جنرل باجوہ نے عمران خان سے خفیہ ملاقات کیوں کی؟

معروف اینکر پرسن اور سینئر صحافی سلیم صافی نے پہلی مرتبہ ایوان صدر میں آرمی چیف جنرل قمر باجوہ اور عمران خان کی خفیہ ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ اہم ملاقات کیوں اور کیسے ہوئی، اس کا کیا نتیجہ نکلا اور اسکی خبر عمران نے کیوں لیک کروائی؟ اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سلیم صافی کہتے ہیں کہ ان سب سوالوں کا جواب اور متعلقہ معلومات کافی دنوں سے میرے سینے میں دفن تھیں تاہم اس وجہ سے میں اس طرف نہیں جارہا تھا کہ کہیں سیلاب زدگان پر توجہ نہ دینے کے جرم میں کہیں میں بھی شریک نہ ہوجائوں لیکن بدقسمتی سے عمران خان نہ تو باز آرہے ہیں نہ ان کے ترجمان اور ان کاحامی میڈیا۔ وہ بتاتے ہیں کہ خان صاحب نے پہلے ایوان صدر میں اس خفیہ میٹنگ کی خبر لیک کروائی، پھر انہوں نے اپنے رویے سے ایسا تاثر دیا کہ جیسے انہیں ایک بار پھر اسٹیبلشمنٹ نےگود لے لیا ہے۔ اسکے بعد انہوں نے ایک اور جھوٹی خبر پھیلا دی کہ آرمی چیف جنرل باجوہ کورکمانڈر بہاولپور فیض حمید کی گاڑی میں بیٹھ کر کر ایک سیف ہاؤس میں عمران خان نیازی سے ملے ہیں جہاں بہت سارے معاملات طے کر لیے گئے۔ کچھ ریٹائرڈ فوجیوں کے ذریعے یہ جھوٹ بھی پھیلایا گیا کہ میٹنگ عمران کی خقلواہش پر نہیں بلکہ فوجی قیادت کی کوششوں سے ہوئی۔
سلیم صافی کہتے ہیں کہ جب یہ سب کچھ کرنے کے بعد بھی عمران نیازی کی خواہش پوری نہیں ہوئی تو انہوں نے دوبارہ یوٹرن لیا اور ڈی جی آئی ایس پی آر کا نام جلسوں میں لے کر فوج کو عوام کے سامنے آنکھیں دکھانے لگے۔ لہٰذا آج میں اس حوالے سے حقائق سامنے لانے پر مجبور ہوا ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ حکومت سے نکالے جانے کے بعد شاید ہی کوئی روز ایسا گزرا ہو کہ جب عمران نیازی یا ان کے کسی نمائندے نے مختلف چینلز سے آرمی چیف یا ڈی جی آئی ایس آئی کا منت ترلہ نہ کیا ہو۔
ان کا یہی مطالبہ رہا کہ وہ ماضی کی طرح انہیں گود لے کر موجودہ حکومت کو رخصت کر کے دوبارہ الیکشن کروا دیں تو وہ سب کچھ کرنے کو تیار ہیں۔ ان رابطوں کے دوران انہوں نے جنرل قمر باجوہ کو گارنٹی کے ساتھ ایکسٹینشن کی آفر بھی کی لیکن وہ نیوٹرل رہنے پر اصرار کرتے ہوئے ملاقات سے انکار کرتے رہے۔ نہ چیف کے رشتہ داروں کو چھوڑا گیا، نہ سابق فوجی افسران کو اور نہ ان کے ذاتی دوستوں کو۔ نوبت یہاں تک آئی کہ افغانستان کے لئے امریکہ کے سابق نمائندے زلمے خلیل زاد سے بھی آرمی چیف کو درخواستیں کروائی گئیں کہ وہ عمران نیازی سے ایک ملاقات کرلیں۔ واضح رہے کہ زلمے خلیل زاد حکومت کی تبدیلی کے ایک ماہ بعد پاکستان آئے تھے اور عمران نیازی سے خفیہ اور طویل ملاقات کی تھی۔ علاوہ ازیں پنجاب کے وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی بھی دن رات منت ترلے میں لگے رہے جبکہ عارف علوی بھی ہمہ وقت اسی کام میں لگے رہے لیکن آرمی چیف پھر بھی ملنے کو تیار نہیں تھے۔
سلیم صافی بتاتے ہیں کہ نوبت یہاں تک آئی کہ ایک دن اچانک صدر عارف علوی آرمی چیف کے گھر جا پہنچے اور کافی دیر تک منت ترلہ کرکے انہیں اپنے گھر یعنی ایوان صدر میں عمران نیازی سے ملاقات پر آمادہ کیا۔ چنانچہ عمران نیازی سے شدید مایوس اور دکھی جنرل قمر باجوہ وزیراعظم شہباز شریف کو مطلع کرکے اس ملاقات کیلئے ایوان صدر گئے۔ حسبِ عادت عمران نیازی نے ان سے درخواست کی کہ وہ ایم کیوایم اور باپ پارٹی کو حکومتی اتحاد الگ کروا کر پی ڈی ایم حکومت ختم کروا دیں اور فوری الیکشن کروائیں۔ جواب میں انہیں بتایا گیا کہ پہلے ہی انہیں اقتدار میں لانے اور پھر ان کی حکومت بچانے کے لئے غیر آئینی کردار ادا کرنے کی وجہ سے فوج بہت ذیادہ بدنام ہوئی ہے اور وہ دوبارہ یہ غلطی نہیں کر سکتی۔ ان کے سامنے اعدادوشمار رکھ کر بتایا گیا کہ اگر وہ اقتدار میں رہتے تو جون 2023 تک ملک ڈیفالٹ کرجاتا جبکہ امریکی سازش کے جھوٹے بیانیے سے بھی انہوں نے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔
جب عمران نیازی نے آرمی چیف سے چاند مانگنے پر اصرار کیا اور عارف علوی نے ان کی سفارش کی تو جواب میں انہیں بتایا گیا کہ ان کی تمام احسان فراموشیوں اور فوج میں تقسیم کی کوشش کے باوجود فوجی قیادت ان کے ساتھ دشمنی نہیں چاہتی اور نہ یہ چاہتی ہے کہ ان کے ساتھ وہ سلوک ہو جو بھٹو یا نواز شریف وغیرہ کے ساتھ ہوا، لیکن فوج انہیں فوری الیکشن نہیں دلوا سکتی کیونکہ یہ اس کا کام نہیں ہے اور ویسے بھی حکومت کی مدت اگست میں ختم ہونی ہے۔ عمران خان کو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ موجودہ سیٹ اپ نے آئی ایم ایف سے ڈیل کرکے وقتی طور پر ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچالیا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ معاشی استحکام آگیا ہے۔ اب بھی ڈالر اور مہنگائی کنٹرول میں نہیں آرہے ہیں۔ روزانہ فوج اور حکومت کوششیں کرکے چند ارب کا انتظام کرتی اور ملکی انتظام چلاتی ہے جبکہ اوپر سے سیلاب نے کسر پوری کردی ۔ تاہم اگر اتحادی جماعتوں کا آپس میں کوئی مسئلہ آجاتا ہے اور حکومت خود ٹوٹ جاتی ہے یا پھر اگر معاشی استحکام کے بعد متفقہ طور پر سیاسی جماعتیں قبل ازوقت الیکشن کراتی ہیں تو فوج نہ تو کوئی رکاوٹ ڈالے گی اور نہ ہی کسی قسم کی مداخلت کرے گی۔ عمران کو باور کروایا گیا کہ اس وقت بھی دو صوبوں اور گلگت بلتستان میں ان کی حکومت ہے لہٰذا بہتر ہوگا کہ وہ پارلیمنٹ میں واپس جائیں اور مفاہمت کے ذریعے ملک کو معاشی بحران سے نکالنے اور نئے انتخابات کا راستہ نکالیں۔
سلیم صافی کے بقول، ایوان صدر میں ہونے والی ملاقات میں آرمی چیف کی جانب سے عمران خان کو بتایا گیا کہ وہ اگر پاپولر ہورہے ہیں تو فوج ان کا راستہ نہیں روکے گی اور اگر وہ اگلے انتخابات بھی جیتتے ہیں تو بھی کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی اور فوج اس عمل سے ویسے ہی لاتعلق رہے گی جیسے پنجاب کے ضمنی انتخابات میں لاتعلق رہی۔ یوں یہ میٹنگ بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوئی۔ شاید اس کے بعد بھی عمران نیازی اور فوجی قیادت کے مابین تناؤ میں کمی آتی لیکن عمران خان نے پہلے اس میٹنگ کی خبر کو لیک کرایا اور پھر اسکے بارے یہ جھوٹا تاثر دیا کہ جیسے یہ میٹنگ فوج کی خواہش یا مجبوری تھی۔ اس کے بعد عمران خان نے آرمی چیف کے عہدے میں توسیع کی تجویز دے کر چالاکی سے یہ جھوٹا تاثر دیا کہ فوج کے ساتھ ان کی پھر دے ڈیل ہو گئی ہے۔ یوں انہوں نے حکومت اور فوج کو آپس میں بدگمان کرنے کی کوشش کی۔
پھر انہوں نے جنرل فیض حمید کے ذریعے آرمی چیف سے ایک اور خفیہ میٹنگ کی جھوٹی خبر پھیلا دی اور ظاہر ہے ان خبروں سے تمام ادارے متاثر ہوتے رہے، لیکن جب عمران کو سمجھ آ گئی کہ نومبر سے پہلے کسی صورت نئے الیکشن نہیں ہوسکتے اور ان کے ہاتھوں ان کی پسند کے نئے آرمی چیف کی تقرری کی خواہش بھی پوری نہیں ہو سکتی تو وہ دوبارہ بلیک میلنگ پر اتر آئے اور عوامی جلسے میں سپہ سالار کو گیدڑ قرار دے دیا۔ اسکے بعد آرمی چیف سے چھپ کر ملاقات کرنے والے عمران نے نے پی ٹی آئی کور کمیٹی کے اجلاس میں اپنے ان ساتھیوں کو کھری کھری سنائیں جو اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطے میں تھے اور ان پر پابندی لگائی کہ وہ آئندہ کوئی ملاقات نہیں کریں گے۔ اس موقع پر پرویز خٹک جیسوں کو بھی جھاڑیں سننا پڑیں جو خود عمران کے نمائندے کے طور پر بھائی لوگوں سے ملنے جاتے تھے۔ سلیم صافی کہتے ہیں کہ جنرل فیض حمید کے آبائی شہر چکوال میں عمران نے ایک مرتبہ پھر شیر نظر آنے کی کوشش کی اور فوج اور آئی ایس آئی کو خوب سنائیں۔ اگرچہ اب کی بار آئی ایس پی آر کی جانب سے ان کی دھمکیوں پر کوئی ردعمل نہیں آیا لیکن میری معلومات کے مطابق فوج کی صفوں میں غصے کی جو لہر اب دوڑ گئی ہے، پہلے کبھی نہیں تھی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آگے فوج کیا ردعمل ظاہر کرتی ہے اور عمران نیازی اس لڑائی کو کہاں تک لے جاتے ہیں۔

Back to top button