ججوں پر لگنے والے الزامات کی تحقیقات کیوں نہیں ہوتیں؟


سینئر صحافی انصار عباسی نے کہا ہے کہ ملک میں لگنے والے ہر مارشل لا کو تحفظ دینے والی پاکستانی عدلیہ انصاف کی فراہمی میں دنیا کے بدترین ممالک میں سے ایک ہے، ہم بحیثیت قوم اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے ورنہ ہم جلد دنیا میں انصاف دینے والا آخری ملک بن جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی عدلیہ کو اپنے اندر سے اُٹھنے والی ضمیر کی آوازوں پر غور کرنا چاہیے اور ججوں پر لگنے والے الزامات کی تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ عدلیہ کی ساکھ بحال ہو سکے۔
روزنامہ جنگ کے لئے اپنے تازہ تجزیئے میں انصار عباسی کہتے ہیں کہ عدلیہ وہ ادارہ ہے جو اگر صحیح کام کرتے ہوئے انصاف کی فراہمی کا ضامن بن جائے اور اپنی ساکھ بحال کر کے تو بہت کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ عدلیہ اگر صحیح کام کرے تو کوئی دوسرا دارہ غلط کام کرنے کی جرأت نہیں کر سکتا۔ جلد اور سستا انصاف فراہم کرنے والی ایک آزاد عدلیہ پاکستان کے مستقبل، عوام کے حقوق اور اُن کے تحفظ کے لیے لازم ہے اور اگر عدلیہ کے حالات نہ بدلے تو اس ملک سے انصاف ناپید ہو جائے گا۔
انصار عباسی کے بقول حال ہی میں لاہور میں ہونے والی عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں چیف جسٹس گلزار احمد نے عدلیہ کی آزادی بارے جو دعوے کیے وہ سر آنکھوں پر لیکن میرا ووٹ وکیل رہنماء علی احمد کرد کے حق میں جاتا ہے جنہوں نے عدلیہ کے بڑوں کو اس امر پر غور کرنے کے لیے ایک موقع فراہم کیا ہے کہ آخر کارکردگی اور ساکھ کے حوالے سے ہماری عدلیہ دنیا کے 130 ممالک کی لسٹ میں 126ویں نمبر پر کیوں ہے؟ اگر پاکستان کے عدالتی نظام میں سب اچھا ہے، اگر ہماری عدالتیں انصاف دے رہی ہیں، اگر واقعی عدل کا بول بالا ہے اور عدلیہ پر کوئی دباو نہیں تو پھر انصاف کی فراہمی کے حوالے سے ہمارا شمار دنیا کے بدترین ممالک میں کیوں ہوتا ہے؟
انصار عباسی پوچھتے ہیں کہ کیا یہ حقیقت نہیں کہ ملک پر مسلط کیے جانے والے ہر مارشل لاء کو ہماری عدلیہ نے ہی تحفظ دیا؟ کیا یہ حقیقت نہیں کہ آئین شکنی کے جرم میں غداری کے الزام کا سامنا کرنے والے سابق ڈکٹیٹر جنرل مشرف نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ اسے گرفتاری سے بچانے اور بیرون ملک بھیجنے میں تب کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف اسکی مدد کی اور عدلیہ کو اُسکے حق میں نیوٹرلائز کیا؟ انصار کے خیال میں علی احمد کرد نے درست کہا کہ عام لوگ انصاف لینے کے لیے عدالتوں میں صبح آٹھ بجے جاتے ہیں اور دوپہر ڈھائی بجے زخمی دلوں کے ساتھ واپس لوٹتے ہیں۔ لہذا سوال یہ ہے کہ ہمارا عدالتی نظام عوام کو انصاف فراہم کر رہا ہے یا نہیں؟ عمومی طور پر آپ کسی سے بھی یہ سوال پوچھیں گے تو جواب نفی میں ملے گا۔ سچ پوچھیں تو لوگ عدالتوں میں جانے سے ڈرتے ہیں کیوں کہ انصاف نہ صرف مہنگا بلکہ بہت ہی مہنگا ہو گیا ہے۔ مقدمات کے فیصلے ہونے میں دہائیاں بلکہ کئی کیسوں میں تو نسلیں گزر جاتی ہیں۔ کوئی ایک دہائی قبل عدلیہ کی آزادی کے لیے جدوجہد کے نتیجے میں جو خواب دیکھا وہ تو شرمندۂ تعبیر نہ ہوا البتہ وکلاء کی فیسیں لاکھوں کروڑوں میں چلی گئیں۔
انصار عباسی یاد دلاتے ہیں کہ علی احمد کرد اُن سینئر وکلاء رہنمائوں میں شامل تھے جنہوں نے عدلیہ کہ آزادی کے لیے قابل ذکر کام کیا۔ انہوں نے اپنی جدوجہد کو کیش نہیں کروایا لیکن اُن کے کچھ ساتھیوں نے فیسوں کو لاکھوں کروڑوں تک بڑھا دیا اور یوں انصاف کی فراہمی کے لیے پیسے کے کردار کو بھی مرکزی اہمیت مل گئی۔ گویا عدلیہ کی آزادی کی تحریک سے وہ کچھ تو نہ ملا جس کے لیے پوری قوم نے جدوجہد کی لیکن انصاف ضرور مہنگا ہوگیا، جس طرف وکلاء کے ساتھ ساتھ عدلیہ کے بڑوں کو بھی توجہ دینی چاہیے۔

عمران خان حکومت ریڈ نوٹس پر کیوں آ چکی ہے؟

نئے پاکستان میں بھی سستے انصاف کی جلد فراہمی کا خواب خواب ہی رہا۔ ’’ریاست ہو گی ماں کے جیسی‘‘ والے نعرے نعرے ہی رہے، سیاسی جماعتوں نے بھی وعدے کیے لیکن اُن پر عمل نہ کیا۔ ایسے حالات میں اگر ہماری عدلیہ کے بڑے یہ یقین کر بیٹھیں کہ عدالتیں بہترین طریقے سے کام کر رہی ہیں اور انصاف کی فراہمی میں کوئی مسئلہ نہیں تو پھر یہ قابل فکر بات ہے۔ حقیقت وہی ہے کہ ہم انصاف کی فراہمی میں دنیا کے بدترین ممالک میں سے ایک ہیں۔ ہمیں بحیثیت قوم اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے ورنہ جلد ہی ہم انصاف کی فراہمی کے لحاظ سے آخری نمبر پر پہنچ جائیں گے۔ ویسے ابھی بھی ہم نے کیا کسر چھوڑی ہے یعنی آخر میں سے چوتھے نمبر پر ہیں۔ اپنے بارے میں اگر کوئی کوئی خوش فہمی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم حقیقت دیکھنے سے قاصر ہیں۔ جہاں تک عدلیہ کہ آزادی اور دبائو کی بات ہے تو پھر ہم کچھ کہیں یا نہ کہیں عدلیہ کو اپنے اندر سے اُٹھائی گئی آوازوں پر غور کرنا چاہیے اور ان معاملات کو نظر انداز کرنے کی بجائے تحقیقات کرنی چاہئیں۔

Back to top button