جج سمیت کوئی بھی شخص احتساب سے بالاتر نہیں، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ کےجسٹس منصور علی شاہ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے دوران ریمارکس دئیے کہ جج اور کوئی شخص احتساب سے بالاتر نہیں ہے۔
جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں فل کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کے خلاف درخواستوں پر سماعت کی.دوران سماعت سندھ ہائی کورٹ کے وکیل رشید اے رضوی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ‘عدلیہ کی آزادی جج کی مدت ملازمت سے مشروط ہے، جج کی مدت ملازمت کا تحفظ نہ ہو تو وہ حلف پر عمل نہیں کر سکے گا’۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘حکومت اور ایجنسیوں کو آزاد عدلیہ کبھی پسند نہیں آتی، دنیا بھر میں ججز کو عہدے سے ہٹانا مشکل ترین عمل ہے تاہم پاکستان میں یہ سب سے آسان ہے’۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ ‘کیا آپ آئین پر تنقید کر رہے ہیں؟ ججز کو برطرف کرنے کا طریقہ آئین میں واضح ہے’۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘سپریم جوڈیشل کونسل موجودہ کیس میں بھی قانون کے مطابق کام کر رہی ہے، نظام پر تنقید کے بجائے اپنے کیس پر دلائل دیں’۔ انہوں نے کہا کہ ‘جج شیشے کے گھر میں رہتا ہے، جج بھی قابل احتساب ہے’۔
رشید اے رضوی کا کہنا تھا کہ ‘آرٹیکل 209 کے نقطہ نظر میں تحفظ ہونا چاہیے’۔ جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ ‘کسی جگہ تو ریڈ لائن کھینچنی پڑے گی، موبائل فون سب سے بڑا جاسوس ہے، ٹیکنالوجی نے ہر چیز کو بدل دیا ہے’۔ جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ ‘جج اور کوئی شخص احتساب سے بالاتر نہیں، جج کے خلاف اقدام آئین و قانون کے مطابق ہونا چاہیے’۔
رشید اے رضوی نے دلائل دیتے ہوئے مزید کہا کہ ‘ریفرنس کی سمری اور انکوائری جاسوسی پر مبنی ہے،12 مئی 2007 کے سانحے پر فیصلہ جسٹس کے کے آغا نے دیا، جسٹس کے کے آغا کو بھی ریفرنس میں نشانہ بنایا گیا’۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘وسیم اختر نے عدالت میں خود تسلیم کیا کہ 12 مئی کو ان کی ہدایات پر کراچی میں سڑکیں بند کی گئیں میں نے دیوار کود کر ججز کو سندھ ہائی کورٹ میں جاتے دیکھا ہے’۔ انہوں نے کہا کہ ‘بیرسٹر فروغ نسیم 12 مئی 2007 کے مقدمہ میں ایڈووکیٹ جنرل تھے اور اس وقت فروغ نسیم وزیر قانون ہیں’۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے ان سے سوال کیا کہ ‘3 نومبر کو آئین کے ساتھ کیا ہوا تھا’ جس پر انہوں نے کہا کہ 3 نومبر 2007 کو وہی ہوا تھا جو 12 مئی 2007 کو ہوا تھا’۔ جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ ‘اب تو آئین موجود ہے’ جس پر رشید اے رضوی کا کہنا تھا کہ ‘یہ 12 مئی کا جھگڑا ہے لوگ اپنا اسکورسیٹ کرنا چاہتے ہیں’۔ سپریم کورٹ کے جج کا کہنا تھا کہ ‘جب آئین سے ہٹیں گے تو ایسا ہی ہوگا’۔
عدالت میں رشید اے رضوی کے دلائل مکمل ہونے کے بعد پاکستان بار کونسل کے وکیل سلمان اکرم راجہ کے دلائل کا آغاز ہوا۔ وکیل سلمان اکرم راجہ نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اثاثہ جات بحالی یونٹ یعنی اے آر یو نے جج کو حاصل تحفظ کی خلاف ورزی کرکے مواد حاصل کیا، وفاقی حکومت کے قواعد کے تحت اے آر یو کو یہ اختیار نہیں تھا’۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘صدر مملکت سے اجازت لیے بغیر اے آر یو مواد اکھٹا نہیں کرسکتا تھا، اے آر یو کو آغاز میں یہ معلومات صدر مملکت کے سامنے رکھنی چاہیے تھیں’۔ انہوں نے کہا کہ ‘پارلیمنٹ کو معاملہ پر قانون سازی کرنی چاہیے، جب تک قانون سازی نہ ہو تب تک طے شدہ طریقہ کار اپنانا پڑے گا’۔
سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ ‘اعلی عدلیہ کے ججز کو ایسی انکوائری کے ذریعے ملزم نہیں بنایا جاسکتا، اے آر یو نے انکوائری کے ذریعے ججز کے خلاف مواد تلاش کرنے کی کوشش کی’۔ عدالتی بینچ میں شامل جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ ‘کسی جج کے مس کنڈکٹ کا ٹیکس اتھارٹی سے کوئی تعلق نہیں’۔ جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ ‘2010 میں افتخار چودھری کیس کی گائیڈ لائینز ایگزیکٹیو پر لازم نہیں ہیں، یہ عدالت ایگزیکٹو اور جوڈیشل کونسل کے لیے حتمی گائیڈ لائینز نہیں دے گی’۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے سماعت 29 جنوری تک ملتوی کر دی.
واضح رہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس کے کے آغا کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا تھا۔ ریفرنس میں دونوں ججز پر اثاثوں کے حوالے سے مبینہ الزامات عائد کرتے ہوئے سپریم جوڈیشل کونسل سے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی استدعا کی گئی تھی۔
بعد ازاں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے سپریم کورٹ میں ریفرنس کے خلاف درخواست دائر کی گئی تھی جس پر عدالت عظمیٰ کا فل کورٹ بینچ سماعت کررہا ہے۔
