جسٹس فائز عیسیٰ نے 5 رکنی بنچ غیر آئینی قرار دے دیا

سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے قائم مقام چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی جانب سے صحافیوں کی گرفتاری اور انہیں ہراساں کرنے کا کیس سننے والے سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ کو ختم کر کے پانچ رکنی بینچ بنانے کے عمل کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے موقف اپنایا ہے کہ اگر ایک بینچ دوسرے کی مانیٹرنگ شروع کردے تو ہماراسارا نظام عدل زمین بوس ہو جائے گا۔
یاد رہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے بنیادی آئینی حقوق سے متعلق دائر کردہ ایک کیس کی سماعت شروع ہونے کے بعد اس سننے والے دو رکنی بنچ کو تحلیل کر کے ایک نیا پانچ رکنی بنچ تشکیل دے دیا تھا جس کی دوسری سماعت 25 اگست کو ہوئی۔ اس سے پہلے 20 اگست کو بننے والے دو رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس قاضی فائز عیسی تھے جنہوں نے سینئر صحافیوں قیوم صدیقی، عامر میر، عمران شفقت اور اسد علی طور کی آئینی درخواستوں پر صحافیوں کی بلاجواز گرفتاریوں اور انہیں ہراساں کرنے پر ڈی جی ایف آئی اے اور دیگر کئی سینئر حکومتی افسران کو 26 اگست کو سپریم کورٹ مخں طلب کرلیا تھا۔ تاہم جسٹس فائز عیسی کے دو رکنی بینچ کو ختم کرتے ور ان کے حکم نامے پر عملدرآمد روکتے ہوئے جسٹس عمر عطا بندیال نے نے ایک نیا پانچ رکنی بینچ تشکیل دے دیا رھا۔ اس بینچ کی سربراہی جسٹس عمر عطا بندیال کر رہے ہیں۔
پچیس اگست کو اس پانچ رکنی بینچ کی جانب سے کیس کی سماعت سے پہلے جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے چیف جسٹس گلزار احمد کو لکھے گئے خط میں کہا کہ 20 اگست 2021 کو ان کے دو رکنی بینچ کے آئین کے آرٹیکل 184 (3) کے تحت جاری کردہ حکم نامے کو معطل کرکے پانچ رکنی لارجر بینچ بنانے سے قبل انہیں آگاہ نہیں کیا گیا۔ جسٹس عیسیٰ کے خط کے متن کے مطابق آئین میں سپریم کورٹ کا سماعت کیلئے مختلف دائرہ اختیار ہے۔ سپریم کورٹ کا ایسا کوئی دائرہ اختیار نہیں کہ وہ اپنے ہی کسی بینچ کے امور کی مانیٹرنگ شروع کردے۔ فائز عیسٰی نے کہا کہ پانچ رکنی بینچ کو یہ مقدمہ سننے کا اختیار ہی نہیں، اگر پانچ رکنی لارجر بنچ نے اس کیس کی سماعت جاری رکھی تو یہ آئین سے تجاوز اور اسکی خلاف ورزی تصور ہوگا۔ جسٹس عیسی نے وضاحت کی کہ اگر مستقبل میں مذکورہ لارجر بینچ نے کوئی فیصہ دیا تو قانونی اور آئینی اعتبار سے اس کی کوئی حیثیت نہ ہوگی۔
جسٹس عیسی نے ایک اور اہم نکتے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ عدالت عظمیٰ کی جانب سے 23 اگست کو جاری حکم نامے سے کئی غلط فہمیاں پیدا ہوئی ہیں۔ سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ میرے بنائے گے بینچ نمبر دو نے آزادی صحافت کے معاملے پر سوموٹو نوٹس لیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ جب صحافیوں کی جانب سے درخواست آئی تو انہوں نے پہلے یہ چیک کیا کہ آیا یہ آئین کے آرٹیکل 184 (3) کے تحت قابل سماعت ہے بھی یا نہیں۔ 20 اگست کو عدالت نے قررا دیا کہ واقعی یہ معاملہ بنیادی انسانی حقوق سے متعلق ہے اور عوامی مفادات سے تعلق رکھتا ہے لہذا ایک حکمنامہ جاری کردیا گیا۔ بعد ازاں 23 اگست کو جاری کردہ عدالتی حکمنامے میں دو رکنی بینچ کی جگہ پانچ رکنی لارجر بینچ بنانے کا حکم جاری کرنے کے ساتھ ساتھ 6 مرتبہ سو موٹو نوٹس کا تذکرہ کیا گیا حالانکہ دو رکنی بینچ نے اس کا استعمال نہیں کیا تھا۔ جسٹس عیسی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ سو موٹو نوٹس لاطینی زبان کی اصطلاح ہے جس کا مطلب از خود نوٹس لینا ہے، یہ اصطلاح آئین پاکستان میں ایک مرتبہ بھی نہیں استعمال کی گئی جبکہ دنیا بھر میں اسکا استعمال متروک ہوچکا ہے۔ خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ اگر ایک بینچ دوسرے کی مانیٹرنگ شروع کردے تو نظام عدل زمین بوس ہو جائے گا۔ انہوں نےلکھا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے 9 مئی 2018 کو پشاور کی کھلی عدالت میں بینچ میں موجود اپنے ہی جج کو نکال کر زبانی احکامات پر نیا بینچ تشکیل دیا تھا، لیکن جسٹس منصور علی شاہ نے بعد میں الگ حکم نامہ جاری کیا تھا۔ تین سال گزر گئے پر عدالت عظمیٰ کی جا نب سے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے اس معاملے پر تاحال غور نہیں کیا گیا۔
جسٹس قاضی فائز عیسٰی کا کہنا ہے کہ کچھ چیف جسٹس صاحبان کی خواہش ہے کہ وہ بلا روک ٹوک اختیارات کو اپنے پاس رکھیں۔ جسٹس عیسیٰ نے لکھا کہ چیف جسٹس یہ تعین نہیں کر سکتے کہ کون سا کیس کس بینچ میں مقرر ہوگا۔ آئین پاکستان کے مختلف آرٹیکلز میں چیف جسٹس صاحبان کی ذمہ داریاں اور اختیارات واضح کردی گے ہیں لہذا کوئی بھی چیف جسٹس نئے اختیارات از خود حاصل نہیں کرسکتا۔ انکا کہنا تھا کہ پاکستان کی اعلی عدلیہ میں ایک غیر ضروری روایت بن گئی ہے کہ چیف جسٹس کی منظوری سے ہی کاز لسٹ جاری کی جاتی ہے حالانکہ آئینی یا قانونی اعتبار سے چیف جسٹس کی اجازت یا رضامندی ضروری نہیں ہے۔ انہوں نے خط میں کہا ہے کہ بطور چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ میں نے کبھی مجوزہ کازلسٹ جاری نہیں کی۔ انہوں نے اپنے خط میں لکھا کہ بقول صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اعلی عدلیہ میں تقسیم ہے۔ میرا موقف ہے کہ مجھے فرائض کی ادائیگی کی وجہ سے عوامی تاثر کی بنیاد پر طنز کا نشانہ بنایا گیا۔ وزیر اعظم ترقیاتی فنڈز کیس میں لارجر بنچ بنا کر جسٹس مقبول باقر کو بینچ سے الگ کر دیا گیا۔ جسٹس فائز عیسیٰ نے عدالت عظمیٰ کی جانب سے ماضی میں لئے گئے از خد نوٹسز کا تذکرہ کرتے ہوئے لیے ایک مثال پیش کی کہ کس طرح سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے دور میں میں ایک نامعلوم واٹس ایپ واٹس ایپ میسج پر ایک معاملے کا نوٹس لیا گیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ میاں ثاقب نثار، جسٹس عمر عطا بندیال، اعجاز الاحسن، جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل بینچ میں سے کسی نے بھی یہ جاننے کی کوشش نہ کی کہ آیا یہ بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے اور کس وجہ سے اسے فوری طور پر سننا بہت ضروری ہے۔
یاد رہے کہ واٹس ایپ کیس میں فیڈرل ایڈوانس ٹیکس لیوی اور ایکسائز ڈیوٹی کی وصولی کے حوالے سے صوبوں اور مرکز میں تنازعہ زیر غور تھا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار ، عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن نے 11 جون 2018 کو تمام ٹیکسز کی لیوی معطل کردی جو 24 اپریل 2019 تک معطل ر ہیں۔ فائز عیسٰی کے مطا ق واٹس ایپ کیس کے فیصلے سے قومی خزانے کو 100 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ جسٹس عیسیٰ کہتے ہیں کہ ایسی اور بھی کئی مثالیں ہیں کہ جب آئین کی پاسداری نہ کرتے ہوئے کیسز سنے گئے جنکی وجہ سے ملکی خزانے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔
اپنے خط میں جسٹس قاضی فائز عیسی نے رجسٹرار سپریم کورٹ کے تقرر کو بھی غیر آئنی قرار دیتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ رجسٹرار سرکاری ملازم ہے لیکن وہ خود کو منصف اور آئینی ماہر سمجھتا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ صحافیوں کی پٹیشن کے معاملے پر رجسٹرار نے فوری نوٹس لیا اور 6 صفحات پر مشتمل نوٹ قائمقام چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو بھجوا دیا۔ انہوں نے لکھا کہ بطور ایک سرکاری ملازم رجسٹرار سپریم کورٹ نے اپنے انٹطامیہ سے تعق رکھنے والے کولیگز کو بچانے کے لئے نوٹ چیف جسٹس کو بھجوانے میں غیر معمولی پھرتی دکھائی حالانکہ آئین کا آرٹیکل 175 کہتا ہے کہ عدلیہ اور انتظامیہ میں کوئی قربت نہیں ہونی چاہیے۔ اسی بنیاد پر جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ ایگزیکٹو یعنی انتظامیہ سے تعلق رکھنے والے ایک سرکاری ملازم کو بطور رجسٹرار سپریم کورٹ لگانا آئین کی خلاف ورزی ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ سرکاری ملازم کو رجسٹرار مقرر کرنا موجود افسران کی ترقی میں رکاوٹ کے مترادف ہے۔ عدلیہ نے ڈیپوٹیشن پرگئے اپنے ملازمین کو واپس بلوالیا ہے لیکن بدستور ایک سرکاری ملازم بطور رجسٹرار سپریم کورٹ کام کر رہا ہے۔ جسٹس عیسی کے بقول رجسٹرار سپریم کورٹ اس سے قبل وزیراعظم آفس میں کام کرتے رہے ہیں۔ جسٹس عیسی لکھتے ہیں کہ ایگزیکٹو سے آئے ہوئے سرکارہ ملازم جب سپریم کورٹ میں رجسٹرار بنتے ہیں تو حکومت کو قائدہ پہنچانے کے لئے بعض کیسز جلد از جلد لگوادیتے ہیں اور جن کیسز سے حکومت کو نقصان کا خدشہ ہو، رجسٹرار انہیں بلاوجہ لٹکا کر حکومت کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔ جسٹس عییسیٰ نے لکھا کہ پاکستان کا ہر شہری آزادی صحافت کے لیے سٹیک ہولڈر ہے فائزعیسیٰ نے خط کی کاپی سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنے کی استدعا بھی کی ہے۔
تاہم ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قائم مقام چیف جسٹس عمر عطا بندیال صحافیوں کے کیس میں جسٹس فائز عیسیٰ کے بینچ کو ختم کرکے ایک نیا بنچ بنانے کے بعد شدید مشکل میں پھنس گئے ہیں جس سے نکلنے کے لیے انھیں کافی سوچ بچار کرنا ہو گی۔
