جہانگیر ترین یوسف رضا گیلانی کا ساتھ دیں گے یا حفیظ شیخ کا؟

سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے مقابلے میں اسلام آباد سے سینیٹ الیکشن میں عمران خان کے امپورٹڈ امیدوارعبدالحفیظ شیخ نے اپنی کمزور پوزیشن کے پیش نظر جہانگیر ترین سے ہنگامی مدد مانگ لی ہے جنہیں کہ شوگر سکینڈل مین نام آنے کے بعد کپتان نے فارغ کر دیا تھا۔ حفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ انہوں نے وزیراعظم کی منظوری سے ترین کی مدد مانگی یے جنہوں نے انہیں اپنی مکمل سپورٹ کا یقین دلایا ہے۔ تاہم جہانگیر ترین کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے حفیظ شیخ کو ایک رسمی یقین دہانی کروائی گئی ہے اور سینیٹ الیکشن میں ترین عوام پر آئی ایم ایف کے قرضوں کا بوجھ ڈالنے والے حفیظ کی بجائے اپنے رشتہ دار یوسف رضا گیلانی کو کامیاب کروانے میں زیادہ دلچسپی لیں گے۔
سیاسی تجزیہ کار متفق ہین کہ 3 مارچ کو ہونے جا رہے سینیٹ انتخابات کے معرکے میں اصل مقابلہ اسلام آباد کی نشست پر ہوگا جو موجودہ ملکی سیاست کا رخ بھی متعین کرے گا۔ یوں تو اس سیٹ پر پی ڈی ایم کے مشترکہ امیدوار اور سابق وزیرا عظم سید یوسف رضا گیلانی کے مد مقابل حکومتی امیدوار مشیر خزانہ ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ ہیں لیکن جس طرح وزیر اعظم عمران خان اس سیٹ کو جیتنے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا چکے ہیں اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایک سابق وزیراعظم کا موجودہ وزیراعظم سے مقابلہ ہے یعنی اصل جوڑ گیلانی اور عمران میں پڑنے جا رہا ہے اور حکومتی امیدوار کی شکست پوری حکومت کی شکست کا مطلب کا تائثر ابھارنے گے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ یوسف رضا گیلانی کو اسلام آباد سے سینٹ کی سیٹ پر الیکشن لڑوانے کا مقصد انہیں مستقبل میں سینٹ کا چیئرمین بنوانا ہے۔
تاہم دوسری جانب حکومت کی طرف سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ماضی میں عمران خان کی اے ٹی ایم اور چیف فنانسر کہلانے والے جہانگیر خان ترین حفیظ شیخ کو جتوانے کے لئے میدان میں اتر چکے ہیں۔ لیکن ترین کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ گیلانی کے مقابلے میں امپورٹڈ امیدوار عبد الحفیظ شیخ کی حمایت کرنا شاید جہانگیر ترین کے لئے اتنا آسان نہ ہوگا۔ بعض تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ سید یوسف رضا گیلانی کی رشتہ داریاں پنجاب سے سندھ تک پھیلی ہوئی ہیں جو ہمیشہ سیاست میں ان کے کام آتی ہیں۔ دوسری طرف جہانگیر ترین کے ساتھ گیلانی کی رشتہ داری اگر سینٹ انتخابات کے حوالے سے متحرک ہو گئی تو ان کی جیت کے امکانات روشن ہو جائیں گے۔ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ انتخابی مہم ہو، حکومت سازی کا مرحلہ ہو یا چیئرمین سینیٹ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک، حکمران جماعت تحریک انصاف کو سیاسی بھنور سے نکالنے کے لیے ہمیشہ جہانگیر ترین کی ہی کشتی میسر آئی ہے۔ اسی لئے ترین کو تحریک انصاف سے سے نکالے جانے کے باوجود عمران خان کے امپورٹڈ امیدوار کو جتوانے کے لیے ان کی مدد مانگی گئی ہے۔
یاد رہے کہ 2013 کے عام انتخابات میں پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم ہو، خیبر پختونخوا میں حکومت سازی کے لیے جوڑ توڑ ہو یا 126 دن کا طویل دھرنا ہو، جہانگیر خان ترین تحریک انصاف کے لیے ہراول دستے کا کردار ادا کرتے ہوئے نظر آئے اور تحریک انصاف کے حلقوں میں انہیں کنگ میکر کہا جانے لگا۔ یہ سلسلہ یہاں نہیں رکا بلکہ 2018 کے عام انتخابات سے قبل الیکٹ ایبلز کو تحریک انصاف کی کشتی میں سوار کروانے سے لے کر انتخابات کے بعد پنجاب میں حکومت سازی کے لیے جوڑ توڑ تک جہانگیر ترین کا جہاز ہمہ وقت تیار رہتا۔بنی گالہ میں عمران خان تحریک انصاف کا روایتی مفلر پہنا کر آزاد منتخب ہونے والے ارکان کو پارٹی میں خیر مقدم کرتے نظر آئے اور یوں تحریک انصاف کے ’کنگ میکر‘ نے پنجاب میں بھی اقتدار کا ہمہ پی ٹی آئی کے سر سجا دیا۔ حکومت سازی کے بعد تحریک انصاف کو چیئرمین سینیٹ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کا سامنا کرنا پڑا تو جہانگیر ترین ایک بار پھر متحرک ہوئے اور وفاق میں اتحادیوں کو منانے کے بعد اپوزیشن کی عدم اعتماد کی تحریک کو ناکام بنانے کا سہرا بھی ان ہی کے سر سجا۔ اگرچہ عبد الحفیظ شیخ کی درخواست پر جہانگیر ترین ان کی مدد کے لئے کسی حد تک متحرک ہوئے ہیں لیکن کپتان نے خود ان کو کوئی ٹاسک نہیں سونپا۔ جہانگیر ترین اور تحریک انصاف کی حکومت میں چینی بحران کے نتیجے میں پیدا ہونے والی دوریوں کے بعد سینیٹ انتخابات پہلا موقعہ ہے جب بطور جماعت تحریک انصاف کو جہانگیر کی خدمات کے بغیر انتخابی میدان میں اترنا پڑ رہا ہے۔ تحریک انصاف کے کئی ارکان آج بھی اس بات کو تسلیم کرتے نظر آتے ہیں کہ عمران کو وزیراعظم بنانے میں جہانگیر ترین کا کلیدی کردار رہا ہے۔
دوسری طرف انتخابی سیاست میں تحریک انصاف کے ایک اور اہم رکن اسد عمر نے جہانگیر ترین کے بغیر سینیٹ انتخابات کے لیے انتخابی مہم کے حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جہانگیر ترین یقینی طور ایک اہم اور بااثر سیاست دان کی حیثیت رکھتے تھے اور پارٹی کے لیے ان کی خدمات نمایاں رہی ہیں۔ جہانگیر ترین کی انتخابی جوڑ توڑ کی سیاست کا تجربے کی کمی کے حوالے سے وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ پارٹی میں وسیع تجربہ رکھنے والے کئی ارکان موجود ہیں، اور سینیٹ انتخابات کے لیے جن لوگوں کو ٹاسک سونپا گیا ہے وہ یہ ذمہ داری نبھانے کی قابلیت بھی رکھتے ہیں۔
سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کے مطابق جب بھی تحریک انصاف کے لیے جوڑ توڑ کی سیاست کے مواقع آئے تو سب سے آگے جہانگیر ترین ہی ہوتے تھے، لیکن اب ان کی غیر موجودگی میں پہلی بار پی ٹی آئی انتخابی سیاست کے میدان میں اتر رہی ہے۔ ان کی غیر موجودگی کے باعث ہی عمران خان کو حفیظ شیخ کی انتخابی مہم خود چلانا پڑ رہی ہے، مشکلات کا سامناکرنے کے بعد عبد الحفیظ شیخ نے ذاتی حیثیت میں جہانگیر ترین سے مدد مانگی ہے اور جواب میں ترین نے انہیں ہر ممکن حمایت کا یقین بھی دلایا ہے تاہم گیلانی جیسے قد آور امیدوار کے مقابلے میں حفیظ شیخ جیسے بونے کے لئے ووٹ مانگنا جہانگیر ترین کے لئے آسان نہ ہوگا۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ جہانگیر ترین ہمیشہ ایم این ایز اور ایم پی ایز کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں اور جنوبی پنجاب کے ارکان کے ساتھ بھی ان کے مسلسل روابط موجود ہیں۔ اس لیے اگر ترین نے کپتان حکومت کی بجائے یوسف رضا گیلانی کا ساتھ دیا تو عمران کو حفیظ شیخ کی شکست کا صورت مین بھاری نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ دوسری جانب سینئر صحافی مجیب الرحمان شامی کے بقول پنجاب کے سینیٹ انتخابات میں جہانگیر ترین زیادہ اثر انداز نہیں ہوسکتے، گو ان کے تعلقات کافی زیادہ ہیں لیکن پنجاب سے سینیٹ کی ایک نشست کے لیے 45 ارکان کی ضرورت ہے تو اتنی بڑی تعداد میں ارکان کو توڑنا مشکل کام ہے۔ البتہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں شاید وہ کوئی کردار ادا کر سکتے تھے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر جہانگیر ترین کا قومی اسمبلی میں اثر رسوخ نہ ہوتا تو وزیراعظم عمران خان کبھی بھی حفیظ شیخ کو ترین کی مدد مانگنے کی اجازت نہ دیتے جس سے کہ ان کی اپنی پوزیشن پر بھی حرف آتا ہے۔ یاد رہے کہ اسلام آباد سے سینٹ کی سیٹ پر حکومتی امیدوار کو جتوانے کی اسلیے بھی بھر پور کوشش کی جا رہی ہے کہ یوسف رضا گیلانی کے سینیٹر منتخب ہونے کی صورت میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی سیٹ بھی خطرے میں پڑ جائے گی۔
