جی ایچ کیو کا گیٹ نمبر 4 ہمیشہ کیلئے بند کیوں کر دینا چاہیے

نامزد آرمی چیف جنرل عاصم منیر کیلئے سب سے بڑا چیلنج فوج کی کھوئی ساکھ بحال کرنا ہوگا اور اس کیلئے انہیں سیاست دانوں کیلئے بدنام زمانہ جی ایچ کیو کا گیٹ نمبر چار بند کرنا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سینئر صحافی اور تجزیہ کار انصار عباسی نے کہا کہ اپنے ادارے کو سیاست یا سیاسی جوڑ توڑ سے دور رکھنا وہ قدم ہے جسکی ملک کو اشد ضرورت ہے کیونکہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی ماضی کی تمام بالواسطہ یا بلاواسطہ مداخلتیں ناکام رہی ہیں اور ان کی وجہ سے پاکستان کی صورتحال بد سے بد تر ہو چکی ہے۔
انصار عباسی کہتے ہیں کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کا آخری سیاسی پروجیکٹ عمران خان پروجیکٹ تھا جس کے تحت موصوف کو ایک ہائبرڈ حکومت کا سربراہ بنایا گیا تھا، لیکن وہ بھی اس بری طرح ناکام ہوا کہ جس کی ماضی میں نظیر نہیں ملتی۔ ان ناکامیوں سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت تھی لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا۔ ماضی میں چال چلتے ہوئے پسپائی اختیار کی گئی لیکن ملک میں ایسا کوئی پائیدار فیصلہ کبھی نہیں ہوا کہ جس سے فوج کا ادارہ سیاست سے دُور رہ سکے۔ انصار عباسی کہتے ہیں کہ اپنے آخری الوداعی خطاب میں سبکدوش ہونے والے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے غلطیوں کا اعتراف کیا۔ اُن کے زیر سایہ یہ فوجی اسٹیبشمنٹ کا 2018ء کا سیاسی جوڑ توڑ ہی تھا جس کی وجہ سے عمران خان اقتدار میں آئے لیکن یہ معاملہ کچھ اس طرح سے ختم ہوا کہ اسٹیبلشمنٹ کے خود کیلئے ایک بھیانک خواب بن کر سامنے آیا۔ تاہم، جنرل باجوہ مثبت اقدام کے ساتھ اپنا کیریئر ختم کر رہے ہیں۔ انہوں نے خود اعلان کیا کہ فوج نے گزشتہ سال فروری میں فیصلہ کیا تھا کہ وہ سیاست میں مداخلت، سیاسی جماعتوں کو بنانے یا توڑنے اور سویلین حکومتوں کے خاتمے کی ماضی کی روش ختم کرے گی تاکہ اپنی ساکھ بحال کر سکے۔ حالیہ مہینوں کے دوران عمران خان اور ان کی تحریک انصاف کی جانب سے موجودہ حکومت ختم کرنے اور جلد الیکشن کرانے کیلئے دباؤ ڈالنے کے باوجود جنرل باجوہ کے تحت فوجی اسٹیبلشمنٹ نے کئی بار اصرار کیا کہ ادارہ غیر سیاسی ہو چکا ہے اور کسی صورت ماضی کی غلطی کو نہیں دہرائے گا۔ اب حالات کا انحصار جنرل عاصم منیر پر ہے جو 29؍ نومبر کو ادارے کی کمان سنبھالیں گے۔
انصار عباسی کہتے ہیں کہ بحیثیت آرمی چیف ان کے عہدے کی مدت تین سال ہے اور اس طرح ان کے پاس زبردست موقع ہے کہ وہ ادارے کے اُس فیصلے پر سختی سے عمل کرائیں جو اس نے خود حال ہی میں کیا ہے۔ ادارے کی ساکھ کو بحال کرنا، جو ملک کی سلامتی اور دفاع کیلئے ضروری ہے، اور اسے غیر ضروری تنازعات سے بچانا انتہائی اہم ہے۔ تاہم، یہ صرف اسی صورت ممکن ہوگا جب ادارے کو سیاست سے دور رکھا جائے۔ عموماً یہ کہا جاتا ہے کہ آرمی چیف کی تبدیلی سے فوج کی سمت بھی تبدیل ہو جاتی ہے۔ اس سے معاملات سیاست زدہ ہوتے ہیں اور پورے سسٹم کو خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔
دہائیوں پرانی خرابیوں کو دور کرنے کیلئے یقیناً کوئی جادو کی چھڑی نہیں ہوگی لیکن آرمی چیف کا کردار بہت اہم ہے اور وہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی سوچ یا مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ آئین کی حکمرانی ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے اور یہ اس بات کا متقاضی ہے کہ تمام ادارے بشمول فوج خود کو اپنے اپنے دائرے تک محدود رکھیں۔ انکا کہنا ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ ہمیشہ سے ہی طاقتور رہی ہے کیونکہ اس کے پاس فوج کے ادارے کی طاقت ہے۔ ماضی میں اس طاقت کی وجہ سے آرمی چیفس ڈگمگا گئے جس سے فوج نے بالواسطہ یا بلا واسطہ مداخلت کی اور ہر ایک کا انجام ناکامی کی صورت میں سامنے آیا اور آج اسی وجہ سے پاکستان کو کئی سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔
انصار عباسی کا کہنا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج اور آئی ایس آئی وطن عزیز کے دفاع اور سلامتی کیلئے بیحد اہم ہیں لیکن یہ دونوں سویلین حکومتوں کے ماتحت ادارے ہیں اور انہیں ایسا ہی رہنا چاہئے۔ تاہم، ماتحت رہنے کا مقصد یہ نہیں کہ کوئی غیر قانونی سمت اختیار کی جائے۔ موجودہ حکومت یا فوجی اسٹیبلشمنٹ کی ایما پر سیاسی جوڑ توڑ کرنا دونوں، نہ صرف سسٹم، ادارے اور آئینی بالادستی کیلئے نقصان دہ ہیں بلکہ ملک کیلئے بھی نقصان دہ ہیں۔ اب وقت آ چکا ہے کہ ماضی کی غلطیاں دوبارہ نہ دہرائی جائیں۔
