جبری لاپتہ سارنگ جویو گھرواپس پہنچ گئے، حالت خراب

سندھی زبان کے معروف ادیب اور مصنف تاج جویو کے اپنے بیٹے سارنگ جویو کی گمشدگی سمیت دیگر اعتراضات کی بنا پر صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی قبول کرنے سے انکار کے بعد سندھ سے لاپتہ ہونے والے افراد کی بازیابی کے لیے ان کے لواحقین سمیت کئی ماہ سے کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاج کرنے والے یونیورسٹی استاد سارنگ جویو تقریباً ایک ہفتہ لاپتہ رہنے کے بعد گھر واپس پہنچ گئے ہیں۔ شدید جسمانی اور ذہنی تشدد کی وجہ سے ان کی حالت خراب بتائی جا رہی ہے۔
سارنگ جویو 11 اگست کو کراچی کے علاقے اختر کالونی سے لاپتہ ہوگئے تھے تاہم 16 اگست کو ایک ہفتے کی گمشدگی کے بعد گھر واپس پہنچ گئے ہیں۔ پینتیس سالہ سارنگ جویو سندھ کے نامور ادیب اور قوم پرست رہنما تاج جویو کے بیٹے اور دو بیٹیوں کے والد ہیں جبکہ وہ زیبسٹ یونیورسٹی کراچی کے سندھ ابھیاس اکیڈمی شعبے میں ریسرچ ایسوسی ایٹ کے طور پر کام کررہے ہیں۔
سارنگ جویو کے والد تاج جویو کا اپنے بیٹے کی گھر واپسی کی تصدیق کرتے ہوئے کہنا ہے کہ: ‘سارنگ جویو کو گیارہ اگست رات ڈیڑھ بجے کے قریب گھر سے اٹھایا گیا تھا جبکہ 17 اگست کی رات ڈیڑھ بجے ہی ان کو رہا کیا گیا ہے۔ انہیں جب اٹھایا گیا تھا تو ان کی جیب میں 1500 روپے تھے، رہائی سے قبل انہیں اٹھانے والوں نے 1500 روپے دے کر ان کے پیسے دوگنے کردیے اور انہیں رہا کردیا، وہ ٹیکسی پکڑ کر گھر پہنچ گئے۔ تاج جویو کے مطابق: ‘سارنگ جویو پر شدید ذہنی اور جسمانی تشدد کیا گیا ہے، ان کی حالت خراب ہے، ہم نے ڈاکٹر سے بات کی ہے، ڈاکٹر کے مطابق سارنگ کو علاج کے ساتھ کچھ دن سخت آرام کی ضرورت ہے۔ ایک سوال کے جواب میں تاج جویو نے کہا کہ ان کے بیٹے سارنگ جویو کی واپسی کے باوجود وہ احتجاج بند نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا: ‘یہ احتجاج صرف میرے بیٹے کے لیے نہیں تھا، سندھ سے اٹھائے گئے سب نوجوان میرے بیٹے ہیں، میں تو ان کی بازیابی کے لیے احتجاج کرہا تھا ۔ اس دوران میرے بیٹے کو اٹھایا گیا تھا، جو اب واپس آگئے ہیں، مگر ہم اس وقت تک احتجاج جاری رکھیں گے جب تک آخری جبری گمشدہ فرد واپس نہیں آجاتا۔
دوسری جانب سارنگ جویو کی اہلیہ سوہنی جویو کا کہنا ہے کہ ‘سارنگ واپس تو آگئے ہیں، مگر ان کی حالت خراب ہے، وہ اس پوزیشن میں نہیں کہ کسی سے بات کرسکیں۔’
خیال رہے کہ 14 اگست کو صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے 184 ملکی اور غیر ملکی شخصیات کے لیے کئی سول تمغوں کا اعلان کیا تھا، جنہیں اپنے شعبوں میں عمدہ کارکردگی اور بہترین خدمات کے بدلے 23 مارچ کو یوم پاکستان پر منعقدہ ایک تقریب میں تمغوں سے نوازا جائے گا۔ صدر مملکت کی جانب سے گلوکار محمد علی شہکی، ادیب ماہتاب محبوب، اداکارہ سکینہ سموں، ہمایوں سعید اور دیگر شخصیات سمیت تاج جویو کو بھی ‘صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی’ کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔ تاہم تاج جویو نے یہ کہہ کر صدارتی تمغہ لینے سے انکار کردیا ہے کہ ان کے بیٹے سارنگ سمیت سندھ کے متعدد نوجوانوں کو جبری طور پر گمشدہ کردیا گیا ہے، ایسے میں وہ کس طرح ایوارڈ لے سکتے ہیں۔ تاج جویو کا مزید کہنا تھا کہ انھوں نے صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی صرف اپنے بیٹے سارنگ جویو کی مبینہ جبری گمشدگی کی وجہ سے نہیں بلکہ سندھ کے ساتھ ہونے والی ’دیگر ناانصافیوں‘ کی وجہ سے بھی مسترد کیا ہے۔
واضح رہے کہ تاج جویو کے مطابق 11 اگست کی رات ڈیڑھ بجے پولیس اور رینجرز کی متعدد گاڑیوں نے اختر کالونی میں پلازا کا گھیراؤ کیا اور سی سی ٹی وی کیمرے توڑ دیے، اس کے بعد 10 کے قریب پولیس اور سادہ لباس میں نقاب پوش اہلکار سارنگ کے کرائے پر گھر کا دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوگئے۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ سارنگ کے چھوٹے بچوں کو تھپڑ مارے گئے اور ان کی اہلیہ کو بھی کمرے میں بند کر دیا گیا۔ انھوں نے بتایا تھا کہ اہلکار اس دوران ان کی الماریاں توڑ کر ان کا بیگ، موبائل، کمپیوٹر اور کتابیں اٹھا کر لے گئے ہیں جبکہ اس دوران پورا پلازا 50 کے قریب پولیس اور رینجرز اہلکاروں کے گھیراؤ میں تھا۔تاج جویو نے بتایا تھا کہ واقعے کے بعد ان کا خاندان ایف آئی آر درج کروانے کے لیے محمود آباد تھانے گیا جہاں ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں نے ایف آئی آر درج کرنے میں لیت و لعل سے کام لیا، جس کے بعد انھیں ہائی کورٹ میں درخواست دینی پڑی۔ انھوں نے بتایا کہ ہائی کورٹ میں پٹیشن کے بعد سارنگ کی اہلیہ سہنی جویو کی مدعیت میں ایف آئی آر درج کی گئی۔نامور ادیب تاج جویو نے الزام عائد کیا تھا کہ ان کے بیٹے سارنگ جویو کو سندھ کے مسائل پر آواز اٹھانے کی ‘سزا دینے’ کے لیے گرفتار کیا گیا ہے۔ وہ سندھ سے لاپتہ افراد کی بازیابی سمیت غیر مقامی افراد کے سندھ کے ڈومیسائل بننے، اور مردم شماری وغیرہ سمیت کئی دیگر مسائل کے حوالے سے بھی سرگرم تھے۔ان کا الزام تھا کہ انھیں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حراست میں لیا، تاہم سرکاری طور پر اس کی کوئی باضابطہ تصدیق یا تردید نہیں کی گئی تھی۔
سارنگ جویو کی گمشدگی کے بعد سندھ میں شدید احتجاج کیا گیا تھا۔ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاج کرنے والوں نے گورنر ہاؤس کی جانب جانے کی کوشش بھی کی تھی جس دوران ان کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں تھیں۔
خیال رہے کہ سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی تاج جویو کے بیٹے سارنگ جویو کی گمشدگی کا معاملہ اپنے 17 اگست کے اجلاس میں اٹھانے کا فیصلہ کرتے ہوئے اجلاس میں چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کو بطور چیئرمین لاپتہ افراد کمیشن اور آئی جی پولیس سندھ مشتاق احمد مہر کو طلب کیا تھا۔ تاہم اجلاس سے قبل ہی سارنگ جویو کو چھوڑ دیا گیا ہے۔تاہم سندھ سے جبری طور پر لاپتہ کیے گئے افراد کی بازیابی کے لیے جدوجہد کرنے والی تنظیم وائس فار مسنگ پرسنز آف سندھ کی کنوینر سسی لوہار کے مطابق اب تک سندھ سے 70 سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔
واضح رہے کہ سنہ 2015 میں ان کے بیٹے راجہ داہر کی گمشدگی عمل میں آئی اور پھر تقریباً ڈیڑھ ماہ لاپتہ رہنے کے بعد جولائی 2015 میں ان کی تشدد زدہ لاش کراچی میں سپر ہائی وے کے قریب سے ملی تھی۔
خیال رہے کہ تاج محمد جویو کا تعلق سندھ کے ضلع نوابشاہ حالیہ شہید بینظیرآباد سے ہے۔ سنہ 1972 میں پرائمری استاد کے طور پر اپنے تدریسی کریئر کا آغاز کرنے کے بعد سے وہ سندھ کے مختلف تعلیمی اداروں میں پڑھاتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ سندھی زبان کی ترویج و ترقی کے لیے قائم کیے گئے ادارے سندھی لینگویج اتھارٹی (ایس ایل اے) کے سیکریٹری بھی رہ چکے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ تاج جویو سندھی ادبی سنگت کے سیکریٹری جنرل، سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن (سپلا) کے پریس اور کلچرل سیکریٹری، لوک ورثہ بورڈ اسلام آباد اور سندھ یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ آف سندھالوجی کے مشاورتی بورڈز کے ممبر بھی رہ چکے ہیں۔وہ مشہور صوفی شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی پر شائع ہونے والے تحقیقی مقالوں کو کتابی صورت میں بھی ترتیب دے چکے ہیں۔سندھ کے مشہور دانشور اور قوم پرست شخصیت سائیں جی ایم سید اور ان کے خاندان کے ساتھ بھی تاج جویو کی سیاسی اور ادبی وابستگی رہی ہے۔
