چاندی کی قیمت آدھی رہ گئی،سرمایہ کاری کا بہترین وقت یا نیا خطرہ؟

عالمی منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال، ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی، خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور انڈیا کی جانب سے چاندی کی درآمدات پر عارضی پابندی نے پاکستان میں چاندی کی قیمتوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ چند ماہ قبل جو چاندی 18 سے 20 ہزار روپے فی تولہ تک فروخت ہو رہی تھی، اب اس کی قیمت کم ہو کر آٹھ ہزار روپے فی تولہ کے قریب پہنچ چکی ہے، جس کے بعد سرمایہ کاروں اور عام شہریوں میں ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے کہ آیا یہ چاندی خریدنے کا بہترین وقت ہے یا نہیں؟
مارکیٹ ماہرین کے مطابق چاندی کی قیمتوں میں حالیہ کمی وقتی ہو سکتی ہے، کیونکہ عالمی سطح پر صنعتی شعبے میں چاندی کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے۔ خاص طور پر الیکٹرک گاڑیوں، سولر ٹیکنالوجی، جدید بیٹریوں اور الیکٹرانکس انڈسٹری میں چاندی کا استعمال تیزی سے بڑھنے کے باعث مستقبل میں اس دھات کی مانگ میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
ایف پی سی سی آئی کی جیمز اینڈ جیولری کمیٹی سے وابستہ ماہر انجینئر محمد عدنان قادری کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جنگی صورتحال پیدا ہونے سے پہلے عالمی مارکیٹ میں چاندی تقریباً 120 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی تھی جبکہ پاکستان میں اس کی قیمت 18 ہزار روپے فی تولہ سے بھی اوپر جا چکی تھی۔ تاہم جیسے ہی خطے میں کشیدگی بڑھی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات سامنے آئے، خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں سونے اور چاندی دونوں کی قیمتیں دباؤ کا شکار ہو گئیں۔ ان کے مطابق عالمی مارکیٹ میں اس وقت چاندی تقریباً 75 ڈالر فی اونس کے حساب سے ٹریڈ ہو رہی ہے جبکہ پاکستان میں اس کی قیمت اپنی کم ترین سطح کے قریب پہنچ چکی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ عالمی حالات مستحکم ہوتے ہی چاندی کی قیمت دوبارہ اوپر جا سکتی ہے۔
انڈیا کی جانب سے چاندی کی درآمدات پر عارضی پابندی کو بھی قیمتوں میں کمی کی ایک بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ چونکہ انڈیا دنیا میں سونے اور چاندی کا بڑا خریدار تصور کیا جاتا ہے، اس لیے وہاں طلب میں کمی عالمی مارکیٹ پر فوری اثر ڈالتی ہے۔
راولپنڈی کے صرافہ بازار سے وابستہ تاجر راجہ فہیم زرگر کے مطابق چاندی کی مارکیٹ میں مصنوعی اتار چڑھاؤ بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ ان کے بقول جب قیمتیں بڑھتی ہیں تو بڑے تاجر مارکیٹ میں مزید اضافے کی افواہیں پھیلاتے ہیں، جس کے بعد عام لوگ خریداری شروع کر دیتے ہیں۔ پھر یہی بڑے سرمایہ کار بعد میں کم قیمت پر چاندی دوبارہ خرید لیتے ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ راولپنڈی سمیت کئی شہروں میں چاندی کی غیر رسمی یا بلیک مارکیٹ بھی سرگرم ہے جہاں بڑے پیمانے پر غیر رجسٹرڈ خرید و فروخت ہوتی ہے۔ ان کے مطابق حالیہ دنوں میں بہت سے عام شہری، طلبہ، چھوٹے دکاندار اور یہاں تک کہ ریڑھی بان بھی چاندی میں سرمایہ کاری کرتے نظر آئے۔
ماہرین کی رائے میں اگر کوئی شخص مختصر مدت کی بجائے طویل المدتی سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتا ہے تو موجودہ قیمتیں چاندی خریدنے کے لیے موزوں سمجھی جا سکتی ہیں۔ انجینئر محمد عدنان قادری کے مطابق آنے والے برسوں میں الیکٹرک گاڑیوں اور صنعتی شعبے میں استعمال بڑھنے کے باعث چاندی کی قیمت مستقبل میں ایک لاکھ روپے فی تولہ تک بھی جا سکتی ہے۔تاہم ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ عالمی سیاسی حالات، ایران امریکا کشیدگی، ڈالر کی قیمت اور عالمی منڈی کی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے، اس لیے قیمتوں میں مزید کمی کا امکان مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے باوجود بیشتر سرمایہ کار موجودہ صورتحال میں چاندی کی خریداری کو ایک اہم موقع تصور کر رہے ہیں۔
