جوہری پروگرام پر تبصروں سے گریز کا مشورہ عمران کے لیے ہے

اسلام آباد میں حکومتی ذرائع کا دعوی ٰکیا ہے کہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے ڈپٹی چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل جنرل ندیم رضا نے پاکستان کے جوہری پروگرام پر غیر ذمہ دارانہ تبصروں سے گریز کی جو وارننگ دی ہے اسکے مخاطب سابق وزیراعظم عمران خان ہیں جنہوں نے حال ہی میں اس حوالے سے افسوسناک گفتگو کی تھی۔
یاد رہے کہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم رضا نے حال ہی میں کہا ہے کہ پاکستان کسی بھی حالت میں اپنے جوہری پروگرام پر سمجھوتہ نہیں ہونے دے گا اور اس سٹرٹیجک پروگرام پر غیر ضروری اور بے بنیاد خیالات سے گریز کیا جانا چاہیے۔ 7 جون کو نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز میں ’علاقائی ماحولیات اور سلامتی کے تقاضے‘ کے موضوع پر سیمینار سے خطاب میں جنرل ندیم رضا نے علاقائی سلامتی کے ماحول پر تبصرہ کرتے ہوئے ملک کے دفاع اور دفاع کے ضامن کے طور پر پاکستان کی جوہری صلاحیت کی اہمیت کا اعادہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ایٹمی صلاحیت رکھنے والے دوسرے ممالک کی طرح پاکستان میں بھی سٹرٹیجک پروگرام پر غیر ضروری اور بے بنیاد خیالات سے گریز کیا جانا چاہیے۔ جب ضروری ہو، این سی اے مخصوص ردعمل یا خیالات جاری کرنے کا صحیح فورم ہے۔‘
جنرل ندیم رضا کا کہنا تھا کہ پاکستان کے جوہری پروگرام کو تمام سیاسی جماعتوں اور پاکستانی عوام کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے کہا پاکستانی فوجی قیادت اس معاملے پر سیاسی قیادت کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ قومی سلامتی ناقابل تقسیم ہے اور یقین دلایا کہ پاکستان کسی بھی حالت میں اپنے جوہری پروگرام پر سمجھوتہ نہیں ہونے دے گا۔
انہوں نے کہا کہ ’پاکستان ایک پُراعتماد اور ذمہ دار ایٹمی طاقت ہے۔ یہ کم سے کم دفاعی صلاحیت کی حدود میں مکمل دفاع کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ ہماری قومی سلامتی اور حفاظتی ڈھانچہ تمام قومی اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کرتا ہے اور ہر قسم کے منظرناموں کو پورا کرتا ہیں لہذا پاکستانی جوہری پروگرام کے حوالے سے غیر ذمہ دارانہ گفتگو سے پرہیز کیا جائے کیونکہ یہ قومی مفاد کے خلاف ہے۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے سابق وزیراعظم عمران خان ایک انٹرویو میں اپنے اقتدار سے نکلنے کے نتیجے میں فوج کے تباہ ہو جانے، پاکستان کے تین ٹکڑے ہونے اور پاکستانی نیوکلیئر پروگرام ختم ہونے کی منحوس تر پیش گوئیاں کر چکے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ کوئی بھی محب وطن پاکستانی ملک کے ٹکڑے ہونے اور فوج کے تباہ ہونے کی بات نہیں کر سکتا کیونکہ یہ زبان ایک بھارتی وزیراعظم کی تو ہو سکتی ہے لیکن کسی سابق پاکستانی وزیر اعظم کی نہیں ہو سکتی۔ عمران خان نے بول ٹی وی سے انٹرویو میں متنبہ کیا تھا کہ اگر ملک کی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے انکا ساتھ دیتے ہوئے ’درست فیصلے‘ نہ کیے تو فوج تباہ ہو جائے گی، ’ملک کے تین حصے ہو جائیں گے اور نیوکلیئر پروگرام ختم کرنا پڑ جائے گا۔‘
افسوس کی بات یہ ہے کہ اس سے پہلے عمران خان پاکستان پر ایٹم بم گرانے کی بات بھی کر چکے ہیں۔ جب اینکر نے عمران سے پوچھا کہ اگر اسٹیبلشمنٹ ان سے تعاون نہیں کرتی اور ان کے خلاف ہے تو کیا انھیں لگتا ہے کہ وہ حکومت میں واپس نہیں آ سکیں گے؟ عمران نے جواب دیا کہ ’اللہ نے جو کچھ دینا تھا وہ مجھے دے چکا ہوا ہے، میں وزارتِ عظمیٰ پر بھی بیٹھا رہا ساڑھے تین سال۔ اصل میں مسئلہ اسٹیبلشمنٹ کا ہے۔ اگر اس وقت ہماری اسٹیبلشمنٹ صحیح فیصلے نہیں کرے گی، تو میں آپ کو لکھ کر دیتا ہوں کہ فوج سب سے پہلے تباہ ہو گی۔’ انھوں نے کہا کہ ‘میں آپ کو ترتیب بتا دیتا ہوں۔ یہ جب سے آئے ہیں روپیہ گر رہا ہے، سٹاک مارکیٹ، چیزیں مہنگی۔ ڈیفالٹ کی طرف جا رہا ہے پاکستان۔ اگر ہم ڈیفالٹ کر جاتے ہیں تو سب سے بڑا ادارہ کون سا ہے جو متاثر ہو گا، پاکستانی فوج۔ جب فوج ہِٹ ہوگی تو اس کے بعد ہمارے سامنے کیا شرط رکھی جائے گی؟ وہی جو یوکرین کے سامنے رکھی گئی کہ خود کو ڈی نیوکلیئرائز کریں یعنی جوہری ہتھیار ختم کر دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان واحد اسلامی ملک ہے جس کے پاس جوہری ہتھیار ہیں۔ جب وہ چلا گیا تو پھر کیا ہو گا۔ میں آپ کو آج کہتا ہوں کہ پاکستان کے تین حصے ہو جائیں گے۔
