’خودکشی کی کوشش بھی جرم ہے‘، پارلیمان کا قانون کالعدم قرار

پاکستان میں خودکشی کی کوشش کو جرم قرار نہ دینے سے متعلق قانون اس وقت دوبارہ شدید بحث کا موضوع بن گیا ہے، جب وفاقی شرعی عدالت نے پارلیمان کی منظور کردہ قانون سازی کو اسلامی اصولوں کے منافی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت کے فیصلے کے بعد تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 325 دوبارہ بحال ہو گئی ہے، جس کے تحت خودکشی کی کوشش کرنے والے شخص کو سزا اور جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

مبصرین کے مطابق یہ معاملہ صرف قانونی نہیں بلکہ مذہبی، سماجی، نفسیاتی اور انسانی پہلوؤں سے بھی انتہائی حساس تصور کیا جا رہا ہے۔ ایک طرف ماہرینِ نفسیات اور انسانی حقوق کے کارکن خودکشی کو ذہنی صحت کا مسئلہ قرار دیتے ہیں، جبکہ دوسری طرف وفاقی شرعی عدالت اور اسلامی نظریاتی کونسل کا مؤقف ہے کہ خودکشی ایک سنگین گناہ اور معاشرتی خطرہ ہے، اس لیے اسے مکمل طور پر جرم کی فہرست سے نکالنا درست نہیں۔

خیال رہے کہ سنہ 2022 میں پارلیمان نے تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 325 میں ترمیم کرتے ہوئے خودکشی کی کوشش کو جرم کی فہرست سے خارج کر دیا تھا۔ اس قانون سازی کے پیچھے بنیادی سوچ یہ تھی کہ خودکشی کی کوشش کرنے والے اکثر افراد ذہنی دباؤ، ڈپریشن، معاشی مشکلات یا نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں، لہٰذا ایسے افراد کو سزا دینے کے بجائے علاج اور بحالی کی ضرورت ہوتی ہے۔ حکومت نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ دنیا بھر میں خودکشی کو ایک صحت کے مسئلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور سخت سزائیں اس رجحان کو روکنے میں مؤثر ثابت نہیں ہوئیں۔ عالمی ادارۂ صحت کے اعداد و شمار بھی پیش کیے گئے جن کے مطابق دنیا میں ہر سال لاکھوں افراد خودکشی کرتے ہیں جبکہ بڑی تعداد ذہنی بیماریوں اور شدید دباؤ کا شکار ہوتی ہے۔

تاہم وفاقی شرعی عدالت نے اس مؤقف سے مکمل اتفاق نہیں کیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے اور ماضی میں خودکشی کی کوشش کو جرم قرار دینے کا مقصد لوگوں کو اس انتہائی اقدام سے روکنا تھا۔ عدالت کے مطابق اگر قانون مکمل طور پر ختم کر دیا جائے تو اس سے معاشرے میں غلط پیغام جا سکتا ہے۔عدالت نے یہ بھی کہا کہ خودکشی کی وجوہات صرف ذہنی بیماری تک محدود نہیں ہوتیں۔ بعض اوقات سیاسی احتجاج، دہشت گردی، بھوک ہڑتال، سوشل میڈیا کے منفی اثرات یا ذاتی مفادات بھی لوگوں کو ایسے اقدامات پر آمادہ کر سکتے ہیں۔ اسی لیے ہر قسم کی خودکشی کی کوشش کو مکمل طور پر غیر مجرمانہ قرار دینا مناسب نہیں۔

فیصلے میں اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے کا بھی حوالہ دیا گیا، جس میں کہا گیا تھا کہ خودکشی گناہِ کبیرہ ہے اور اس کی حوصلہ شکنی ضروری ہے۔ کونسل کے مطابق اگر کوئی شخص طبی معائنے کے بعد واقعی کسی نفسیاتی بیماری میں مبتلا پایا جائے تو اسے سزا دینے کے بجائے بحالی مراکز اور علاج کی سہولت فراہم کی جا سکتی ہے، مگر قانون کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جانا چاہیے۔

عدالت نے دو اہم قانونی خدشات بھی ظاہر کیے۔ پہلا یہ کہ اگر خودکشی کی کوشش جرم نہیں رہے گی تو پھر ایسے افراد کے خلاف کارروائی کیسے ہو گی جو کسی شخص کو خودکشی پر اکساتے یا اس میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ اس قانون کے خاتمے سے نوجوانوں اور بچوں پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور معاشرے میں ایسے رجحانات کی روک تھام مشکل ہو سکتی ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق اس فیصلے کے بعد ایک نئی بحث جنم لے گی کہ آیا خودکشی کو صرف مذہبی اور فوجداری مسئلہ سمجھا جائے یا اسے ذہنی صحت کے تناظر میں دیکھا جائے۔ انسانی حقوق کے حلقے پہلے ہی یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ سزا کے خوف سے کئی خاندان ایسے واقعات چھپاتے ہیں جس کی وجہ سے متاثرہ افراد بروقت علاج سے محروم رہ جاتے ہیں۔دوسری جانب مذہبی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر قانون میں مکمل نرمی دی گئی تو معاشرے میں اس سنگین عمل کی روک تھام مزید مشکل ہو جائے گی۔ اسی لیے عدالت نے تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 325 کو دوبارہ بحال کرتے ہوئے پارلیمان کی ترمیم کالعدم قرار دے دی ہے۔

Back to top button