جوانی میں سفید بال آنےکاکیا رازہے؟

کم عمری میں لوگوں کےبال سفید کیوں ہوتےہیں؟
یہ وہ سوال ہےجس کا جواب ہارورڈ یونیورسٹی کی پروفیسریا چیا ہسونےجاننے کی کوشش کی اوراس کاآغازایک اہم ترین عنصرتناﺅسےکیااوراب پہلی بارسائنسدانوں نےتصدیق کی ہےکہ ذہنی تناﺅ واقعی لوگوں کےبال قبل ازوقت سفید کرسکتا ہے۔ سائنسدانوں نےحیاتیاتی وجہ دریافت کی جس سےوضاحت ہوتی ہےکہ تناﺅ سےآخربالوں کی سیاہ رنگت کیوں ختم ہوجاتی ہے۔
جریدے جرنل میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ عمل سیمپیتھک اعصابی نظام سےشروع ہوتا ہےجواہم جسمانی افعال جیسے دل کی دھڑکن،سانس،غذا کوہضم کرنےاورجراثیموں سےلڑنےوغیرہ میں مدد دیتا ہے۔ یہ اعصابی نظام تناﺅکےردعمل سے بھی منسلک ہےاوراس لیےیہ زیادہ حیران کن نہیں کہ وہ بالوں کوسفید کرنےمیں کردارادا کرتا ہے۔ تاہم تناﺅپریہ اعصابی نظام اس وقت ہی متحرک ہوتا ہےجب دیگرجسمانی نظام سست یا ناکام ہوجاتےہیں یعنی جسم کےآخری ہتھیاروں میں سےایک سمجھ لیں اورانتہائی ایمرجنسی میں ہی جسم اسےمتحرک کرتاہے۔
یہی وجہ ہےکہ محققین نےاس پرسب سےپہلےتوجہ مرکوزکی، ان کا خیال تھا کہ اگر تناﺅبالوں کوسفید کرتا ہےتویہ کام ممکنہ طورپرمدافعتی نظام سےہوتا ہوگاجوایسےخلیات خارج کرسکتا ہےجو بالوں کی جڑوں میں رنگ بنانےوالےخلیات پرحملہ آور ہوتےہیں یا ہارمونزجیسےکورٹیسول کااخراج ایڈرینل گلینڈزمیں کرتا ہوگاجسےاسٹریس ہارمون بھی کہاجاتا ہے۔ مگر سائنسدانوں نےدریافت کیا کہ ایسا ہوتا ہی نہیں۔
انہوں نےچوہوں میں ایسےمرکب کوجسم میں داخل کیا جو تناﺅکا باعث بننےوالےہارمون کی سطح میں اضافہ کرتاہےاورانہوں نےدریافت کیا کہ مدافعتی خلیات سےمحروم اورایڈرینل گلینڈزسےمحروم چوہوں کے بال بھی قبل ازوقت سفید ہوگئے۔ اس کے بعد سائنسدانوں نےسیمپیتھک اعصابی نظام پرتوجہ دی اوردریافت کیا کہ اس سےایسےخلیات کونقصان پہنچتا ہےجوبالوں کی رنگت کوبرقراررکھنےمیں مدد دیتےہیں۔
انہوں نےکہا کہ ہم یہ جان کرحقیقی معنوں میں حیران رہ گئے،کیونکہ ہم بالوں کی قبل ازسفیدی بننےوالی وجہوات میں سیمپیتھک اعصابی نظام کوسب سےآخرمیں سمجھتےتھے،ہم جانتےتھےکہ یہ تناﺅکےنتیجےمیں متحرک ہوتاہےمگرہم اسے ایمرجنسی نظام سمجھتےتھے،اورمسئلےکےحل کےبعدریورس ایبل سمجھا جاتا تھا،مگرہم نےدریافت کیاکہ اس کےنتیجےمیں خلیات کی آبادی کوہمیشہ کےلیےنقصان پہنچ جاتاہے۔
درحقیقت تحقیق میں سائنسدان یہ جان کرحیران رہ گئےکہ یہ اعصابی نظام عام ذہنی تناﺅ کی صورت میں بھی متحرک ہوکر norepinephrine کیمیکل بناتا ہےجومسلزکےکھچاﺅ کاباعث بنتاہے۔ اس کیمیکل کےردعمل میں بالوں کی جڑوں میں موجود خلیات پراثرات مرتب ہوتےہیں جونئےبالوں کی نشوونما میں مدد دیتےہیں اوربتدریج بالوں کی رنگت خشک ہونےلگتی ہےاور خلیات نیا رنگ بناناچھوڑدیتےہیں،جس کےبعد بالوں کی رنگت سفید ہونا شروع ہوجاتی ہے۔
محققین کوتوقع ہےکہ تحقیق کےنتائج سےمستقبل قریب میں بالوں کےان خلیات کےتحفظ یا اعصابی نظام کےردعمل کوکنٹرول کرنےکاطریقہ کارتشکیل دیا جاسکےگا، تاہم فی الحال ایسا کوئی علاج موجود نہیں جو یہ کام کرسکے۔ تاہم ایک آسان حل ذہنی تناؤکوکنٹرول میں رکھنا ہوسکتا ہےجس کےلیےآپ ڈاکٹرسےمدد لےسکتےہیں یا طرززندگی میں چند تبدیلیوں سےبھی ایسا ممکن ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button