7 جنوری سنہ 2016 کی ہے۔ یہ مونس الہی کی سنگاپور کی ایک ویلتھ مینجمنٹ فرم کے ساتھ آف شور ٹرسٹ قائم کرنے کی خواہش کے بارے میں میٹنگ کا میمو ہے۔ لیک ہونے والے میمو سے اندازہ ہوتا ہے کہ مونس الہی پاکستان میں زمین کی فروخت سے حاصل ہونے والے 33 ملین ڈالر سے ’ونتھروپ‘ کے نام سے خفیہ آف شور ٹرسٹ قائم کرنا چاہتے تھے۔
پلان یہ تھا کہ ونتھروپ رحیم یار خان شوگر ملز میں 24 فیصد حصص خریدے گی جس کے بارے میں مونس الہی نے ویلتھ مینیجمنٹ کمپنی کو بتایا تھا کہ وہ اس کمپنی میں پراکسی کے ذریعے 22 فیصد حصص رکھتے ہیں۔ اس دستاویز سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ مونس الہی کی مالیت 20 ملین ڈالر تھی جس میں سے صرف 6 ملین ڈالر اس وقت پاکستان میں تھے۔
بی بی سی نے مونس الہی سے جاننا چاہا کہ وہ اپنا کیش آف شور ٹرسٹ میں کیوں چھپانا چاہتے تھے لیکن انھوں نے جواب نہیں دیا۔ان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ انھوں نے رحیم یار خان شوگر ملز میں اپنے شیئر گمنام کیوں رکھے اور اس کا بھی جواب نہیں ملا۔ بی بی سی نے ان سے یہ بھی پوچھا کہ وہ براہ راست رحیم یار خان شوگر ملز میں مزید شیئر خریدنے کے بجائے اپنے ونتھروپ ٹرسٹ کے ذریعے کیوں خریدنا چاہتے تھے لیکن انھوں نے جواب نہیں دیا۔
دوسری دستاویز بھی ایک اور میمو ہے اور یہ ویلتھ مینجمنٹ کمپنی کے ایک اہلکار اور مونس الہی کے درمیان 29 اگست سنہ 2017 کی فون کال کے بارے میں ہے۔ اس دوسری دستاویز میں لکھا ہے کہ مونس الہی ویلتھ مینجمنٹ کمپنی کی طرف سے بنائے گئے دو آف شور اکاؤنٹ، ونتھروپ جس کا پہلے ذکر ہو چکا ہے اور گرین ہلز، بند کرنا چاہتے تھے۔
اس کی وجہ یہ لکھی گئی ہے کہ ’مونس الہی کو ان اثاثوں کے بارے میں حکومت پاکستان کو آگاہ کرنے کے سی آر ایس رپورٹنگ کے تقاضوں کے بارے میں تشویش ہے۔‘
سی آر ایس یا ’کامن رپورٹنگ سٹینڈرڈ‘ ایک معاہدہ ہے جس کا پاکستان بھی حصہ ہے۔ اس کا مقصد سرحد پار ٹیکس کی عدم ادائیگی روکنا اور بین الاقوامی طور پر ٹیکس قوانین پر عمل درآمد یقینی بنانا ہے۔ اس دستاویز میں مزید لکھا ہے کہ قانونی مشورہ ملنے کے بعد فنڈ اپنی آف شور کمپنیوں کو منتقل کرنے کی بجائے انھوں نے برطانیہ میں، جہاں ان کی اہلیہ اور بچے رہتے ہیں، ایک ادارہ قائم کیا جس کا بظاہر ان سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
دونوں آف شور اکاؤنٹ، ونتھروپ اور گرین ہلز، بند کر دیے گئے تھے اور مونس الہی کو سنگاپور کی ویلتھ مینجمنٹ کمپنی کی طرف سے سات ہزار ڈالر کا بل پیش کیا گیا جو ایک کمپنی L089 نے ادا کر دیا۔ اس کمپنی کا آگے چل کر مزید ذکر آئے گا۔
بی بی سی کے مطابق اب تک ان دستاویزات سے معلوم ہوا کہ مونس الہی نے اپنے غیر ملکی اثاثوں میں پیسے نہیں ڈالے اور نہ ہی ان کو الیکشن کمیشن میں ڈکلیئر کیا، تو پھر سوال یہ ہے کہ ان کا کیش کدھر گیا؟ اس کے بارے میں یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ بی بی سی کا نمائندہ اپنی رپورٹ میں کہتا ہے کہ لیکن اب ہم لندن میں دریائے ٹیمز کے کنارے ایک خوبصورت اپارٹمنٹ بلاک ’رِیور لائیٹ کی‘ کا رخ کرتے ہیں کیونکہ ہوسکتا ہے کہ یہ فلیٹ اسی رقم سے خریدا گیا ہو۔ پینڈورا کی ایک دستاویز دکھاتی ہے کہ ماضی میں سات ہزار ڈالر کا بل ادا کرنے والی کمپنی L089 نے کئی ملین پاؤنڈ مالیت کی یہ پراپرٹی 2015 میں خریدی تھی۔
بعد ازاں 23 جون سنہ 2017 کو دریائے ٹیمز والا گھر ایک اور کمپنی JSR 81 Ltd کو منتقل ہو گیا۔ لیکن قیمت والی دستاویز پر لکھا ہے کہ ’یہ منتقلی پیسے یا کسی ایسی چیز کے بدلے نہیں کی گئی جس کی کوئی قیمت ہو سکتی ہے۔‘ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ لینڈ رجسٹری کے ایک اور دستاویز سے معلوم ہوتا ہے کہ اس اپارٹمنٹ کی لیزہولڈ کی قیمت سنہ 2015 میں تقریباً 54 لاکھ پاؤنڈ ہے۔ اب اندازوں کے مطابق اس اپارٹمنٹ کی قیمت تقریباً 80 لاکھ پاؤنڈ ہے۔ جو چیز ان دستاویزات کو اہم بناتی ہے وہ یہ ہے کہ JSR 81 Ltd نامی کمپنی جس نے پچاس لاکھ پاؤنڈ سے زیادہ مالیت کے لندن کے اس اپارٹمنٹ کو بغیر کسی ادائیگی کے حاصل کیا اس کمپنی کی مالک مونس الہی کی اہلیہ تہریم الہی ہیں۔ اس دستاویز سے معلوم ہوتا ہے کہ تہریم الہی سنہ 2018 میں اس پراپرٹی کی مالک تھیں۔ برطانیہ میں کمپنیز ہاؤس کے ریکارڈ کے مطابق وہ مارچ سنہ 2017 سے اس کمپنی کے 75 فیصد شیئر کی مالک تھیں۔ اسکے علاوہ کمپنی کے انکارپوریشن ڈاکیومنٹ کے مطابق سنہ 2017 میں کمپنی کی ابتدائی مالکن بھی وہی تھیں۔ اس دستاویز میں ملنے والی معلومات تب اہم ترین ہو جاتی ہیں جب اسے کچھ اور دستاویزات کے ساتھ ملا کر پڑھا جاتا ہے جن کا عنوان ہے ’اثاثوں اور واجبات کی تفصیل‘ جس پر جون سنہ 2018 میں دستخط ہوئے اور لکھا گیا کہ یہ 30 جون سنہ 2017 تک بالکل درست ہے۔
اثاثوں کے بارے میں 30 جون سنہ 2017 کی تفصیل میں رحیم یار خان شوگر ملز کے ان حصص کا ذکر نہیں جس کے بارے میں مونس الہی نے ویلتھ مینجمنٹ کمپنی کو بتایا تھا کہ وہ ایک پراکسی کے ذریعے ان کی ملکیت ہیں اور نہ لندن کی اس پراپرٹی کا جو ان کی اہلیہ کی ایک کمپنی کی تھی۔
بی بی سی نے مونس الہی سے ان اثاثوں کو ڈکلیئر نہ کرنے کے بارے میں پوچھا لیکن انھوں نے اس کا جواب نہیں دیا۔ تاہم اگر مونس الہی ان الزامات کو واقعی واپس پینڈورا باکس میں بند کرنا چاہتے ہیں تو انھیں ان سوالات کے جواب دینے ہوں گے۔
