جنرل ضیاء کے طیارہ حادثے کی کہانی، اسلم بیگ کی زبانی

سابق آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ اپنی سوانح عمری میں بتاتے ہیں کہ 17 اگست 1988 کے روز جب بہاولپور سے ٹیک آف کے بعد انہیں فضائی راستے میں جنرل ضیاء الحق کا طیارہ آگ کی لپیٹ میں زمین پر گرا ہوا نظر آیا تو انھوں نے پائلٹ کو کہا کہ اب ہم کچھ نہیں کر سکتے لہذا اپنے جہاز کا رخ راولپنڈی کی طرف کر لو، جو ہونا تھا وہ ہو چکا ہے۔
حال ہی میں شائع ہونے والی اپنی سوانح حیات ’اقتدار کی مجبوریاں‘ میں جنرل اسلم بیگ نے حادثے کے روز اور اس کے پہلے کی تفصیلات بیان کی ہیں۔ ضیاالحق کی ہلاکت کے بعد جنرل اسلم بیگ فوج کے سربراہ بنے تھے۔ جنرل اسلم بیگ اس حادثے کے وقت وائس چیف آف سٹاف تھے۔
17 اگست 1988 کو بہاولپور کے قریب پیش آنے والے اس مبینہ فضائی حادثے میں صدر جنرل ضیا الحق، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل اختر رحمان، امریکی سفیر آرنلڈ لوئس رافل سمیت 30 کے قریب افراد ہلاک ہو گئے۔
اسلم بیگ اپنی کتاب میں کہتے ہیں کہ ’سامنے دھواں نظر آ رہا تھا، اگلے ہی لمحے ہمارا طیارہ اس کے نزدیک پہنچ چکا تھا۔ وہاں ایک ہیلی کاپٹر بھی اُتر رہا تھا، ہیلی کاپٹر کے پائلٹ سے رابطہ کیا تو اُس نے بتایا کہ ’پاکستان ون‘ یعنی سی ون تھرٹی کریش ہو گیا ہے اور کوئی نظر نہیں آ رہا۔ اس قسم کے حالات میں مجھے اہم فیصلہ کرنا تھا۔ اگر میں جائے حادثہ پر پہنچ بھی جاتا، تو کچھ کر نہیں سکتا تھا۔ اسی لیے میں نے پائلٹ کو کہا کہ سیدھے راولپنڈی چلو۔‘ اسلم بیگ لکھتے ہیں کہ 1988 میں الخالد ٹینک کا پروٹو ٹائپ چین اور پاکستان کی مشترکہ کوششوں سے مکمل ہو رہا تھا جس کے ساتھ ٹرائل کے لیے امریکہ کا ’ایم ون ابراہم‘ ٹینک پاکستان لانے کی تیاریاں تھیں۔ سینیئر افسران اور خود جنرل ضیا کو یقین نہیں تھا کہ ہم کوئی ایسا ٹینک بنا سکیں گے جو دور حاضر کے جنگی تقاضوں کے مطابق ہو۔ لیکن ہماری کوشش کامیاب ہو گئی۔ الخالد ٹینک کے تین نمونے تیار ہوئے اور حتمی ٹیسٹ کے لیے الخالد اور ایم ون ٹینک ملتان پہنچ گئے۔‘
الخالد اور ایم ون ٹینک کی آزمائش بہاولپور کے قریب واقع ’ٹامے والی‘ فائرنگ رینج میں رکھی گئی۔ اسلم بیگ لکھتے ہیں کہ بہاولپور جانے کے لیے جی ایچ کیو نے اہم شخصیات اور متعلقہ افسران کی دو فہرستیں تیار کیں، ایک جنرل ضیا کا گروپ تھا اور دوسرا چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل اختر عبدالرحمان کا۔
دوسرے گروپ نے تین دن بعد ٹرائل دیکھنا تھا جبکہ پہلا ٹرائل 17 اگست کو تھا۔ ’اس سے ایک دن پہلے جنرل اختر عبدالرحمان مجھے گالف کورس میں ملےاور شکایت کی کہ انھیں پہلے گروپ میں کیوں نہیں رکھا؟ میں نے کہا اصول کے تحت سب سینیئر افسران ایک طیارے میں سفر نہیں کرتے جس پر وہ خاموش ہو گئے۔‘ بیگ مزید لکھتے ہیں کہ 17 اگست کو جنرل ضیا الحق تقریباً صبح 11 بجے قافلے کے ساتھ اپنے خصوصی جہاز سی ون تھرٹی سے بہاولپور پہنچے۔ انکے بہاولپور پہنچنے سے پہلے اسلم بیگ اُن کے استقبال کے لیے بہاولپور پہنچ چکے تھے۔ جب ضیا آئے تو اُن کے ساتھ جنرل اختر عبدالرحمان، امریکی سفیر، اُن کے ملٹری سیکریٹری اور دیگر متعلقہ افسران تھے۔ ایئرپورٹ کے لاؤنج میں فریش اپ ہوئے اور دو ہیلی کاپٹروں میں مہمانان خصوصی ٹامے والی رینج کی طرف روانہ ہوئے، ٹرائل ٹیم کے سربراہ میجر جنرل محمود درانی، اپنے ساتھیوں کے ہمراہ وہاں موجود تھے۔
’ٹرائل شروع ہوا جو تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہا، الخالد ٹینک تمام آزمائشوں میں کامیاب ہوا، امریکی ابراہم ایم ون ٹینک صرف چند ایک آزمائشوں میں کامیاب ہوا، اس کے نتیجے پر سب کو حیرت ہوئی لیکن اپنی آنکھوں سے دونوں ٹینکوں کی کارکردگی دیکھنے کے بعد شک و شبے کی گنجائش نہیں رہی۔‘ اسلم بیگ کے مطابق آزمائشی مشق دیکھنے کے بعد وہ تقریباً ڈیڑھ بجے بہاولپور کے لیے روانہ ہوئے اور ہیڈ کوارٹر میں تمام شرکا کے لیے کھانے کا انتظام تھا۔ ظہر کی نماز پڑھی اس کے بعد وہاں موجود بہاولپور کی کچھ شخصیات کے ساتھ جنرل ضیا نے ملاقات کی اور پھر تقریباً ساڑھے چار بجے وہ بہاولپور ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہوئے۔ میں جنرل ضیا کے ساتھ تھا اور انھیں جہاز تک چھوڑنے آیا۔ سب لوگ جہاز میں بیٹھ چکے تھے۔ جہاز میں داخل ہوتے ہوئے انھوں نے کہا کہ آپ بھی آ رہے ہیں۔۔۔ آئیے۔۔۔ مگر آپ کا تو اپنا جہاز ہے، جی ہاں میں اپنے جہاز سے آؤں گا اللہ حافظ۔ ضیاالحق کا جہاز ٹیک آف ہوا اس کے بعد میں بھی روانہ ہو گیا۔‘
اسلم بیگ لکھتے ہیں کہ ابھی کوئی دس منٹ ہوئے تھے کہ اُن کے پائلٹ کرنل منہاج نے پریشانی کے عالم میں بتایا ’سر اسلام آباد کنٹرول کا پاکستان ون سے رابطہ نہیں ہو رہا ہے، میں بھی کوشش کر رہا ہوں لیکن کوئی ریسپانس نہیں ہے، سب دعائیں پڑھنے لگے۔ پائلٹ نے بتایا سامنے دھواں نظر آ رہا ہے اور دوسرے لمحے ہمارا جہاز اس کے نزدیک پہنچ چکا تھا۔ ایک ہیلی کاپٹر بھی اُتر رہا تھا، جو ملتان جا رہا تھا، ہمارا جہاز اوپر چکر لگاتا رہا، ہیلی کاپٹر کے پائلٹ سے رابطہ کیا کیا انھوں نے بتایا کہ سی 130 کریش ہو گیا ہے، آگ لگی ہوئی ہے، کوئی نظر نہیں آ رہا۔‘اسلم بیگ بتاتے ہیں کہ ’جی ایچ کیو رابطہ کیا تو وہاں حالات پُرسکون تھے۔ حکم دیا فارمیشنز کو ریڈ الرٹ کر دو اور اگلے حکم کا انتظار کرو، میرے ساتھ جہاز میں بیٹھے ہوئے آفیسرز میری طرف دیکھ رہے تھے اور میں گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا۔ مجھے فیصلہ کرنا تھا کہ اقتدار اپنے ہاتھ میں لینا ہے یا اسے دینا ہے، جس کی امانت ہے۔ میرے ذہن میں والد کی نصیحتیں چل رہی تھی کہ حقدار کو اس کا حق دیں کیونکہ 1985 کے بعد 1988 میں بھی میں نے جنرل ضیا الحق کو مشورہ دیا تھا کہ الیکشن کرائیں اور اقتدار عوام کو سونپ دیں۔ اب جب حالات نے مجھے اس مقام پر لا کر کھڑا کیا تھا اور مجھے خود فیصلہ کرنا تھا تو دیے گئے مشوروں کے برعکس فیصلہ کرنا مشکل تھا۔ اسلم بیگ کہتے ہیں کہ میں نے فیصلہ کیا کہ اقتدار عوام کی امانت ہے اور انہی کو دیا جائے گا۔ چنانچہ انہوں نے آئین کے مطابق چیئرمین سینیٹ غلام اسحاق خان کو صدر کا عہدہ سونپ دیا جس کے بعد 1988 میں گیارہ سال کے وقفے کے بعد پہلے جماعتی انتخابات کا انعقاد ہوا اور بے نظیر بھٹو وزیراعظم بن گئیں۔
