جہانگیرترین گروپ کا عید کے بعد لائحہ عمل تیار کرنے کا فیصلہ

ذرائع کا کہنا ہے کہ جہانگیر ترین سے مزید چار اراکین قومی اسمبلی نے رابطہ کیا ہے۔ تحریک انصاف کے ناراض رہنما جہانگیر ترین رہائش گاہ پر ان کے حمایتی اور ہم خیال ارکان پارلیمنٹ کا مشاورتی اجلاس ہوا، جس میں اتفاق کیا گیا کہ وزیراعظم کی یقین دہانی کے بعد عید تک خاموشی اختیار کی جائے گی، اور وزیراعظم کے نامزد کردہ سینیٹر علی ظفر ایڈوکیٹ کی تحقیقات کا انتظار کیا جائے گا، جب کہ عید کے بعد صورت حال کے تناظر میں لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق جہانگیرترین سے مزید چار ارکان قومی اسمبلی نے رابطہ کیا ہے اور آئندہ چند روز میں جہانگیرترین سے ملاقات کرکے اظہار یکجہتی کریں گے۔ ذرائع نے بتایا کہ مشاورتی بیٹھک میں ارکان نے تجویز دی کہ عید کے بعد ٹکٹ ہولڈرز اور ارکان پارلیمنٹ کی مشاورت کی جائے۔ ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم کے نامزد کردہ سینیٹر علی ظفر ایڈوکیٹ نے ترین گروپ کے وکلا اور اکاؤٹنٹ سے ملاقات کی، اور کیس کے حوالے جہانگیر ترین کی ٹیم کا موقف سن لیا، اور سینٹر علی ظفر ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ مئی کے آخر تک وزیراعظم کو رپورٹ پیش کردی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق علی ظفر ایڈوکیٹ ایف آئی اے اور پراسیکیوشن کی ٹیم سے بھی ملاقات کا ایک دور کرچکے ہیں، اور ان کی اب تک چار میٹنگز کرچکے ہیں۔
دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کا کہنا ہےکہ وزیراعظم نے میرے دوستوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ خود ان معاملات کو دیکھیں گے۔ لاہور میں عدالت پیشی کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے جہانگیر ترین نے کہا کہ تفیش سے نہیں ڈر تے، انصاف چاہتے ہیں، میں مقدمات سے نہیں بھاگ رہا بلکہ عدالتوں کا سامنا کررہا ہوں، ایک سال سے تفتیش ہورہی ہے، ہم نے ہزاروں نہیں لاکھوں دستاویزات دیے ہیں۔ہم نے کبھی نہیں کہا کہ کیس ختم کردو، ہم چاہتے ہیں کہ پوری طرح تفتیش ہو تاکہ عوام بھی دیکھیں ہم ٹھیک سرخرو ہوئے ہیں۔ جہانگیر ترین نے کہا کہ میرا کیس کرمنل نہیں، اس میں ایف آئی اے کا کوئی کردار نہیں ہے کیوں کہ یہ کاروباری معاملہ ہے جو ایس ای سی پی سی سے متعلق ہے، اس میں قومی خزانے کا کوئی استعال نہیں ہوا، سب کو معلوم ہے جو کیسز ہیں اس کی بنیاد کچھ اور ہے۔ ان کا مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سے کوئی رابطہ نہیں ہوا، انہیں پی ٹی آئی سے ہی بہت سے لوگوں کی حمایت حاصل ہے، وزیراعظم سے میرے دوستوں کی ملاقات ہوئی تھی جو اچھی رہی ہے، ہمارے لوگوں نے وزیر اعظم سے کھل کر باتیں کیں اور اپنے تحفظات سے انہیں آگاہ کیا، وزیراعظم نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ خود ان معاملات کو دیکھیں گے اور کہا ہے کہ انصاف ہونا چاہیے۔ لہٰذا امید ہے علی ظفر اچھی طرح دیکھ کر وزیراعظم کو بتائیں گے۔ شاہ محمود کے بیان سے متعلق جہانگیر ترین نے کہا کہ اس پر کوئی بات نہیں کروں گا، یہ ہلکی بات ہے اور ہم لوگوں کو ہلکی بات کرنا زیب نہیں دیتا۔ دوسری جانب سیشن کورٹ کے جج حامد حسین نے جہانگیر ترین کے خلاف منی لانڈرنگ سے متعلق مقدمات پر سماعت کی، فاضل جج نے پراسکیوٹر سے استفسار کیا کہ جہانگیر ترین اور علی ترین کے کیس کا کیا بنا ؟ آپ سے جی آئی ٹی رپورٹ مانگی تھی کیا آپ لائے ہیں ؟ آپ نے مقدمہ درج کیا اس کی رپورٹ کہاں ہے؟۔ عدالت نے جہانگیر ترین اور علی ترین کی تفتیش جلد مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے جہانگیر ترین اور علی ترین کی درخواست ضمانت میں 19 مئی تک توسیع کردی۔ عدالت پیشی سے قبل جہانگیر ترین کے گھر پر ہم خیال گروپ کی اہم بیٹھک ہوئی جس میں شرکا نے جہانگیر ترین سے مکمل اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
