جنرل باجوہ کی توسیع کی مخالفت کرنے والے پر بغاوت ثابت


گوجرانوالہ چھاؤنی کی فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے پاک فوج کے ایک ریٹائرڈ میجر جنرل کے بیٹے کو جنرل قمر جاوید باجوہ کو ملازمت میں توسیع لینے پر تنقیدی خط لکھنے کے جرم میں بغاوت کا الزام عائد کر کے پانچ برس قید بامشقت کی سزا سنائی ہے جو کہ ہماری فوجی تاریخ میں پہلا واقعہ ہے۔ عسکری ذرائع کے مطابق کمپیوٹر انجینئیر حسن عسکری کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی گوجرانوالہ چھاؤنی میں کی گئی جس کے دوران ملزم کو اپنی مرضی کا وکیل کرنے کی اجازت نہیں ملی اور فوجی عدالت سے ہی وکیل فراہم کیا گیا۔ سزا سنانے کے بعد مجرم حسن عسکری کو ساہیوال میں واقع ہائی سکیورٹی جیل منتقل کیا گیا ہے جہاں وہ پانچ برس قید بامشقت کی سزا کاٹیں گے۔حسن عسکری کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 131 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا جو فوج کے کسی بھی افسر یا اہلکار کو بغاوت پر اُکسانے کے زمرے میں آتا ہے۔
بی بی سی کے مطابق فوجی عدالت سے مجرم کو سزا اس سال جولائی میں سنائی گئی تھی اور اس بارے میں فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے بھی اس سلسلے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا لیکن اس بارے میں تفصیلات حسن عسکری کے والد کی جانب سے حال ہی میں لاہور ہائیکورٹ پنڈی بینچ میں اپنے بیٹے کی ساہیوال جیل سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں منتقلی کی درخواست میں سامنے آئی ہیں۔ اس درخواست پر عدالت نے فیلڈ جنرل کورٹ مارشل سمیت تمام متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔ حسن عسکری پر الزام تھا کہ انھوں نے ستمبر 2020 میں جنرل قمر جاوید باجوہ کو ایک خط تحریر کیا تھا جس میں اُنکی مدت ملازمت میں توسیع اور انکی فوجی پالیسوں پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے انھیں مستعفی ہونے کو کہا تھا۔
سزا پانے والے حسن عسکری کے والد میجر جنرل ریٹائرڈ ظفر مہدی عسکری کی جانب سے درخواست میں کہا گیا ہے کہ انھیں معلوم ہوا ہے کہ ان کے بیٹے پر مقدمہ گوجرانوالہ چھاؤنی میں چلا ہے جہاں فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے انھیں ایک خط لکھنے پر مجرم گردانتے ہوئے پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے۔
میجر جنرل ظفر مہدی عسکری کی درخواست میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ انکے بیٹے حسن عسکری کو سزا سنائے جانے کے بعد ان کے اہلخانہ کو کئی ہفتے تک اس بارے میں اندھیرے میں رکھا گیا جبکہ درخواست گزار کی بیٹی نے متعدد بار جنرل ہیڈکوارٹرز سے بھی رابطہ کیا لیکن وہاں سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ میجر جنرل کے مطابق اس بارے جیگ برانچ میں تعینات بریگیڈیئر وسیم سے بھی رابطہ کیا گیا تو انھوں نے بتایا کہ حسن عسکری کو ساہیوال کی ہائی سکیورٹی جیل میں رکھا گیا ہے اور جیل حکام نے متعدد بار رابطہ کرنے کے باوجود صرف ایک مرتبہ انھیں حسن عسکری سے ملنے کی اجازت دی ہے۔ حسن کے والد نے اس بات کی بھی نشاندہی کی ہے کہ انکے بیٹے کو اپنے وکیل سے ملنے کی بھی اجازت نہیں دی جا رہی۔ اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ انھوں نے اگست میں انسانی حقوق کی وزارت کو ایک خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ چونکہ حسن عسکری کے والدین اسلام آباد میں رہتے ہیں اس لیے مجرم کو قریبی جیل یعنی راولپنڈی کی اڈیالہ جیل منتقل کر دیا جائے کیونکہ مجرم کے والدین بوڑھے ہو چکے ہیں جبکہ مجرم کی والدہ شدید بیمار ہیں اور ہفتے میں تین دن ان کے ڈائلیسز ہوتے ہیں۔
میجر جنرل ریٹائرڈ ظفر مہدی نے یہ موقف اختیار کیا یے کہ محکمہ جیل خانہ جات پنجاب کے سربراہ کو خط لکھا گیا لیکن وہاں سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ درخواست گزار کا موقف ہے کہ محکمہ جیل خانہ جات کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ کسی بھی قیدی کو صوبے کی حدود میں واقع کسی بھی جیل میں منتقل کر سکتے ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے کمپیوٹر انجینیئر حسن عسکری پر الزام تھا کہ انھوں نے گذشتہ برس ستمبر میں جنرل قمر جاوید باجوہ کو خط تحریر کیا تھا جس میں اُن کی مدت ملازمت میں توسیع اور فوج کی پالیسوں پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے انھیں مستعفی ہونے کو کہا تھا۔اس خط کی کاپیاں فوج میں حاضر سروس ٹو اور تھری سٹار جنرلز کو بھی بھیجی گئی تھیں۔ حسن عسکری کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 131 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا جو فوج کے کسی بھی افسر یا اہلکار کو بغاوت پر اُکسانے کے زمرے میں آتا ہے۔ اس حوالے سے درج ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ملزم حسن عسکری نے اپنے خطوط میں فوج کی اعلیٰ قیادت کے خلاف غیر قانونی ریمارکس بھی دیے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم کا تعلق ملک دشمن عناصر سے ہے جو فوج میں انارکی پھیلانا چاہتے ہیں۔
یاد رہے کہ رواں برس جنوری میں یہ معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں آیا تھا تو عدالت نے بغاوت کے مقدمے کی سماعت اِن کیمرہ کرنے کا حکم دیا تھا اور پھر کورٹ مارشل رکوانے سے متعلق درخواست یہ کہہ کر نمٹا دی تھی کہ اس کا فیصلہ متعلقہ فوجی حکام ہی کریں گے کہ آیا سویلین کا کورٹ مارشل ہو سکتا ہے یا نہیں۔ حسن عسکری کے والد نے اپنی درخواست میں عدالت کو آگاہ کیا تھا کہ اسلام آباد پولیس اور سادہ کپڑوں میں ملبوس چند سکیورٹی اہلکار، جن کے بارے میں شبہ ہے کہ ان کا تعلق ملٹری انٹیلیجنس سے ہے، اُن کے گھر پر آئے اور ان کے بیٹے کو گرفتار کر کے لے گئے۔ ان کے مطابق ان اہلکاروں کی طرف سے حسن عسکری کو زبردستی اپنے ساتھ لے جانے کے دو روز کے بعد ان کے اہلخانہ کو ڈاک کے ذریعے ایک دستاویز ملی جو ایک ایف آئی آر تھی۔ ان کے مطابق یہ ایف آئی آر خفیہ اداروں کے اہلکاروں کی طرف سے ان کے گھر پر چھاپہ مارنے سے ایک روز قبل تھانہ شالیمار میں درج کروائی گئی تھی۔ ان کے مطابق دوسری دستاویز انھیں اگلے روز ملی جس میں اس بات کا ذکر کیا گیا تھا کہ اسلام آباد کے ایک مقامی مجسٹریٹ نے ملزم کو پاکستان آرمی کے کمانڈنگ افسر کے حوالے کر دیا ہے تاہم اس کمانڈنگ افسر کے نام کا کہیں بھی ذکر نہیں تھا۔
سماعت کے دوران فوج کے ایڈجوٹینٹ جنرل نے حسن عسکری کو تحویل میں لیے جانے کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان پر ’پاکستانی فوج میں بغاوت اور فوجی افسران کو اپنی کمانڈ کے خلاف اُکسانے جیسے سنگین الزامات ہیں جن کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔‘ جسٹس محسن اختر کیانی کی سربراہی میں سنگل بینچ کے فیصلے کے خلاف میجر جنرل ریٹائرڈ ظفر مہدی نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں انٹراکورٹ اپیل بھی دائر کر رکھی ہے جو ابھی تک سماعت کے لیے مقرر نہیں ہوئی۔

Back to top button