جسٹس نقوی سے اربوں روپے کی کرپشن کا حساب کون لے گا؟

سپریم کورٹ کے جج جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی کو استعفے کے بعد مکمل پنشن مراعات ملیں گی اور سپریم جوڈیشل کونسل میں جاری ان کیخلاف مبینہ کرپشن کی کارروائی پر ان کا احتساب نہیں ہوگا۔ تاہم دوسری جانب جہاں جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف ریفرنس دائر کرنے والے ایڈووکیٹ میاں داؤد نے ٹرک والے جج کا استعفی سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے وہیں دوسری جانب نون لیگ نے بھی جسٹس نقوی کو مالی بدعنوانی پر کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔
سینئر صحافی انصار عباسی کی ایک رپورٹ کے مطابق جسٹس مظاہر نقوی کا یہ معاملہ اعلیٰ عدلیہ کے ناقص نظامِ احتساب کا ایک بہترین کیس ہے، جو بدعنوانی یا بدعنوانی کے الزامات کا سامنا کرنے والے جج کے احتساب کی بجائے اسے مستعفی ہونے کی اجازت دیتا ہے تاکہ وہ کرپشن کی مبینہ رقم اور پنشنری فوائد دونوں سے لطف اندوز ہو سکیں، اور ایسے شخص کو دوبارہ کبھی خوف نہیں ہوتا کہ اس سے اس کے غلط کاموں کا حساب لیا جائے گا۔
انصار عباسی کے مطابق چند سال قبل، لاہور ہائی کورٹ کے ایک جج کرپشن ریفرنس کے سلسلے میں سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے پیش ہونے سے صرف دو روز قبل استعفیٰ دیکر احتساب سے بچ گئے تھے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق جج کے ڈرائیور کے نام پر بڑے پیمانے پر بینک ٹرانزیکشن کا انکشاف ہوا تھا۔ یہ لین دین مبینہ طور پر جج کی طرف سے تھا، جس کی وجہ سے تحقیقات کا آغاز ہوا۔ اسی طرح اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک جج نے غیر قانونی تقرریوں کے ایک مبینہ کیس میں سپریم جوڈیشل کونسل کا سامنا کرنے کے بجائے ریٹائر ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔
انصار عباسی کے مطابق ججوں کے احتساب کے ناقص نظام پر توجہ دینے کے بجائے، سپریم کورٹ نے جون 2023 میں یہ بھی کہا تھا کہ آرٹیکل 209 کا اطلاق ایسے شخص پر نہیں ہوتا جو ہائی کورٹ یا پھر سپریم کورٹ کے جج کے عہدے سے ریٹائر ہوچکا ہو یا استعفیٰ دے چکا ہو۔ یہ آرٹیکل بدعنوانی کی وجہ سے اعلیٰ عدالت کے جج کو ہٹانے سے متعلق ہے۔ اعلیٰ عدالت کے جج کی مبینہ بدانتظامی کیخلاف تجویز کی منطق پر اس طرح کی شکایت ریٹائرمنٹ یا استعفیٰ کے برسوں بعد بھی دائر کی جا سکتی ہے۔
سپریم کورٹ نے سول سوسائٹی کے ارکان کی طرف سے دائر آئینی درخواست کو خارج کر دیا تھا جس میں سپریم جوڈیشل کونسل سے رہنمائی حاصل کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ سپریم جوڈیشل کونسل ایک آئینی فورم ہے جو اعلیٰ عدالت کے ججوں کو جوابدہ ٹھہرا سکتا ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ آئین ایک ایسے شخص کے درمیان فرق کرتا ہے، جو متعلقہ وقت پر، جج کے عہدے پر فائز ہوتا ہے اور وہ، جو ماضی میں اس عہدے پر فائز رہا ہے، لیکن اب وہ فائز نہیں ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 209 صرف سابقہ پر لاگو ہوتا ہے نہ کہ آخر الذکر پر۔
خیال رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے گزشتہ سال 27 اکتوبر کو جسٹس مظاہر نقوی کو بنچ میں تبدیلی اور مالی بے ضابطگیوں پر اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا تھا۔ ان کیخلاف پاکستان بار کونسل، ایڈووکیٹ میاں داؤد اور دیگر نے شکایات دائر کی تھیں۔ 20 نومبر کو، انہوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی اور اظہار وجوہ کے نوٹس کو چیلنج کیا اور ساتھ ہی یہ موقف اختیار کیا کہ کارروائی کا آغاز غیر عدالتی اور قانونی اختیار کے بغیر تھا۔ گزشتہ ہفتے جسٹس مظاہر نقوی نے آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی، جس میں انہوں نے اپنے خلاف دائر شکایات کو عدلیہ کی آزادی پر براہ راست اور صریح حملہ قرار دیا تھا۔ جسٹس مظاہر نقوی کے استعفیٰ سے ایک دن قبل، سپریم کورٹ نے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی روکنے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ میرٹ پر کیس کی سماعت کے بعد حکم امتناع جاری نہیں کیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد جسٹس نقوی کے پاس کارروائی کا سامنا کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا۔ ملازمت سے ممکنہ برطرفی سے بچنے کیلئے انہوں نے ریٹائر ہونے کا فیصلہ کیا۔ تاکہ نہ صرف وہ اپنی کرپشن سے حاصل کردہ اثاثے محفوظ رکھ سکیں بلکہ اپنی بعد از ریٹائرمنٹ حاصل ہونے والی مراعات بھی بچا سکیں۔
خیال رہے کہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی عہدے سے مستعفی ہونے والے سپریم کورٹ کے پہلے جج نہیں ہیں،اس سے پہلے سپریم کورٹ کے 6اور ہائی کورٹس کے 10ججز نے مختلف ادوار میں مختلف وجوہات کی بنا پر استعفیٰ دیا۔
جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی بطور جج سپریم کورٹ مستعفی ہونے والے ساتویں جج ہیں۔ 2016ء میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس اقبال حمید الرحمان اپنے عہدے سے مستعفی ہوئے، بطور اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ان پر متنازع تعیناتیوں کا الزام تھا جو بعد میں سپریم کورٹ میں بھی گیا اور عدالتِ عظمیٰ نے ان تمام تعیناتیوں کو کالعدم بھی قرار دے دیا تھا تاہم متنازع تعیناتیوں میں نام نہ ہونے کے باجود وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے۔
سال 2001ء میں بے نظیر بھٹو کرپشن کیس میں جانبداری کے الزام پر جسٹس راشد عزیز نے استعفیٰ دیا تھا۔
3 نومبر 2007ء کو سابق صدر پرویز مشرف کے پی سی او حکم نامے کے تحت حلف اْٹھا نے پر سپریم کورٹ کے جسٹس فقیر محمد کھوکھر اور جسٹس ایم جاوید بٹر نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا۔
سال 2001ء میں ہی لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس ملک محمد قیوم نے 1999ء میں بے نظیر بھٹو کرپشن کیس میں جانبدار ہونے کے الزام پر عہدہ چھوڑ دیا تھا۔
اپریل 2019ء میں لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس فرخ عرفان پاناما پیپرز میں نام سامنے آنے اور سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس زیر سماعت ہونے پر مستعفی ہوئے۔ فروری 2017ء میں لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس مظہر اقبال سندھو کرپشن الزامات کے بعد مستعفی ہوئے۔جسٹس مظہر اقبال پر سپریم جوڈیشل کونسل میں کرپشن الزامات کے حوالے سے ریفرنس زیر سماعت تھا۔ مئی 2015ء میں سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس محمد تسنیم ذاتی وجوہات کی بنا پر استعفیٰ ہوئے۔
پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس امان اللہ خان یاسین زئی جسٹس نادر خان ، جسٹس اختر زمان ملغانی، جسٹس احمد خان لاشاری او رجسٹس مہتہ کیلاش ناتھ سمیت مستعفی ہوئے۔ جنرل یحییٰ خان دور میں لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس فضل غنی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا گیا۔ انہوں نے اپنے خلاف ریفرنس آنے پر عہدہ چھوڑدیا تھا۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں سپریم کورٹ کے جسٹس صفدر شاہ کے خلاف ریفرنس آیا لیکن انہوں نے ریفرنس کا سامنا کرنے کے بجائے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
