جنسی زیادتی کا شکار اداکارہ فریال سے شادی کس نے کی؟

کم عمری میں ہی اپنے سوتیلے والد کے ہاتھوں جنسی بدسلوکی کا نشانہ بننے والی اداکارہ فریال محمود نے زندگی بھر دکھ ہی اٹھائے لیکن اب اداکارہ سیمی راحیل کے بیٹے دانیال نے ان کی زندگی میں ایک بار پھر رنگ بھر دیئے ہیں۔ اپنوں کی بے اعتنائی اور مالی پریشانیوں کے باعث ماضی میں کئی مرتبہ خودکشی کا ارادہ کرنے والی اداکارہ فریال محمود حال ہی میں دانیال سے شادی کے بعد خود کو دنیا کے خوش قسمت ترین لڑکی تصور کرتی ہیں۔
کرونا وائرس کی وبا کے دوران بھی پاکستان میں شادیوں کا سیزن عروج پر ہے۔ شوبز کے کئی معروف ستارے اس لاک ڈاؤن کے دوران شادی کے بندھن میں بندھے جن میں اداکارہ نمرہ خان، منظرصہبائی اور ثمینہ احمد، اداکار آغاعلی اور حنا الطاف شامل ہیں۔ اس فہرست میں تازہ اضافہ اداکار، پروڈیوسر و ڈائریکٹر دانیال راحیل اور ڈرامہ ایکٹرس فریال محمود کا ہے۔ فریال کے معروف ڈراموں میں محبت تم سے نفرت ہے، تم سے ہی تعلق، میرا یار ملا دے، ببن خالہ کی بیٹیاں اور لال عشق شامل ہیں۔
چند ماہ قبل فریال محمود اور دانیال راحیل نے یہ اعلان کیا تھاکہ وہ جلد ہی شادی کرنے والے ہیں جس کی تصدیق دانیال راحیل کی والدہ سنیئر اداکارہ سیمی راحیل نے بھی کی تھی۔ فریال محمود نے بتایا تھا کہ گزشتہ دو برس سے دانیال راحیل کے ساتھ ان کی دوستی ہے جو اداکارہ سیمی راحیل کے بیٹے ہیں۔
اپنے انٹرویو میں فریال نے سیمی راحیل کی بےانتہا تعریف کرتے ہوئے کہا کہ کوئی ماں اتنی اچھی کیسے ہوسکتی ہے، وہ مجھ سے بہت پیار کرتی ہیں۔ ہمارے درمیان مسئلہ ہو تو دانیال ان کو کال کرتا ہے اور وہ مجھ سے زیادہ اسی کو سمجھاتی ہیں کہ دھیان کرو، تمہیں نہیں پتہ اس نے کتنی جدوجہد کی ہے۔ میں انکی بہت شکر گزار ہوں ، وہ مجھ سے کہتی ہیں کہ سب سے پہلے تم ہو اور تمہارا کیرئیر ہے۔ میں سوچتی تھی کہ زندگی ایسے ہی گزرے گی لیکن اب کچھ الگ ہے۔
اگرچہ اب شادی کے بعد فریال محمود کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں مگر یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ فریال کا بچپن انتہائی دردناک گزرا۔ ایک انٹرویو میں فریال نے بتایا تھا کہ ان کے والدین بچپن میں ہی علیحدہ ہو گئے اور پھر دونوں نے دوسری شادی کی۔ والدہ کی دوسری شادی کے بعد وہ اپنے سوتیلے والد کے گھر رہتی تھیں جن سے وہ بےحد نفرت کرتی ہیں کیونکہ وہ ان کی والدہ کا ایک برا انتخاب تھا جس کا خمیازہ انہیں یعنی فریال کو بھی بھگتنا پڑا۔ فریال کے بقول جب ان کی والدہ کام پر جاتی تھیں تو ان کے ظالم سوتیلے والد انہیں زیادتی کا نشانہ بناتے لیکن وہ خوف کے باعث اپنی والدہ کو بھی کچھ نہیں بتا پاتی تھیں۔ فریال محمود نے بتایا کہ جنسی استحصال سے تنگ آکر انہوں نے کم عمر میں ہی گھر چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا تھا لیکن ان کے پاس رہنے سہنے کا کوئی ٹھکانا نہیں تھا۔ کچھ عرصے بعد فریال کی والدہ نے اپنے دوسرے شوہر سے بھی علیحدگی اختیار کرکے تیسری شادی کی مگر پھر انہوں نے 18 برس کی عمر میں گھر چھوڑ دیا اور پھر کام کرنا شروع کردیا۔
مصائب و الام نے فریال کا پیچھا نہ چھوڑا۔ جدوجہد کے دور میں شروع کا وقت اتنا سخت تھا کہ کھانے کے پاس بھی نہ تھے لیکن ان کی ایک مخلص دوست کھانے پینے کا بندوبست کرتی تھی۔ ایک دن حالات سے تنگ آکر فریال نے اپنے حقیقی والد کو کال کی اور بتایا کہ میں بہت مشکل میں ہوں انہوں نے کہا ٹھیک ہے تم میرے پاس آجاؤ۔ اداکارہ کا کہنا تھا جب میں والد کے گھر گئی تو میری دوسری والدہ کو میرا آنا اچھا نہیں لگا، میری دو سوتیلی چھوٹی بہنیں بھی تھیں جن سے میں 17، 18 سال بڑی تھی۔فریال محمود نے کہا کہ جب میں والد کے گھر تھی تو مجھے اپنا کردار بالکل سنڈریلا والا لگتا تھا کیونکہ وہی میری سوتیلی والدہ میری سوتیلی بہنیں اور گھر کی ساری ذمہ داری، میں صبح اٹھ کر بہنوں کا ناشتہ بنا کر کام پر جاتی تھی، پھر واپس گھر آکر صفائی اور دیگر کام کرتی تھی لیکن سال بھر بعد میں نے والد کا گھر بھی چھوڑ دیا اور نیویارک چلی گئی، وہاں ایک چینی خاتون کے گھر پر کمرہ لیا اور پیزا ڈیلیوری کا کام بھی کیا۔ فریال کا کہنا تھا کہ ایسا لگتا تھا کہ میرے جینے کا کوئی مقصد نہیں اس لیے کئی مرتبہ خودکشی کرنے کی کوشش بھی کی لیکن پھر کچھ لوگوں نے مدد کی اور مجھے زندگی کی طرف دوبارہ لانے کے لیے ایک بحالی ادارے میں داخل کرایا۔ فریال محمود کا ماننا ہے کہ جب تک وہ اس ادارے میں رہیں وہ ان کا سنہری وقت تھا کیونکہ وہاں کوئی انہیں باتیں سنانے والا نہیں تھا، اس وقت کے بعد سے ان کی صحت بہتر ہوئی انہوں نے اپنے آپ کو مضبوط کیا اور پھر انہوں نے دوبارہ پاکستان آنے کا فیصلہ کیا اور آج وہ سکون میں ہیں۔
لیکن اب انتہائی کٹھن حالات کا مقابلہ کرنے والی فریال محمود کی زندگی میں ایک مرتبہ پھر بہار آ چکی ہے۔ ان کے شوہر دانیال محمود اداکارہ سیمی راحیل کے بیٹے اور ماڈل اور اداکارہ مہرین راحیل کے بھائی ہیں۔ واضح رہے کہ فریال محمود کراچی سٹیج کی سابقہ گلوکارہ و اداکارہ روحانی بانو کی بیٹی ہیں جومعروف اداکارہ روحی بانو کی کزن بھی ہیں۔
اٹھائیس مئی کو شادی کے بعد فیس بُک پر دانیال نے فالوورز کو یہ خوشخبری سناتے ہوئے لکھا ’’ تقریبا ایک ہفتہ قبل کراچی سے بذریعہ سڑک لاہور پہنچے لیکن ہمارا سفر یہاں شروع نہیں ہوا تھا۔ہم نے اس مقام تک پہنچنےسے پہلے 2 سال گزارے۔ ہم نے گھر والوں کیلئے آدھے دن کی مسافت طے کی تاکہ ہم ایک ساتھ ہوسکیں اور میں یہ بات ہمیشہ سے جانتا تھا۔ میری اہلیہ کا پورا خاندان بیرون ہے، وہ سب ہمارے لیے روتے، مسکراتے اور خوش ہوتے ہوئے فون کے ذریعے رابطے میں تھے۔
دانیال نے خود کو خوش قسمت ترین انسان کہتے ہوئے تمام انتظامات پر اپنی فیملی کو بھی سراہا۔ ان کی والدہ سیمی راحیل نے بھی انسٹاگرام پوسٹ میں بیٹے کی شادی کی خوشخبری شئیرکی۔
فریال محمود کے ساتھ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہونے کے بعد دانیال راحیل نے اپنی فیس بُک پروفائل بھی تبدیل کرکے فریال کے ہمراہ شادی کی تصویر لگالی ہے۔دوسری جانب فریال محمود نے فوٹو اور ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام پر اُن دوستوں کی اسٹوری شیئرکی جنہوں نے اُن کو نکاح کی مبارکباد پیش کی۔اِس کے علاوہ فریال محمود نے اپنے مہندی والے ہاتھ کی تصویر بھی انسٹاگرام اسٹوری میں شیئرکی۔ دانیال کی بہن مہرین راحیل نے بھی خوش خرم جوڑے کی تصویر انسٹا اسٹوری میں شیئر کی۔
