جسٹس سیٹھ کے خلاف ریفرنس کلبھوشن کیس پر منفی اثر ڈالے گا

آئین شکن مشرف کی محبت میں خصوصی عدالت کے جج وقاراحمد سیٹھ کو ذہنی طور پر ان فٹ قرار دے کر ان کے خلاف نااہلی کا ریفرنس دائر کرتے ہوئے حکومت یہ بات بالکل بھول گئی کہ اس حرکت کے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو سزائے موت دینے کے فیصلے پر کیا اثرات مرتب ہوں گے جس کی اپیل سنتے وقت عالمی عدالت انصاف نے جسٹس وقار احمد سیٹھ کے فیصلوں کا حوالہ دیا تھا۔
یاد رہے کہ وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے مشرف کیس میں سزائے موت کا فیصلہ مسترد کرتے ہوئے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ خصوصی عدالت کے جج وقار احمد سیٹھ ذہنی طور پر ٹھیک نہیں اور نا اہل ہیں اور اس بنیاد پر حکومت ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کر رہی ہے۔ فروغ نسیم کے بقول جسٹس وقار احمد کے فیصلے سے ہمارا سر شرم سے جھک گیا اور دنیا بھر میں پاکستان کی جگ ہنسائی ہوئی ہے۔ لہذا ایسے شخص کو عدلیہ میں بیٹھنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ اس کے بعد وزیر اعظم کے معاون خصوصی بیرسٹر شہزاد اکبر نے بھی یہی مدعا مختلف الفاظ میں پیش کیا۔ فردوس عاشق اعوان نے بھی گفتگو کی اور تینوں کی بات کا خلاصہ یہ تھا کہ جسٹس وقار احمد سیٹھ مینٹلی ان فِٹ یا ذہنی طور پرنااہل ہیں اور نالائق ہیں۔ تاہم وزارت خارجہ کے سینئر افسران کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کے تینوں نمائندوں اور اٹارنی جنرل کے بیانات، پاک فوج کے ترجمان کی جارحانہ پریس کانفرنس اور جسٹس وقار احمد سیٹھ کے خلاف ممکنہ ریفرنس کلبھوشن یادیو کیلئے “غیبی امداد” ثابت ہوسکتے ہیں کیونکہ اگر حکومت ان پر ذہنی طور پر ان فٹ ہونے کا الزام لگاتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ماضی میں ان کے طرف سے کیے گئے فیصلے بھی غلط تھے۔ ان فیصلوں میں سے ایک فوجی عدالت سے سزائے موت پانے والے مجرموں کی سزا معطل کرنے کا تھا جسکا ریفرنس عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن یادیو کیس کا فیصلہ سناتے وقت دیا اور کہا کہ اسے پاکستانی عدالتوں پر اعتماد ہے۔
یاد رہے کہ 10 اپریل 2017 کو پاکستان کی فوجی عدالت نے بھارتی جاسوس کلبھوشن کو دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنا دی تھی۔ بھارت نے ایک ماہ بعد 10 مئی 2017 کو کلبھوشن کی پھانسی کی سزا پر عمل درآمد رکوانے کے لیے عالمی عدالت انصاف میں درخواست دائر کر دی۔ عالمی عدالت انصاف نے 18 مئی 2017 کو اپنے عارضی فیصلے میں پاکستان کو ہدایت کی کہ حتمی فیصلہ آنے تک کلبھوشن جادھو کو پھانسی نہ دی جائے۔ اس کے بعد مقدمہ پر باقاعدہ دلائل کا آغاز 21 فروری 2019 کو ہوا اور 4 دن تک فریقین نے دلائل دیے۔ جس میں پاکستان نے عالمی عدالت انصاف کو بتایا کہ فوجی عدالتوں کے فیصلوں پر ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی اپیل کی جاسکتی ہے۔ عالمی عدالتِ انصاف نے 17 جولائی 2019 کو فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ پاکستان نے کلبھوشن کو قونصلر رسائی کی سہولت نہ دے کر ویانا کنونشن کی شق 36 کی خلاف ورزی کی ہے مگر ساتھ ہی کلبھوشن کی سزائے موت کی معطلی اور بریت کی بھارتی اپیل بھی مسترد کر دی۔
عالمی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ پاکستان کلبھوشن کی سزائے موت پر نظر ثانی کرے اور اسے قونصلر رسائی دے۔ اسی فیصلے میں عالمی عدالت انصاف نے پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس وقار سیٹھ اور جسٹس لالہ کےفیصلے کا حوالہ دیا ۔ یعنی عالمی عدالت انصاف نے پاکستان کی عدالتوں پر اعتماد کرتے ہوئے اس فیصلے کو باقاعدہ اپنے فیصلے کا حصہ بنایا اور بھارت کو یہ باور کروایا کہ پاکستان میں اندھیر نگری نہیں، عدلیہ ٹھیک سے کام کر رہی ہے۔
اب وفاقی حکومت اگر جسٹس وقار احمد سیٹھ کو مینٹلی ان فِٹ اور ان کومیپی ٹینٹ قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرتی ہے تو 99 فیصد امکان ہے کہ بھارت عالمی عدالت انصاف کے دروازے پر جاکر کہے گا کہ ‘مائی لارڈ! ہمیں تو پہلے ہی پاکستانی عدالتوں پر اعتماد نہیں تھا۔ مگر آپ نے ہماری نہ سنی۔ جس پاکستانی جج کا فیصلہ آپ نے اپنے فیصلے کا حصہ بنایا تھا، اسے اس کی اپنی ہی حکومت اسے مینٹلی ان فِٹ قرار دے کر اسے عدلیہ سے برخاست کرنے کی کوشش کر رہی ہے لہٰذا آپ کیسے ایک ذہنی طور پرنااہل عدلیہ پراعتماد کرسکتے ہیں۔
یاد رہے کہ جسٹس وقار احمد سیٹھ پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ہیں۔ انہیں خصوصی عدالت کا سربراہ بھی تحریک انصاف کی حکومت نے تعینات کیا۔ یہ بھی یاد رہے کہ 2018 میں پشاور ہائیکورٹ نے فوجی عدالتوں سے سزائے موت اور عمر قید کی سزا پانے والے 74 افراد کی سزائیں کالعدم قرار دی تھیں۔ ان افراد کی سزاؤں کی توثیق آرمی چیف بھی کر چکے تھے۔ اس پر یہ بحث ہوئی کہ ہائیکورٹ کو فوجی عدالتوں کے فیصلوں پر اپیل سننے کا اختیار ہے یا نہیں۔ پشاور ہائیکورٹ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں قانونی شقوں کے حوالے دیتے ہوئے دائرہ اختیار بھی ثابت کیا اور فوجی عدالتوں کے ٹرائل پر بھی سنگین سوالات کھڑے کردئیے۔ یہ فیصلہ دینے والے 2 رکنی بنچ کے سربراہ جسٹس وقار احمد سیٹھ تھے جبکہ دوسرے رکن جسٹس لالا جان خٹک تھے۔ دونوں نے متفقہ فیصلہ دیا تھا۔
