جسٹس فائز عیسی کو نکالنے کے لیے وزیراعظم پر لابنگ کرنے کا الزام

وزیراعظم عمران خان نے ایک حالیہ ملاقات میں وکلاء کے سینئر نمائندوں سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو سپریم کورٹ سے نکالنے کے لیے بار ایسوسی ایشنز کی مدد مانگی اور اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ وہ جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمان کو کسی صورت نیب کی حراست سے باہر نہیں نکلنے دیں گے۔
سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن یاسین آزاد نے یہ ہوشربا انکشاف کرتے یوئے کہا ہے کہ پچھلے ماہ وزیراعظم عمران خان نے وکلا کے سئنئیر نمائندوں سے ملاقات میں جسٹس قاضی فائز عیسی کو ہٹانے کے لیے بار ایسوسی ایشنز سے مدد مانگی تھی اور وکلاء کو یہ بھی بتایا کہ وہ جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمان کو کسی صورت نہیں چھوڑیں گے۔ یاد رہے کہ کہ صدر عارف علوی نے وزیراعظم عمران خان کی ایڈوائس پر جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف نااہلی کا ایک ریفرنس بھی سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر کیا تھا جسے سپریم کورٹ رد کر چکی ہے۔ تاہم جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف عمران خان کے جذبات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پچھلے دنوں ایک تقریر کے دوران عمران خان نے یہ تک کہہ دیا کہ پاکستانی پوزیشن آج کل ایک جج کو بہت اٹھا رہی ہے اور چاہتی ہے کہ وہ چیف جسٹس بن جائے۔
وزیراعظم کے ناقدین نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ صدارتی ریفرنس کے ذریعے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو نکالنے میں ناکامی کے بعد اب وزیراعظم وکلا تنظیموں کے ذریعے سپریم کورٹ کے معزز جج کے خلاف لانگ کی کوشش کر رہے ہیں اور ان تنظیموں میں سرکاری گرانٹ تقسیم کرکے اپنا مقصد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں.
یاد رہے کہ جسٹس فائز عیسیٰ کیس میں دو ججز جسٹس مقبول باقر اور جسٹس منصور علی شاہ کی طرف سے لکھے گی اختلافی نوٹس کو سینئر وکلاء اور بار لیڈرز نے صدر اور وزیر اعظم سمیت پوری وفاقی حکومت کے خلاف چارج شیٹ قرار دیا ہے۔ جسٹس مقبول باقر نے اپنی نوٹ میں یہ قرار دیا ہے کہ جسٹس فائز عیسی کے خلاف لگائے گئے الزامات بالکل بے بنیاد، مضحکہ خیز اور بد نیتی پر مبنی تھے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اپنی پوری مشینری اور سرکاری وسائل کو جسٹس قاضی فائز عیسی کو بے دخل کرنے کے لئے غیر آئینی اور غیر قانونی طریقےسے استعمال کیا۔جبکہ جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے نوٹ میں لکھا کہ جسٹس فائز عیسی کے خلاف تحقیقات، نگرانی کرکے شواہد اکٹھے کرنا اور وزیراعظم کی طرف سے سمری کی منظوری کا عمل قانونی لحاظ سے بد نیتی پر مبنی تھے۔
سچ تو یہ یے کہ وزیراعظم کی سفارش پر صدر عارف علوی کی جانب سے دائرکردہ نااہلی کے ایک صدارتی ریفرنس کو شکست دینے والے سپریم کورٹ کے جج جسٹس فائز عیسی نہ تو فوجی اسٹیبلشمنٹ کو ہضم ہو رہے ہیں اور نہ ہی عمران خان کو۔ یاد رہے کہ جسٹس قاضی عیسی کو سپریم کورٹ میں آزاد عدلیہ کی علامت قرار دیا جاتا ہے اور اسی لئے حالیہ دنوں اپوزیشن جماعتیں اپنے جلسوں کے دوران حکومت کی جانب سے ان سے جان چھڑوانے کے کوششوں کی مذمت کرتی نظر آئی ہیں۔ عرصہ دراز سے سپریم کورٹ کی رپورٹنگ کرنے والے اور حال ہی میں اغوا ہو کر واپس آنے والے سینئر صحافی مطیع اللہ جان نے بھی اپنی ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ موجودہ حکومت نہیں چاہتی کہ جسٹس قاضی فائز عیسی 2023 میں چیف جسٹس پاکستان بنیں۔ اپنی ٹویٹ میں مطیع اللہ جان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کوشش کر رہے ہیں کہ سپریم کورٹ کے جج کو آئین کے برخلاف نیچے دبا دیں اور اسے آئین کے مطابق 2023 میں چیف جسٹس نی بننے دیں۔ مطیع کے مطابق وزیر اعظم کا یہ بیان قانون کی بدنیتی نہیں بلکہ حقائق کی بدنیتی ہے اور جوڈیشل کونسل اہ ی کارروائی پر اثر انداز ہونے والے اس بیان کا نوٹس لے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے جسٹس قاضی فائز عیسی کو دوبارہ اس لیے نشانے پر رکھا ہے کیونکہ گزشتہ مہینے وزیراعظم نے تحریک انصاف لائرز فورم کے ایک کنونشن کی صدارت کی تھی جسکا جسٹس فائز عیسی نے سوموٹو نوٹس لیا تھا۔ اس حوالے سے جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا تھا کہ وزیر اعظم پورے ملک کے وزیراعظم ہیں لہٰذا وہ علاقے کسی ایک دھڑے کے سربراہ ہیں نہیں کر سکتے۔ 12 اکتوبر کو سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ بادی النظر میں وزیر اعظم نے اس تقریب میں ذاتی حیثیت میں شرکت کی اور وزیراعظم کی کسی خاص گروپ کے ساتھ الائن نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ پورے ملک کے وزیرِ اعظم ہیں۔جسٹس عیسی نے ریمارکس دیے تھے کہ یہ معاملہ آئین کی تشریح اور بنیادی حقوق کا ہے۔ اگر یہ تقریب کسی پرائیوٹ ہوٹل میں ہوتی تو اور بات تھی ا ور اس تقریب کے لیے عوام کے ٹیکس کے پیسوں کا استعمال کیا گیا۔ انکا کہنا تھا کہ وزیراعظم ملک کے ہر فرد کے وزیر اعظم ہیں، کسی ایک جماعت کے نہیں۔ بعد ازاں جسٹس عیسیٰ نے یہ کیس چیف جسٹس آف پاکستان کو بھجوا دیا جس پر ابھی تک مزید کاروائی نہیں کی گئی۔
اس حوالے سے مسلم لیگ نون کے مرکزی رہنما مریم نواز نے بھی وزیراعظم عمران خان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ یکم نومبر کو لاہور میں نون لیگ کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ حکومت کو جسٹس فائز عیسیٰ سے اس بات کی تکلیف ہے کہ انھوں نے چند برس قبل فیض آباد دھرنا کیس میں خفیہ ایجنسیوں کے کردار پر سوالات اٹھائے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور کپتان حکومت مل کر قاضی فائز عیسیٰ کو سپریم کورٹ سے نکالنا چاہتے ہیں تاکہ 2023 میں وہ سنیارٹی کے لحاظ سے چیف جسٹس پاکستان نہ بن سکیں۔ واضح رہے کہ موجودہ چیف جسٹس جسٹس گلزار احمد دوسال ایک ماہ تک چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے پر فائر رہیں گے۔ سنیارٹی کے اعتبار سے اگلا نمبرجسٹس عمرعطا بندیال کا ہوگا جو 2فروری 2022سے ایک سال سات ماہ 15دن کے لیے اس عہدے پرفائز رہیں گے۔ موجودہ جج صاحبان میں سے جسٹس قاضی فائز عیسی 17ستمبر 2023 کو ایک سال نوماہ اور نو دن کے لیے چیف جسٹس آف پاکستان کا عہدہ سنبھالیں گے۔
