جسٹس وقار سیٹھ فوجی عدالت کے فیصلوں کی دھجیاں کیسے اڑائیں؟


پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ نے فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ 196 ملزمان کی اپنی سزاؤں کے خلاف اپیلیں منظور کرتے ہوئے فوجی عدالت کے فیصلوں کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔پشاور ہائی کورٹ نے فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ افراد کے کیس کا تفصیلی فیصلہ جمعے کو جاری کیا جس میں 196 افراد کی اپیلیں منظور کی گئی تھیں۔
یاد ریے کہ پشاور ہائی کورٹ نے فوجی عدالتوں کی طرف سے مختلف الزامات کے تحت سزاؤں کے خلاف دائر اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے 196 افراد کی سزائیں کالعدم قرار دے دی تھیں جبکہ مزید ایک سو سے زیادہ مقدمات کا ریکارڈ طلب کیا تھا۔ فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے افراد کی اپیلوں پر مختصر فیصلہ مئی 2020 میں سنایا گیا تھا۔ تاہم 10 جولائی 2020 کو جاری کردہ اپنے تفصیلی فیصلے میں جسٹس وقار احمد سیٹھ نے فوجی عدالت کی طرف سے سنائی جانے والی سزاؤں کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے کہا ہے کہ ملزمان کو شفاف ٹرائل کا موقع نہیں دیا گیا، یہاں تک کہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے ملزمان یا جنھیں سزا سنائی گئی ہے انھیں اپنا وکیل رکھنے کا موقع بھی فراہم نہیں کیا اور یہ آئین کے آرٹیکل 10 اور 10 اے کی خلاف ورزی ہے۔
فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ یہ مشاہدے میں آیا ہے کہ درخواست گزاروں یا جنھیں سزا سنائی گئی انھیں اس وقت تک دنیا سے الگ تھلگ رکھا گیا، یہاں تک کہ انھیں خاندان کے افراد، والدین اور وکیلوں تک بھی اس وقت تک رسائی فراہم نہیں کی گئی جب تک کہ حراست کے دوران ان کا فیصلہ نہیں سنا دیا گیا۔ فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان آرمی کے رول 82، 83 اور 87 جنھیں رول 23 اور 24 کے ساتھ پڑھا جا سکتا ہے، میں واضح طور پر لکھا ہے کہ جس شخص کے خلاف مقدمہ فوجی عدالت میں زیر سماعت ہو، اسے دفاع کے لیے وکیل کرنے کی اجازت ہے لیکن اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ چنانچہ اس فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مقدمے کے دوران ملزمان کے وکیل کے بغیر ٹرائل کو شفاف نہیں سمجھا جا سکتا لہذا ان کی اپیلیں منظور کرکے ان کی رہائی کے احکامات جاری کیے جاتے ہیں۔
عدالت نے کہا ہے کہ ملزم یا جسے سزا سنائی گئی ہے اسے یہ حق دیا جاتا کہ وہ اپنے والدین یا رشتہ داروں کو اپنے جرائم یا اپنے بارے میں بتا سکتا تاکہ وہ اپنے لیے بہتر وکیل کر سکتے۔ فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ فوجی عدالتوں کے فیصلوں میں ملزمان کے ساتھ جو سلوک کیا گیا، وہ آئین کے صریحاً خلاف ہے۔پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کو شواہد کے حصول کے لیے وہی اصول اپنانے چاہیے تھے جو ملک میں فوجداری مقدمات کی سماعت کے لیے عدالتوں میں اختیار کیے جاتے ہیں۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مقدمے کی سماعت کے دوران ملک میں رائج قانون کے اصولوں پر عمل درآمد نہ کرنے سے اس کا اثر پورے مقدمے پر پڑ سکتا ہے۔
تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مقدمے کا سارا انحصار ملزمان یا جنھیں سزا سنائی گئی ہے ان کے اعترافی بیان پر مشتمل ہے جو ان ملزمان سے حراست کے دوران جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے لیا گیا ہے جو جوڈیشل مجسٹریٹ اس کا مجاز نہیں ہے اور نہ ہی اس بارے میں اس کا اعلان کیا گیا تھا۔
فیصلے میں یہ لکھا گیا ہے کہ یہ بیان کرنا اہم ہے کہ جنھیں سزا سنائی گئی ہے ان کے خلاف براہ راست نہ تو کوئی شکایت کہیں سامنے لائی گئی ہے، نہ کوئی ایف آئی آر درج ہے اور نہ ہی کوئی ایسی تفتیش سامنے لائی گئی ہے جس سے ملزمان یا جنھیں سزا سنائی گئی ہے ان کے خلاف فرد جرم عائد کرنے کو تقویت مل سکتی، اس لیے یہ واضح ہوتا ہے کہ تمام کارروائی آرمی ایکٹ/رول کے خلاف کی گئی ہے اور دیگر بنیادی حقوق اور انصاف کے تقاضوں پر عمل کرنا تو دور کی بات ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جن نکات کا ذکر کیا گیا ہے، ان کے باعث عدالت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ شواہد کے بغیر سزا دینا قانون کے تقاضوں کے مطابق نہیں ہے اور ان افراد کو سزا دینے کے لیے مہینوں اور برسوں حراست میں رکھنے کو سراہا نہیں جا سکتا۔
جسٹس وقار سیٹھ کے جاری کردہ تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اعلیٰ عدالت کے فیصلوں کے تناظر میں ان اپیلوں کا جائزہ لیتے ہوئے ان اپیلوں کو منظور کیا جاتا ہے اور فوجی عدالتوں کی سزائیں کالعدم قرار دی جاتی ہیں۔ یاد رہے کہ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ وقار احمد سیٹھ کی عدالت میں فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے تقریباً 300 سے زیادہ افراد کی اپیلیں زیرِ سماعت تھیں لیکن پشاور ہائی کورٹ نے ان اپیلوں پر فیصلہ سنایا ہے جن کے مکمل ریکارڈ عدالت کو فراہم کر دیے گئے تھے۔ اس وقت پشاور ہائی کورٹ میں اس نوعیت کی مزید 100 سے زیادہ اپیلیں موجود ہیں جن کی سماعت کے لیے 22 جولائی کی تاریخ مقرر ہے اور سرکار سے کہا گیا ہے کہ ان افراد کی ریکارڈ بھی عدالت میں پیش کیے جائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button