پاکستان میں امریکی ڈالر اونچی پرواز کیوں کر رہا ہے؟

پاکستان میں جاری سیاسی اور معاشی بحران کے باعث ملکی معیشت انتہائی مشکل حالات سے دوچار ہے، جس کا بڑا ثبوت صرف ایک ماہ کے دوران روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں 15 سے 20 روپے کا اضافہ ہے۔ پاکستان کی مخدوش اقتصادی حالت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ دونوں میں ہی امریکی ڈالر کی قیمت دو سو روپے کی ریکارڈ سطح کراس کر چکی ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان میں ڈالر کی قیمت بڑھنے کی کئی وجوہات ہیں، جن میں سب سے زیادہ زیر بحث آنے والی وجہ رسد اور طلب میں فرق ہے۔ لیکن پاکستان کے ماضی کو اگر دیکھا جائے تو ڈالر کی قیمت بڑھنے کی اکثر وجوہات میں سیاسی عدم استحکام سب سے اہم وجہ معلوم ہوتی ہے۔ عام آدمی کو اس بارے زیادہ آگاہی نہیں ہے کہ ڈالر کب، کیوں، اور کیسے بڑھتاہے اور ماضی میں ڈالر کیسے بڑھتا رہا ہے۔ آئیے پاکستان میں ڈالر بڑھنے کی وجوہات اور تاریخ پر جانچتے ہیں۔
پاکستان میں ڈالر کی قیمت بڑھنے کی کئی وجوہات ہیں، جن میں سب سے زیادہ زیر بحث آنے والی وجہ رسد اور طلب میں فرق ہے۔ لیکن پاکستان کے ماضی کو اگر دیکھا جائے تو ڈالر کی قیمت بڑھنے کی اکثر وجوہات میں سیاسی عدم استحکام سب سے اہم وجہ معلوم ہوتی ہے لیکن بدقسمتی سے اس پر زیادہ بات نہیں کی جاتی۔
پاکستان میں ڈالر کی قیمت اور معیشت و اقتصادیات کا تاریخی جائزہ کچھ یوں ہے۔
سال 1948 سے لے کر 1954 تک ا مریکی ڈالر کی قیمت تقریباً تین روپے 31 پیسے رہی۔ یوں آزادی کے بعد ڈالر کی قیمت لگاتار سات سال تک پاکستان میں مستحکم رہی۔ 1955 میں سیاسی بحران زیادہ بڑھنے لگا تو ڈالر کی قیمت میں قدرے اضافہ ہوا اور ڈالر کی قیمت تقریباً تین روپے 92 پیسے ہو گئی۔اگرچہ 1956 میں ملک میں پہلا پارلیمانی آئین نافذالعمل ہوا، مگر ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہوا اور ڈالر چار روپے 77 پیسے کا ہو گیا۔
ڈالر کی یہ قیمت بھی طویل عرصے تک مستحکم رہی اور 1970-71 تک پاکستان میں ڈالر کی قیمت پانچ روپے سے معمولی زیادہ رہی۔ 16 دسمبر 1971 کو مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بن جانے کے بعد 20 دسمبر1971 کو ذوالفقار علی بھٹو نے اقتدار سنبھالا۔ 1972 میں ڈالر کی قیمت میں تقریباً 74 فیصد اضافہ ہوا اور ایک ڈالر آٹھ روپے 68 پیسے کا ہو گیا، 1973 میں ڈالر کی قیمت تقریباً دس روپے ہوگئی اور اس کے بعد ڈالر کی یہ قیمت بھی تقریباً نو سال یعنی 1981 تک مستحکم رہی۔
سال 1988 میں آمر مطلق جنرل ضیاالحق کے ایک جہاز حادثے میں جل کر بھسم ہونے کے وقت ایک امریکی ڈالر 18 روپے کا ہو چکا تھا۔اس کے بعد جو جمہوری حکومتیں آئیں ان میں روپے کی بے قدری میں بے انتہا اضافہ ہوا۔ 1988 سے 1999 تک بے نظیر اور نواز شریف کی دو دو مرتبہ حکومتیں رہیں۔ اس دوران بھی سالانہ بنیادوں پر ڈالر میں اضافہ کا رجحان برقرار رہا۔
1988 سے 1999 تک بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کے دس سالہ دور حکومت میں ڈالر 18 روپے سے بڑھ کر 51.4 روپے کا ہو گیا۔ یہ اضافہ 185فیصد تھا۔اس کے بعد مشرف دور کے اختتام پر ڈالر 60 روپے 43 پیسے کا تھا جو 2013 میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے اختتام تک تقریبا 79 فیصد اضافے کے ساتھ 108 روپے کا ہو گیا تھا۔
2018 میں نون لیگ کے دور حکومت کے اختتام تک ڈالر تقریبا ً116 روپے تک پہنچا۔ اتنا کم اضافہ صرف اس لیے ہوا کہ تقریباً 35 ارب ڈالر قرض لے کر مارکیٹ میں جھونک دیا گیا تاکہ ڈالر کی قیمت نیچے رہ سکے۔ تحریک انصاف کے تقریباً 40 مہینوں کے دور حکومت میں ڈالر 189 تک پہنچا۔ یہ اضافہ تقریبا ً63 فیصد بنتا ہے۔ جو کہ ماضی کے کئی ادوار کی نسبت کم ہے۔ موجودہ حکومت کے تقریباً دو ماہ کے دور میں ڈالر 200 کا ہندسہ کراس کر گیا ہے۔ اگر ان تمام ادوار کا موازنہ کریں تو بے نظیر اور نواز شریف کے ادوار میں ڈالر سب سے زیادہ بڑھا۔ دس برسوں میں ڈالر کی قیمت 185 فیصد بڑھی۔ جو کہ معاشی اعتبار سے بدترین دور تصور کیا جاتا ہے۔
اس حوالے سے ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جنرل سیکرٹری ظفر پراچہ کا کہنا ہے کہ ’ڈالر کی قیمتوں میں اضافے میں آئی ایم ایف کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ خاص طور پر 2008 سے 2022 تک پاکستان میں ڈالر آئی ایم ایف سے قرض لینے کی وجہ سے بھی بڑھا ہے۔‘ اس سوال پر کہ کیا امریکہ میں بھی ڈالر مضبوط اور کمزور ہوتا رہتا ہے اور کیا پاکستانی کرنسی پراس کا فرق پڑتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ ’امریکہ میں ڈالر کے مضبوط اور کمزور ہونے کا دنیا میں فرق پڑتا ہے لیکن پاکستان میں خاص فرق نہیں پڑتا۔ ہمارے ملک میں ڈالر کی طلب اور رسد ہی ڈالر کی قیمت طے کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔ ایسا ممکن ہے کہ ایک ہی وقت میں انٹرنیشنل مارکیٹ میں ڈالر کمزور ہونے کے باعث پاکستان میں پاؤنڈ کے مقابلے میں کمزور ہو رہا ہو لیکن روپے کے مقابلے میں مضبوط ہو رہا ہو۔‘
انہوں نے کہا کہ ’پہلے پاکستان میں حکومتیں ڈالر کوکنٹرول کر لیا کرتی تھیں۔ لیکن گذشتہ تین سالوں سے ڈالر پر حکومت کا کنٹرول نہیں رہا۔ اب جو بھی ہے ڈالر اپنی اصل قیمت پر ہے۔ اب یہ پاکستانی عوام ہر منحصر ہے کہ وہ مہنگی زندگی گزارنا چاہتی ہے یا اعتدال کے ساتھ رہنا چاہتی ہے۔ اب عیاشیوں کی اصل قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ جو کہ درست عمل ہے۔‘
