جنرل فیض نے جسٹس نقوی کو ریفرنس سے کیسے بچایا؟

سپریم کورٹ کے ٹرک والے جج جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف جہاں ایک طرف مبینہ کرپشن کے الزامات پر سپریم جوڈیشل کونسل میں متعدد شکایات پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے وہیں دوسری طرف اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیز صدیقی نے دعویٰ کیا ہے کہ ‏سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر نقوی جنرل (ر) فیض حمید کے بہت قریب تھے۔ جنرل فیض حمید نے ہی جسٹس مظاہر نقوی کو سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر ریفرنس سے بچایا تھا۔

شوکت صدیقی کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر نقوی جنرل (ر) فیض حمید کے بہت قریب تھے۔ مظاہر نقوی سپریم کورٹ میں آوَٹ آف ٹرن آئے ہوئے ہیں اور انہیں لانے والے بھی فیض حمید ہی تھے۔ ان کا شمار سپریم کورٹ کے ان 7 ججز میں ہوتا ہے جو آؤٹ آف ٹرن آئے ہیں۔

جسٹس شوکت صدیقی کے مطابق جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ایک ریفرنس دائر تھا اور کونسل کی صدارت اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار کر رہے تھے۔ ریفرنس سننے کیلئے دوسرے 2 ممبر آصف سعید کھوسہ اور تیسرے جج گلزار تھے۔ جب مظاہر نقوی ریفرنس کا سامنا کررہے تھے تب جنرل (ر) فیض حمید نے ثاقب نثار سے رابطہ کیا اور کہا کہ ہمارے بندے کو اس سے نکالیں۔ ثاقب نثار نے کہا کہ ہمیں مسئلہ نہیں مگر بینچ میں جسٹس آصف سعید کھوسہ بیٹھے ہوئے ہیں۔ آپ جسٹس کھوسہ سے ریکیوز کرالیں اور تو ہم آپ کے بندے کو اس میں سے نکال لیں گے۔ جس کے بعد فیض حمید کی جانب سے ریکیوز کروایا گیا۔ ان کے بعد سینئر جج آئے اور اسی دن جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف ریفرنس خارج ہو گیا۔

جسٹس ریٹائرڈ شوکت صدیقی نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہائی پروفائل سیاسی کیسز، آئین سے متعلق کیس، مارشل لاء کے نفاذ کا معاملہ یا اسی طرح کے دیگر چیلنجز ہماری عدلیہ کے سامنے آتے رہتے ہیں جو ہمارے بنیادی قانون کو چُھوتے ہیں یا اس میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں۔ یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ اس میں ہمیشہ عدلیہ نے اپنا کندھا زمین پر لگوایا ہے۔انہوں نے کہا کہ ابھی تک ہماری عدلیہ کی تاریخ میں ایسا کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا جو کسی طالع آزما کے خلاف ہو کہ تم نے غلط کام کیا ہے۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ کے ٹرک والے جج کہلانے والے جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ججوں کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی اور مبینہ مالی بدعنوانی سے متعلق متعدد شکایات درج ہیں۔ تاہم چیف جسٹس عمر عطا بندیال ان شکایات پر کارروائی سے مسلسل گریزاں ہیں اور انھوں نے تمام تر کرپشن پر پردہ ڈال رکھا ہے اور وہ ماضی کی طرح جسٹس مظاہر نقوی کو مکمل تحفظ فراہم کررہے ہیں۔

یاد رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل چیف جسٹس ،عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں جسٹس قاضی فائزعیسیٰ،جسٹس سردارطارق مسعود،سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس محمد احمد علی شیخ ،اورلاہورہائیکورٹ کے چیف جسٹس امیر بھٹی پر مشتمل ہے۔

واضح رہے کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بھی جسٹس مظاہر نقوی کی آمدن اور اثاثوں بارے تحقیقات کر رہی ہے۔پی اے سی نے ایف بی آر، ایف آئی اے، نیب سے جسٹس مظاہر نقوی کے اثاثوں کی تفصیلات طلب کر رکھی ہیں، جسٹس مظاہر نقوی کی آمدن اور اثاثوں کی جانچ پڑتال کا معاملہ قومی اسمبلی نے پی اے سی کے سپرد کیا تھا۔پی اے سی نے ایف بی آر میں جسٹس مظاہر علی نقوی کی ریٹرن میں شامل اثاثوں کی تفصیلات اور ٹیکس ریٹرن اور ویلتھ اسٹیٹمنٹ کا ریکارڈ بھی مانگ رکھا ہے۔کمیٹی نے جسٹس مظاہر علی نقوی کو ملنے والے پلاٹس کی تفصیلات بھی سیکرٹری ہاؤسنگ سے طلب کرنے کے علاوہ جسٹس مظاہر نقوی کی جانب سے بیچی گئی زمینوں یا پلاٹس کا ریکارڈ بھی مانگ رکھا ہے۔کمیٹی نے جسٹس مظاہر نقوی کے بیرون ملک سفر کرنے کا ریکارڈ بھی طلب کر رکھا ہے اور ہدایت کی ہے کہ آڈیٹر جنرل مظاہر علی نقوی کے پلاٹس کی کیٹگریز کی تحقیقات کر کے رپورٹ جمع کرائیں جبکہ نادرا جسٹس مظاہر علی نقوی کے خاندان میں شامل افراد کے نام کی لسٹ فراہم کرے۔

خیال رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے شکایات میں جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی پر ججوں کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف شکایات مسلم لیگ (ن) لائرز فورم، پاکستان بار کونسل ، سندھ بار کونسل، لاہور سے تعلق رکھنے والے وکیل ایڈووکیٹ میاں داؤد اور ایڈووکیٹ غلام مرتضیٰ خان سمیت دیگر نے دائر کی ہیں۔ جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف بلوچستان اور خیبرپختونخوا بار کونسل کے علاوہ سندھ بار کونسل بھی سپریم جوڈیشل کونسل میں مس کنڈکٹ کے الزامات کی تحقیقات کی درخواست جمع کروا چکی ہیں۔

خیال رہے کہ چند روز قبل سوشل میڈیا پر زیر گردش تین آڈیو ٹیپس میں بظاہر چوہدری پرویز الہٰی مختلف افراد سے گفتگو کر رہے ہیں، جن میں اپنے کیسز جسٹس مظاہر نقوی کے پاس لگوانا بارے گفتگو کر رہے ہیں۔ بعد ازاں تحریک انصاف کے سابق رہنما فواد چودھری کی گفتگو بھی سامنے آئی تھی جس میں وہ جسٹس مظاہر نقوی بارے گفتگو کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے باہر ٹرک کھڑے ہونے کا اشارہ دے رہے تھے جس پر مسلم لیگ ن کا کہنا تھا کہ ٹرک کو پیسوں کی علامت کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ جبکہ چودھری پرویز الٰہی کے دست راست اور پرنسپل سیکرٹری محمد خان بھٹی کے سامنے آنے والے ویڈیو اعترافی بیان میں بھی انھوں نے تصدیق کی ہے کہ تحریک انصاف کے سپریم کورٹ کے کیسز اور لاہور ہائیکورٹ کے کیسز جسٹس مظاہر نقوی مینج کرتے ہیں اور اس کے بدلے انھیں نوازا بھی جاتا ہے۔

واضح رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس مظاہر نقوی کیخلاف دائر کردہ 7 شکایات پر کارروائی کرنے اور سامنے آنے والی آڈیوز اور ویڈیوز بارے تحقیقات کئے بغیر ہی چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس عمر عطا بندیال آڈیوز اور ویڈیوز کو غیر اہم قرار دے کر جسٹس مظاہر نقوی پر عائد کردہ الزامات کو بے بنیاد اور توہین آمیز قرار دے چکے ہیں۔

Back to top button