افغان طالبان کی جیت میں پاکستان کا کیا کردار ہے؟

افغانستان میں حکومتی فورسز کے ہتھیار ڈال دینے اور پورے ملک پر طالبان کے برق رفتار قبضے نے بڑی عالمی طاقتوں کو بھی ششدر کر دیا ہے۔ ایسے میں مخالفین کی جانب سے یہ الزام عائد کیا جا رہاہے کہ افغان طالبان کی اس حیرت انگیز کامیابی کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ انہوں نے پاکستانی سرزمین کا استعمال کرتے ہوئے طاقت جمع کی اور پاکستانی خفیہ ہاتھوں کی مدد سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے عمل کے دوران ہی کابل پر بھی قابض ہو گئے۔ مخالفین یہ بھی الزام عائد کرتے ہیں کہ پاکستان کی جانب سے طالبان کی پشت پناہی کا ایک بڑا ثبوت یہ ہے کہ افغانستان میں زخمی ہونے والے طاکبان جنگجوؤں کا علاج پاکستانی سرزمین پر ہو رہا ہے۔ ان جنگجوؤں کے اپنے بچے اور کاروبار بھی پاکستان میں ہی ہے جبکہ انہیں مالی مدد بھی پہنچائی جاتی رہی ہے۔
کچھ پاکستانی سیاستدانوں نے افغان طالبان میں ایک نئی تقسیم پیدا کرتے ہوئے انہیں کو ‘نئے اور بدلے ہوئے مہذب طالبان‘ بھی قرار دے دیا ہے۔ اسی تناظر میں افغان صوبہ ہیرات کے ایک جنگی سردار اسماعیل خان نے گرفتسرر ہونے اور شکست کھانے سے پہلے یہ الزام عائد کیا تھا کہ افغان سرزمین پر طالبان کی کامیابیوں کا ذمہ دار پاکستان ہے۔ اسماعیل خان کے بقول، ”میں کھلے عام کہتا ہوں کہ یہ جنگ طالبان اور کابل حکومت کے مابین نہیں بلکہ یہ پاکستان کی افغان قوم کے خلاف جنگ ہے۔ طالبان صرف پاکستان کے لیے بطور غلام کام کر رہے ہیں۔‘‘ یاد رہے کہ اسماعیل خان اپنے اس بیان کے تین روز بعد ہی ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوگئے تھے جس کے سوشل میڈیا پر افغان طالبان کے ساتھ انکی تصاویر بھی جاری ہوگئیں۔
دوسری جانب پاکستان نے مسلسل ان الزامات کی تردید کی یے اور یہ موقف اختیار کیا ہے کہ امریکہ اور افغان حکومت اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ پاکستان نے حال ہی میں بارہا کہا ہے کہ وہ افغانستان میں طالبان کی حکومت نہیں چاہتا تاہم یہ ایک ایسا بیان ہے، جس پر افغان عوام اعتبار کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یادرے کے حال میں وزیراعظم عمران خان نے یہ بیان بھی دیا تھا کہ اب جب امریکہ افغان طالبان کے ہاتھوں 20 برس طویل جنگ میں شکست کے بعد فوجوں کا انخلا کر رہا ہے پاکستان بھلا افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے کیسے مجبور کر سکتا ہے؟ عمران خان یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ افغانستان میں قیام امن کے خواہاں ہیں اور نہیں چاہتے۔ لیکن نہ صرف افغان عوام بلکہ بین الاقوامی کمیونٹی بھی پاکستان کے اس موقف کو شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ حال ہی میں اقوام متحدہ نے افغانستان پر ایک میٹنگ کا انتظام کرنے کی پاکستانی درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔ یہ شکوک اس وقت زیادہ گہرے ہوئے، جب افغان فائٹر کے طور پر ہلاک ہونے والے ایک جنگجو کو پاکستان میں دفنایا گیا۔ اس تدفین کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر بھی جاری کی گئیں، جن میں طالبان کے پرچم بھی لہرائے جا رہے تھے۔ افغانستان سے متصل پاکستانی علاقے چمن میں ایک ڈاکٹر نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ انہوں نے افغانستان میں لڑنے والے زخمی جنگجوؤں کا چمن میں علاج کیا ہے جبکہ زیادہ زخمی جنگجوؤں کو بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے ہسپتالوں میں بھی منتقل کیا گیا ہے۔ نام مخفی رکھنے کی شرط پر اس ڈاکٹر کا یہ بھی کہنا تھا کہ کچھ زخمی جنگجو کراچی بھی منتقل کیے گئے ہیں۔
اسی طرح گزشتہ ماہ پشاور کے نواح میں واقع دارالعلوم احیائے اسلام نامی مدرسے کو اس لیے بند کر دیا گیا تھا کیونکہ اس مدرسے کے مولوی کے طالبانی بھتیجے کی لاش افغانستان سے واپس لائی گئی تھی۔ افغان طالبان کے ساتھ لڑنے والے اس پاکستانی کی شاندار انداز میں آخری رسومات ادا کی گئی تھیں۔ اس مولوی نے بھی کھلے عام اعتراف کیا کہ انہوں نے اسے افغانستان میں ‘جہاد‘ کے لیے روانہ کیا تھا۔
ان حالات میں دفاعی تجزیہ کاروں کے بقول جب تک حکومت ‘جہادیوں‘ کے خلاف مکمل پابندیاں عائد نہیں کرتی، تب تک ملک کو بین الاقوامی دباؤ کا سامنا رہے گا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب ایسا کرنا ملکی مفاد میں تھا، تب اسلام آباد حکومت نے انتہا پسندانہ جذبات کو ہوا دی اور جنگجوؤں کے ساتھ مل کر کام بھی کیا۔ اس تناظر میں سوویت جنگ کا حوالہ سب سے اہم ہے۔ افغان جنگ کے بعد افغان طالبان بھی اسی کیٹیگری میں شامل کیے جاتے ہیں۔ ان جنگجوؤں میں سراج الدین حقانی کے حقانی گروپ کا نام سرفہرست آتا ہے، جو اپنے دور میں طالبان کا انتہائی اہم گروپ تھا۔ واشنگٹن میں قائم ولسن سینٹر برائے جنوبی ایشیا سے وابستہ مائیکل کوگلمان کے بقول اس وقت افغان طالبان کا پلڑا بھاری ہے اور وہ اب پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بھی مزاحمت بھی کر سکتے ہیں، ’’طالبان کا کلیہ بہت واضح ہے، جب وہ انہیں برتری حاصل ہے تو وہ پیچھے کیوں ہٹیں۔‘‘
لیکن افغانستان کی صورتحال میں پاکستان کے لیے بھی سوال ہیں؟ کیا افغانستان میں طالبان کی کامیابی سے پاکستان میں خود کو طالبان کہنے والے عناصر بھی شہہ پکڑیں گے؟ اگر افغانستان سے دوبارہ مہاجرین کا پاکستان میں انخلا ہوتا ہے تو اسلام آباد کی کیا پالیسی ہو گی؟ افغانستان سے پاکستان کی سرزمین پر جو دہشت گرد حملے ہوتے رہیں ان پر تبدیل شدہ صورتحال کا کیا اثر ہو گا ؟ اور اگر دنیا کی بڑی طاقتیں افغان طالبان کو تسلیم نہیں کرتی تو پاکستان کیا حکمت عملی اختیار کرے گا ؟ مستقبل قرئب میں ان میں سے کچھ سوالوں کے جواب مل جائیں گے لیکن مزید نئے سوال بھی جنم لیں گے۔ ان سوالات میں زیادہ کا دارومدار اب طالبان کے رویے پر ہے جن کی طرف باقی دنیا کی نظریں ہیں کہ وہ دوبارہ اپنی انتہا پسندانہ تاریخ کو دہراتے ہیں یا نہیں؟ یہ امر البتہ واضح ہے کہ افغانستان کے حالات آنے والے دنوں میں بہتری سے زیادہ خرابی کی طرف جاتے نظر آتے ہیں جس کا براہ راست اثر پاکستان پر بھی پڑے گا جہاں پاکستانی طالبان بھی دوبارہ ایکشن میں آنے کے لیے پر تول رہے ہیں۔
