سپیکر پنجاب اسمبلی نے گورنر کاطلب کردہ اجلاس غیر آئینی قرار دیدیا

اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے گورنر بلیغ الرحمان کے طلب کردہ اجلاس کو غیر آئینی قرار دے دیا۔
اسپیکر نے دو صفحات پر مشتمل جاری رولنگ میں کہا ہے کہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس 23 اکتوبرکی ریکوزیشن کےمطابق پہلےہی چل رہا ہے، جب تک موجودہ سیشن ختم نہیں ہوتا،گورنر نیا اجلاس نہیں بلاسکتے ،عدم اعتماد کی کارروائی صرف اسی مقصدکیلئے بلائے گئےخصوصی اجلاس میں ممکن ہے۔
رولنگ کے مطابق خصوصی سیشن موجودہ سیشن ختم ہونے پر ہی بلایا جاسکتا ہے، منظور وٹوکیس میں عدالت نے قرار دیا تھا کہ وزیراعلیٰ کو اعتماد کے ووٹ کیلئے کم از کم 10 دن دیے جائیں، رولز آف پروسیجر کے مطابق رواں سیشن میں وزیر اعلیٰ کو اعتماد کے ووٹ کیلئے نہیں کہا جاسکتا، رولز کے مطابق گورنر کا وزیراعلیٰ پنجاب کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہنا آئین کے مطابق نہیں، گورنر کی ہدایت پر عمل درآمد ممکن نہیں اس لیے اسے مسترد کیا جاتا ہے۔
پنجاب اسمبلی کے سپیکر سبطین خان نے آئین کے آرٹیکل 130 (7) کے تحت رولنگ جاری کی ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز اپوزیشن نے وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی، اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان اور ڈپٹی اسپیکر واثق قیوم کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرادی ہے جبکہ گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کو اسمبلی سے 21 دسمبر کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہا ہے تاہم اسپیکر اسمبلی اجلاس بلانے سے انکار کرچکے ہیں۔
یہ بھی یاد رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے 23 دسمبر کو پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلی تحلیل کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔
