جب پہلی بار اسٹیبلشمنٹ نے نواز شریف کو گھر بھجوایا

بینظیر بھٹو کی حکومت کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کے قائم کردہ نو جماعتی الائنس اسلامی جمہوری اتحاد نے 1990 کے انتخابات میں کامیابی تو حاصل کر لی لیکن کچھ ہی عرصے بعد فوجی اسٹیبلشمنٹ نے اختلافات پیدا ہونے کے بعد وزیر اعظم نواز شریف کو بھی اقتدار سے نکالنے کی سازشیں شروع کردیں۔ اگرچہ نوازشریف نے مزاحمت کرتے ہوئے ایوانِ صدر کو سازشیوں کی آماجگاہ قرار دیا اور ڈکٹیشن نہ لینے کا اعلان کیا لیکن بالآخر تب کے آرمی چیف جنرل عبدالوحید کاکڑ نے نواز شریف اور صدر غلام اسحاق خان دونوں کو گھر جانے پر مجبور کر دیا۔
یہ ذکر ہے چھ اگست 1990 کا، جب صدر پاکستان غلام اسحاق خان نے بدعنوانی اور لاقانونیت کے الزامات عائد کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان بے نظیر بھٹو کی حکومت آئین کے آرٹیکل 58 (2) بی کے تحت برطرف کر دی اور غلام مصطفیٰ جتوئی کو نگران وزیر اعظم مقرر کر دیا۔ ملک کی سیاسی تاریخ میں انہیں پہلا نگران وزیر اعظم قرار دیا جاتا ہے۔ سندھ سے تعلق رکھنے والے جتوئی کی زیر قیادت نگران حکومت کے تحت 24 اکتوبر 1990 کو کرائے جانے والے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی نے پاکستان جمہوری اتحاد یا پی ڈی اے کے جھنڈے تلے حصہ لیا۔ اس اتحاد میں پی پی پی کے علاوہ سابق ایئر چیف مارشل اصغر خان کی تحریک استقلال، تحریک نفاذ فقہ جعفریہ اور مسلم لیگ کا ملک قاسم گروپ شامل تھا۔ جبکہ ان کے مدمقابل اسلامی جمہوری اتحاد یا آئی جے آئی حصہ لے رہا تھا جس کی قیادت میاں نواز شریف کر رہے تھے۔ پاکستان کی تاریخ کے ان پانچویں عام انتخابات میں اسلامی جمہوری اتحاد نے قومی اسمبلی میں 105 نشستیں جیتیں جب کہ پی ڈی اے نے صرف 45 نشستیں حاصل کیں۔ دیگر 56 نشستیں ایم کیو ایم، اے این پی، جے یو آئی اور آزاد امیدواروں کے حصے میں آئیں۔
پی ڈی اے کی جانب سے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات لگائے گئے۔ بے نظیر بھٹو نے انتخابات کے نتیجے میں معرض وجود میں آنے والی پارلیمان کو غیر نمائندہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پارلیمان صدر غلام اسحاق خان کی تشکیل کردہ ہے۔ پارلیمان میں اکثریتی جماعت کے طور پر آئی جے آئی کی پارلیمانی پارٹی نے نواز شریف کو وزیر اعظم کے عہدے کے لیے نامزد کیا۔ چھ نومبر 1990 کی صبح قومی اسمبلی کا خصوصی اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں قائد ایوان کا انتخاب عمل میں لایا گیا۔ نواز شریف کو قومی اسمبلی کے 192 میں سے 153 ووٹ ملے جب کہ پی ڈی اے کے امیدوار افضل خان صرف 39 ووٹ حاصل کر سکے۔ اسی دن نواز شریف نے پہلی مرتبہ بطور وزیر اعظم اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔
وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے کچھ عرصے بعد ہی مختلف ایشوز پر نواز شریف کے صدر غلام اسحاق خان کے ساتھ گہرے اختلافات پیدا ہو گئے اور اس وقت نقطہ عروج پر پہنچ گئے جب 17 اپریل 1993 کو وزیر اعظم نواز شریف نے ریڈیو اور ٹیلی وژن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے بڑے جذباتی انداز سے قوم کو اپنی خدمات گنوائیں اور ایوان صدر کو سازشوں کی آماجگاہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ نہ تو استعفیٰ دیں گے، نہ اسمبلی توڑیں گے اور نہ ہی ڈکٹیشن لیں گے۔
وزیر اعظم نواز شریف کا یہ خطاب صدر غلام اسحاق خان، جو اسمبلی توڑنے کے حوالے سے گومگو کا شکار تھے، کو ایک مضبوط جواز فراہم کر گیا اور اگلے ہی روز 18 اپریل 1993 کو انہوں نے ریڈیو اور ٹی وی پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے آئین کے آرٹیکل 58 (2) بی کے تحت بدعنوانی کے الزامات لگاتے ہوئے وزیر اعظم نواز شریف، ان کی کابینہ اور اسمبلی کو برطرف کرنے کا اعلان کر دیا۔ اسی شام ایوان صدر میں ہونے والی ایک تقریب میں صدر اسحاق خان نے سینیئر پارلیمنٹرین میر بلخ شیر مزاری سے نگران وزیر اعظم کے منصب کا حلف لیا۔ اسحاق خان کے اس انتہائی اقدام کے خلاف سپیکر قومی اسمبلی کیپٹن (ر) گوہر ایوب خان نے اسمبلی کے کسٹوڈین کی حیثیت سے اسمبلی ٹوٹنے کے چار گھنٹے بعد رات ڈیڑھ بجے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ اس کے بعد مزید 17 رٹ درخواستیں دائر ہوئیں جن میں وزیر اعظم نواز شریف، عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اجمل خٹک اور چوہدری شجاعت حسین کے نام قابل ذکر ہیں۔ چیف جسٹس سید نسیم حسن شاہ کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے فل بینچ نے تقریباً پانچ ہفتے کی سماعت کے بعد 26 مئی 1993 کو قومی اسمبلی اور نواز شریف حکومت کی غیر مشروط بحالی کا حکم جاری کر دیا۔ جسٹس سجاد علی شاہ فل بنچ کے واحد جج تھے جنہوں نے اختلاف کیا اور طویل اختلافی فیصلہ لکھا۔
عدالتی فیصلے کے تناظر میں نگران وزیر اعظم میر بلخ شیر مزاری نے 26 مئی 1993 کو ہی 39 دن حکومت کرنے کے بعد اقتدار نواز شریف کو منتقل کر دیا۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے جہاں ایوان صدر کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا، وہیں ملک میں سیاسی بحران کے سائے گہرے ہوتے چلے گئے۔ جولائی 1993 کے اوائل میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے اعلان کیا کہ اگر وزیر اعظم نواز شریف نے نئے انتخابات کروانے کا اعلان نہیں کیا تو وہ 16 جولائی 1993 کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کریں گے۔ اس بحرانی صورت حال میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل عبدالوحید کاکڑ نے فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہوئے ایک جانب قائد حزب اختلاف بے نظیر بھٹو کو لانگ مارچ منسوخ کرنے پر آمادہ کیا اور دوسری جانب صدر غلام اسحاق خان کو استعفیٰ دینے اور وزیر اعظم نواز شریف کو اسمبلی توڑنے پر تیار کر لیا۔ جنرل عبدالوحید کاکڑ نے تینوں فریقین کو ان فیصلوں پر عمل درآمد کی صورت میں عام انتخابات وقت پر منعقد کروانے کی ضمانت دی۔
پاکستانی سیاست میں 18 جولائی 1993 وہ تاریخی دن تھا جب ’کاکڑ فارمولا‘ کے تحت ملک کے صدر اور وزیر اعظم کی ایک ساتھ اپنے مناصب سے رخصتی عمل میں لائی گئی۔ پہلے وزیر اعظم نے صدر مملکت کو قومی اسمبلی توڑنے کی ایڈوائس دی، پھر صدر نے قومی اسمبلی توڑنے کا اعلان کر کے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا۔ بعدازاں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کے اتفاق رائے سے عالمی بینک کے سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر معین قریشی کو نگران وزیراعظم بنا دیا گیا جبکہ سینیٹ کے چیئرمین وسیم سجاد نے قائم مقام صدر کا عہدہ سنبھال لیا۔ ملکی تاریخ کے انہی پانچویں عام انتخابات میں اسلامی جمہوری اتحاد کی فتح کے بعد پاکستان جمہوری اتحاد میں شامل سیاسی جماعت تحریک استقلال کے چیئرمین ایئر چیف مارشل (ر) اصغر خان نے آئی جے آئی کی تشکیل میں سکیورٹی اداروں کی معاونت اور جیتنے والے سیاست دانوں پر انہی اداروں سے رقوم لینے کے سنگین الزامات عائد کیے تھے اور سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کیا تھا۔ سپریم کورٹ میں یہ کیس ’اصغر خان کیس‘ کے نام سے مشہور ہوا۔
