جسٹس حمود الرحمٰن رپورٹ ناقابلِ اعتبار دستاویز کیوں ہے؟

بہت کم پاکستانی جانتے ہیں کہ سانحہ مشرقی پاکستان بارے تحقیقاتی رپورٹ تیار کرنے والے جسٹس حمود الرحمٰن جنرل آغا محمد یحییٰ خان کی جانب سے آئین پاکستان پامال کرنے کے وقت بھی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تھے لیکن انہوں نے اس غیر آئینی اقدام پر خاموشی اختیار کی۔ جسٹس حمود نے آئین پاکستان بچانے کی بجائے نوکری بچانے کو ترجیح دی لہٰذا آئین شکنی پر استعفیٰ دینے کی بجائے انہوں نے لیگل فریم ورک آرڈر کے تحت دوبارہ حلف لے لیا جس کے بعد یحییٰ خان نے آئین کی تشریح کا اختیار بھی عدلیہ سے چھین کر خود کو تفویض کر دیا تھا۔
ہر سال دسمبر میں میڈیا پر حمود الرحمن کمیشن رپورٹ کو تازیانہ بنا لیا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس رپورٹ کا علم، قانون اور حتیٰ کہ اخلاقیات کی دنیا میں بھی کوئی اعتبار نہیں۔ انڈیپنڈنٹ اردو کے لیے ایک خصوصی رپورٹ میں آصف محمود بتاتے ہیں کہ یہ کمیشن بھی ویسا ہی ایک کمیشن تھا جو پاکستان میں بنائے جاتے رہے ہیں تا کہ بات گھما دی جائے، الجھا دی جائے اور ’مٹی پاؤ‘ فارمولے کے تحت حقائق کو زمین میں گاڑ دیا جائے۔ یہ کمیشن اس سانحہ مشرقی پاکستان کی وجوہات تلاش کرنے کے لیے قائم نہیں کیا گیا تھا۔ اسے بنیادی طور پر صرف یہ معلوم کرنا تھا کہ وہ کیا حالات تھے کہ ایسٹرن کمانڈ نے ہتھیار ڈالے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ کمیشن صرف سرنڈر سے جڑے حالات و واقعات تک کیوں محدود رہا، اور ملک ٹوٹنے کے اسباب کا مکمل جائزہ کیوں نہ لیا گیا؟اس حادثے کے کم از کم تین فریق تھے۔ جرنیل، بھٹو اور شیخ مجیب۔ پاکستان کی ایسٹرن کمانڈ بھارت کی قید میں تھی اور اس کمیشن نے اس کی واپسی کا انتظار کیے بغیر اس کی عدم موجودگی میں، اس کا موقف سنے بغیر سماعت بھی مکمل کر دی اور رپورٹ بھی جاری کر دی۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا یہ انصاف تھا یا کسی کی سیاسی ضرورت تھی اور اس ضرورت کو کندھا فراہم کیا گیا تھا؟
انڈیپنڈنٹ اردو کی رپورٹ کے مطابق اگرچہ قیدیوں کی واپسی کے بعد ایک رسم سی پوری کی گئی اور ان کے بیانات لے کر ایک ضمنی رپورٹ بھی جاری کی گئی لیکن اس وقت تک عبوری رپورٹ سے متعلقہ مقاصد تو حاصل کیے ہی جا چکے تھے۔سوال یہ ہے اتنی جلدی کیا تھی۔ رپورٹ مکمل کر کے ایک ہی مرتبہ جاری کیوں نہ کی گئی؟ حمود کمیشن جنگ اور سرنڈر سے متعلق تھا اور اس کے پانچ ممبران ججز تھے۔ صرف ایک مشیر ایسا تھا جو جرنیل تھا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان معزز ججوں نے وار کورس کیے ہوئے تھے اور وہ یہ صلاحیت رکھتے تھے کہ سرنڈر کے اسباب و جوہات پر فیصلہ کر سکیں اور وہ بھی متعلقہ فریق کو سنے بغیر؟سانحے کا عمومی جائزہ لیتے ہوئے کمیشن کے معزز جج صاحبان نے ملکی تاریخ میں فوج کی مداخلت پر تو لیکچر نما مشورے دیے لیکن چیف جسٹس حمود الرحمٰن نے یہ نہیں بتایا کہ ان مارشل لاؤں کو جواز کون دیتا رہا اور نظریہ ضرورت کس ادارے کی تخلیق تھی؟
کمیشن نے یحییٰ خان پر بہت تنقید کی لیکن یہ وضاحت نہیں فرمائی کہ جب یحییٰ کو غیر آئینی طریقے سے اقتدار سونپا گیا تو ملک کے چیف جسٹس یہی حمود الرحمٰن خود تھے جو خاموش رہے۔ حمود الرحمٰن کمیشن نے حسب روایت جمہوریت اور آئین کے درس تو دیے لیکن کمیشن نے یہ بھی نہیں بتایا کہ بعد میں جب یحییٰ خان نے آئین پامال کر کے ایل ایف او جاری کیا تو یہی حمود الرحمٰن چیف جسٹس تھے۔ لیکن موصوف نے نہ تو استعفیٰ دیا اور نہ ہی یحییٰ کے خلاف فیصلہ سنایا۔ حتیٰ کہ یحییٰ خان نے جب آئین کی تشریح کا اختیار بھی عدلیہ سے چھین کر خود کو دے دیا تو چیف جسٹس حمود الرحمٰن اس پر بھی بد مزہ نہ ہوئے۔
حمود کمیشن نے یحییٰ خان کو شرابی اور عورتوں کا رسیا قرار دیا لیکن یہ بھی نہیں بتایا کہ یحییٰ خان میں یہ عیب اس وقت بھی تھے جب چیف جسٹس حمود الرحمٰن یحییٰ کے ایل ایف او کے تحت حلف اٹھا رہے تھے یا یہ عیب چیف جسٹس صاحب کو اس وقت معلوم ہوئے جب یحییٰ کمزور ہو چکا تھا۔ حمود کمیشن نے 1947 سے 1971 تک کی تاریخ چھاننے کے بعد یہ تو بتا دیا کہ فوج کے تربیتی نصاب میں تبدیلی ضروری ہے لیکن یہ نہیں بتایا کہ عدالتوں کے نظریہ ضرورت کے ہاں اولاد نرینہ کے سلسلے کو روکنے کے لیے کس طبیب سے رجوع کیا جائے؟ حمود کمیشن نے مغربی پاکستان کی غلطیوں کے تو انبار گنوا دیے لیکن یہ نہ بتایا کہ سکندر مرزا کا تعلق مشرقی پاکستان سے تھا۔ یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ جنرل ایوب خان کو کابینہ میں شامل کر کے جرنیلوں کو اقتدار کی راہ دکھانے والے وزیر اعظم محمد علی بوگرہ کا تعلق بھی مشرقی پاکستان سے تھا۔
حمود کمیشن نے مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوج کے مبینہ مظالم پر تو پورا باب بلکہ والیم لکھ مارا لیکن مکتی باہنی کے ہاتھوں ہونے والے غیر بنگالیوں کے قتل عام پر کوئی والیم نہ لکھا جا سکا۔ کمیشن نے سرنڈر کے اسباب میں لیفٹیننٹ جنرل امیر عبداللہ خان روکڑی کی زیر قیادت ایسٹرن کمانڈ کو تو خوب لتاڑا جو کہ بھارت کی قید میں تھی، لیکن کمیشن یہ نہ پوچھ سکا کہ ایسٹرن کمانڈ جب محصور ہو چکی تھی، اسلحہ ادویات اور خوراک تک کی ترسیل ممکن نہ تھی تو اس کی مدد کے لیے مغربی پاکستان سے کتنی امداد بھیجی گئی؟ اس پر تو خوب بحث ہوئی کہ ایسٹرن کمانڈ اس بے سروسامانی میں مزید کتنے دن لڑ سکتی تھی لیکن یہ نکتہ کہیں نہ اٹھا کہ مغربی پاکستان سے وہاں امداد اور رسد پہنچانے کے لیے کتنے سو سال درکار تھے؟
انڈیپنڈنٹ اردو کی رپورٹ کے مطابق صاف نظر آ رہا تھا کہ جسٹس حمود الرحمٰن نے یحییٰ خان کے عروج میں اس کی کوزہ گری کی اور اس کے زوال کے بعد ایک طرفہ رپورٹ تیار کی۔ جسٹس حمود الرحمان کی زیر قیادت تحقیقاتی کمیشن نے فریقین کو سنے بغیر، اپنے گریبان میں جھانکے بغیر، سنی سنائی باتوں پر، ادھورے اور یک طرفہ اقوال زریں مرتب کر کے رپورٹ تیار کی۔ تاہم اس رپورٹ کو بھٹو حکومت نے خفیہ قرار دے دیا تھا تا کہ اس سے افواج کا مورال متاثر ہو گا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حمود کمیشن اگر یحییٰ خان نے بنایا ہوتا تو اسی نے سارا ملبہ بھٹو پر ڈال دینا تھا۔ حتیٰ کہ اگر ضیا الحق اسی کمیشن کو ایک بار پھر بٹھا دیتا تو اس کمیشن نے کہنا تھا: ’عزیز ہم وطنو نئی خبر آئی ہے یحییٰ ساڈا بھائی ہے اور قصور سارا بھٹو کا ہے۔‘ وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں دیے ہواؤں کا رخ دیکھ کر جلتے ہیں۔
