جاوید کو توسیع نہ ملی تو اگلا چیئرمین نیب کون ہوگا

معلوم ہوا ہے کہ اگر حکومت جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کو بطور چیئرمین نیب توسیع دلوانے میں کامیاب نہ رہی تو ان کی جگہ جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید شیخ یا موجودہ ڈپٹی چیئرمین نیب حسین اصغر کو اس اہم عہدے پر لانے کی کوشش کی جائے گی تاکہ اپوزیشن قیادت کے نام نہاد احتساب کا سلسلہ اسی رفتار سے جاری رہے۔

یاد رہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی گڈ بکس میں شمار ہونے والے سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید کو کپتان حکومت نے پہلے براڈ شیٹ انکوائری کمیشن کا سربراہ لگایا گیا تھا۔ اپوزیشن قیادت کو ان کے نام پر اس لئے اعتراض ہے کہ وہ عمران خان کے ملکیتی شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال کے بورڈ آف گورنرز کا حصہ ہیں اور وزیر اعظم کے قریب ہیں۔ یاد رہے کہ رواں برس 22 جنوری کو حکومت نے براڈ شیٹ کے معاملے کی تحقیقات کے لیے تین رکنی انکوائری کمیٹی کی سربراہی عدالت عظمیٰ کے سابق جج جسٹس عظمت سعید شیخ کو سونپی تھی۔ حکومت کا موقف تھا کہ جسٹس شیخ عظمت سعید کارپوریٹ لا کے اچھے وکیل رہے ہیں اس لیے ان کی تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ کے طور پر تعیناتی سے اس معاملے کی تہہ تک پہنچنے میں مدد ملے گی۔ تاہم تب بھی اپوزیشن کی جانب سے یہ اعتراض سامنے آیا تھا کہ جب 2000 میں براڈ شیٹ اور نیب کے درمیان نواز شریف اور دیگر سیاستدانوں کی جائیدادوں کا سراغ لگانے کے حوالے سے معاہدہ ہوا تھا تو اس وقت جسٹس (ر) شیخ عظمت سعید نیب میں ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل تھے لہذا یہ مفادات کا ٹکراؤ ہے۔

جسٹس عظمت سعید شیخ کو براڈ شیٹ کمیشن کا سربراہ لگائے جانے کے بعد نواز شریف کے بیٹے حسین نواز نے بھی ان پر سنگین الزامات عائد کیے تھے۔ یاد رہے کہ جسٹس عظمت سعید کو 2004 میں لاہور ہائی کورٹ میں ایڈہاک جج اور 2005 میں مستقل جج لگا دیا گیا تھا۔ 2011 میں وہ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بن گئے تھے۔جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید اس پانچ رکنی بینچ کا حصہ بھی تھے جس نے پاناما کیس کا فیصلہ دیا تھا۔ وہ ان ججوں میں شامل تھے جنھوں نے نواز شریف کے خلاف پاناما لیکس میں عمران خان کی درخواست کے فیصلے میں وزیراعظم کی فوری نااہلی کی بجائے ایجنسیوں کے نمائندوں پر مبنی ایک جے آئی ٹی تشکیل کا فیصلہ دیا تھا۔

ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے جسٹس جاوید اقبال کے جانشین کے طور جسٹس عظمت شیخ کے علاوہ ڈپٹی چیئرمین نیب حسین اصغر کے نام پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ حسین اصغر کے خلاف 30 کروڑ روپے کی کرپشن کا الزام ہے۔ کچھ عرصہ قبل ایک شہری نے نیب چیئرمین کو درخواست دی تھی کہ حسین اصغر اور سی پی ایل سی جنوبی کراچی کے چیئرمین مراد سونی نے مل کر کالے دھن کو سفید کیا اور کروڑوں روپے کی کرپشن کی۔ ڈی جی نیب لاہور کو تحریری درخواست میں بتایا گیا تھا کہ 17-2016 میں حسین اصغر پنجاب کانسٹیبلری کے سربراہ تھے۔ تب کے آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے ادارے کے کھاتوں میں 30 کروڑ روپے کرپشن کی نشاندہی کی تھی۔ ڈی جی نیب لاہور نے حکام سے اس الزام کی تحقیقات کی اجازت مانگی تھی مگر کیونکہ حسین اصغر کو عمران خان کا قریبی خیال کیا جاتا ہے اس لیے انکوائری کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

Back to top button