جی ایچ کیو میں کس معاملے پر اشتعال پھیل رہا ہے؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی نے دعویٰ کیا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور جی ایچ کیو میں اُنکے ساتھی مشتعل ہیں کہ وزیر اعظم نے آئی ایس پی آر کے اعلان کا ”احترام“ نہیں کیا اور وہ ”کسی بھی صورت حال“ کے لئے تیار ہیں۔ دوسری طرف وزیر اعظم بھی اپنے مورچے میں قدم جمائے ہوئے ہیں اور ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ وہ کوئی موم کی ناک نہیں۔ چنانچہ اس ٹکراؤ سے ہائبرڈ بندوبست کے خاتمے کا اشارہ مل رہا ہے۔
نجم سیٹھی فرائیڈے ٹائمز کے اپنے تازہ ایڈیٹوریل میں کہتے ہیں کہ کپتان حکومت کی صفوں میں اہم قومی امور پر فیصلہ سازی بارے جس طرح کا ابہام پایا جاتا ہے اسکا اندازہ نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کے معاملے سے بخوبی ہو جاتا ہے۔ آئی ایس پی آر نے 6 اکتوبر کو اعلان کیا تھا کہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کو ڈی جی آئی ایس آئی نامزد کیا گیا ہے، اور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید پشاور میں گیارھویں کور کے نئے کمانڈر ہوں گے۔ تاہم، ان دونوں میں سے کسی نے ابھی تک اپنا عہدہ نہیں سنبھالا کیوں کہ وزیر اعظم عمران خان نے لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم سے انٹرویو کرنے کے بعد ابھی تک انکے نوٹی فکیشن پر دستخط نہیں کیے ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اہم قومی امور پر حکومت کی صفوں میں کس قدر ابہام اور غیر یقینی پن پایا جاتا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کے ایشو کی وجہ سے تحریک انصاف کی حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ایک صفحے پر ہونے کا بیانیہ بھی اب بے نقاب ہو گیا ہے۔ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ آرمی چیف، جنرل قمر جاوید باجوہ اور جی ایچ کیو میں اُن کے ساتھی مشتعل ہیں کہ وزیر اعظم نے آئی ایس پی آر کے اعلان کا ”احترام“ نہیں کیا اور وہ ”کسی بھی صورت حال“ کے لئے تیار ہیں۔ دوسری طرف وزیر اعظم بھی اپنے مورچے میں قدم جمائے ہوئے ہیں۔ وہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ وہ کوئی موم کی ناک نہیں۔ اس ٹکراؤ سے ہائبرڈ بندوبست کے خاتمے کا اشارہ ملتا ہے۔ لیکن یہ بات واضح نہیں کہ یہ نظام کس طرح اور کب منہدم ہوگا کیوں کہ اُن کے سامنے بھی میز پر زیادہ آپشن نہیں ہیں۔
نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ ممکن ہے کہ عمران خان آئی ایس پی آر کے اعلان کے مطابق نوٹی فکیشن پر دستخط کر کے خود کو بچا لیں لیکن سچ یہ ہے کہ باہمی اعتماد کے آئینے میں بال آ چکا۔ گاہے گاہے کچھ پریشان کن اختلافات نمودار ہوتے رہیں گے یہاں تک کہ ایک دن ضبط کا بندھن ٹوٹ جائے گا۔ اس کے بعد ایک مرتبہ پھر ہم دستیاب آپشن پر بات کر رہے ہوں گے۔ نجم کے مطابق سوال یہنیے کہ اگر عمران خان اسٹیبلشمنٹ کو اس کے اصل مقام پر لانے کا فیصلہ کر لیتے ہیں تو کیا وہ وزیرا عظم کو ایسا کرنے کے لئے فری ہینڈ دے گی جیسا جہانگیر کرامت نے کیا تھا یا اس کی طرف سے سخت ردعمل آئے گا اور وہ ہر چیز الٹ کر رکھ دے گی جیسا کہ پرویز مشرف نے کیا تھا؟ سوال یہ بھی ہے کہ کیا جب اسٹیبلشمنٹ ناراض اراکین پارلیمنٹ کو اشارہ کرتی ہے تو عمران خان پارلیمینٹ میں مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے سیاسی شہید بنتے ہیں یا وہ خود ہی تازہ انتخابات کی طرف بڑھ جاتے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کے بغیر پاکستان مسلم لیگ ن کے ہاتھوں سیاسی طور پر نیست و نابود ہونے کا خطرہ مول لیتے ہیں؟
نجم کا کہنا ہے کہ ہائبرڈ بندوبست کے دوران پاکستان کو اندرونی تنازعات کی وجہ سے بہت سے گھاؤ لگے ہیں۔ ان کی نوعیت ہر گزرتے دن کے ساتھ سنگین سے سنگین تر ہوتی جا رہی ہے۔ پاکستان کو عالمی تنہائی کا سامنا ہے۔ ملک معاشی مشکلات سے نکالنے والے کسی دوست سے محروم ہے۔ خطرہ بڑھتا جا رہا ہے کہ افغانستان میں مسلسل عدم استحکام پاکستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ قومی سلامتی کی پالیسیوں اور عوامی وسائل پر اشرافیہ کے پلنے کے رجحان میں انقلابی تبدیلی لائے بغیر مستقبل تاریک دکھائی دیتا ہے۔
نجم سیٹھی کے مطابق عظیم ملٹری مورخ، لڈل ہارٹ سے منسوب ایک مشہور بیان ہے کہ فوج کو کوئی نیا تصور سکھانے سے مشکل صرف ایک چیز ہے، اور وہ پرانے راسخ شدہ تصور کو ترک کرنے پر راضی کرنا ہے۔ پرانا تصور یہ ہے کہ پاکستان فوج کا ہے۔ نیا تصور یہ ہے کہ فوج پاکستان کی ہے۔ پاکستان میں آنے والے سیاسی ارتقا کے دوران فوج کے ”چنتخب شدہ“ ہر لیڈر کو اس مشکل کا احساس ہوا لیکن اس سے پہلے کہ وہ اس کی تلافی کرتے ہوئے توازن پیدا کرتا، اُس کی مدت تمام ہو گئی۔ آخری سیاست دان جس نے توازن قائم کرنے کے لئے سر اٹھایا، وہ نواز شریف تھے۔ بے پناہ عوامی حمایت کے باوجود وہ ابھی تک میدان میں داخل نہیں ہو سکتے۔ اب عمران خان کے تیور بھی بدل رہے ہیں۔ لیکن چنتخب شدہ سیاست دانوں اور عوامی مینڈیٹ رکھنے والی جماعتوں کے سولین بالادستی کے تصورات کے برعکس عمران خان کے محرکات اور داؤ پیچ انتہائی مشکوک ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک ابہام کے گرداب میں ہے۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہی کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا۔
نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ یہ بے چینی سے لبریز مشکل موسم سرما ہوگا۔ پاکستان کے ساختی ڈھانچے میں کوئی چیز مر رہی ہے۔ لیکن ہم نہیں جانتے کہ اس کی جگہ کون سی چیز جنم لے رہی ہے۔ دکھائی دینے والے شواہد خوش آئند نہیں۔ چیختی ہوئی شہ سرخیاں بہت کچھ کہہ رہی ہیں۔ آگے آگے دیکھئے اب ہوتا ہے کیا۔

Back to top button